رسائی کے لنکس

logo-print

سڈنی کیفے میں یرغمالی کی موت پولیس کی گولی سے ہوئی: رپورٹ


15 دسمبر کی صبح سڈنی کے ایک کیفے میں ہارون مونس نامی شخص نے 34 سالہ مینیجر ٹوری جانسن کو گولی مارنے کے بعد یہاں 17 گھنٹوں تک لوگوں کو یرغمال بنائے رکھا۔

آسٹریلیا میں گزشتہ ماہ سڈنی کے ایک ریستوران میں ایک شخص کی طرف سے لوگوں کو یرغمال بنائے جانے کے واقعے کی ابتدائی تحقیقات جمعرات کو جاری کی گئیں جن کے مطابق یرغمالیوں میں سے ایک خاتون پولیس کی گولی لگنے سے ہلاک ہوئی تھیں۔

نیو ساوتھ ویلز معاون وکیل جیرمے گورملے کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والی 38 سالہ خاتون وکیل کترینا ڈاوسن کو پولیس کی گولی یا گولیوں کے چھ ٹکڑے لگے جن میں سے ایک سے ان کی شریان کو شدید نقصان پہنچا۔

"وہ فوری طور پر بے ہوش ہوگئیں اور پھر جلد ہی موت کے منہ میں چلی گئیں۔"

15 دسمبر کی صبح سڈنی کے ایک کیفے میں ہارون مونس نامی شخص نے 34 سالہ مینیجر ٹوری جانسن کو گولی مارنے کے بعد یہاں 17 گھنٹوں تک لوگوں کو یرغمال بنائے رکھا۔

گورملے نے بتایا کہ پولیس کے ایک ماہر نشانہ باز نے دیکھا کہ ٹوری کو حملہ آور نے گھٹنوں کے بل بیٹھنے کا حکم دیا اور پھر بغیر کسی انتباہ کے اس کے سر کے پچھلی جانب سے گولی مار دی۔

گورملے کے مطابق 50 سالہ ہارون مونس نے اس پورے واقعے میں 22 گولیاں فائر کیں اور اس کی موت پولیس کی طرف سے چلائی گئی گولیوں سے ہوئی جو اس کے سر اور جسم پر لگیں۔

اس تحقیقات کے علاوہ حکومت نے بھی ایک تفتیش شروع کر رکھی ہے جس میں یہ پتا چلایا جا رہا ہے کہ مونس کو اسلحے تک رسائی کیسے ملی اور اپنی سابقہ بیوی کو قتل کرنے کے مقدمے میں اس کی ضمانت کیسے ہوئی۔ اس پر جنسی تشدد کے 40 سے زائد الزامات بھی عائد کیے جا چکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG