رسائی کے لنکس

logo-print

ٹیکنالوجی اور سماجی میڈیا کی رسیا پود کو حامی بنایا جائے: اسپیکر


چند ہی روز قبل ہارورڈ یونیورسٹی کی جانب سے کرائے گئے رائے عامہ کے ایک جائزے میں کہا گیا تھا کہ ’ملینئل‘ووٹروں نے (وہ نسل جو سنہ 1982 اور 2004ء کے درمیان پیدا ہوئی) ریپبلیکن پارٹی کے سرکردہ صدارتی امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ اور اُن کی پالیسیوں کو یکسر مسترد کردیا ہے

کیا ٹیکنالوجی اور سماجی میڈیا کے زیر ِاثر پود ریپبلیکنز کی حمایت کرے گی؟

یہ ہے وہ سوال جس کا جواب ایوانِ نمائندگان کے اسپیکر پال رائن نے دینے کی کوشش کی، جو بدھ کے روز جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے متعدد طالب علموں نے اُن سے کیا، جس سے چند ہی روز قبل ہارورڈ یونیورسٹی کی جانب سے کرائے گئے رائے عامہ کے ایک جائزے میں کہا گیا تھا کہ ’ملینئل‘ووٹروں نے (وہ نسل جو سنہ 1982 اور 2004ء کے درمیان پیدا ہوئی) ریپبلیکن پارٹی کے سرکردہ صدارتی امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ اور اُن کی پالیسیوں کو یکسر مسترد کردیا ہے۔

رائن کا طالب علموں سے سوال تھا: ’’ریپبلیکنز کی حمایت کیوں؟‘‘، جسے بالمشافیٰ، آن لائن اور ہیش ٹیگ ’رائن ایٹ جی یو‘ معلوم کیا گیا۔ ایک طالب علم نے کہا کہ ریپبلیکنز کی صدارتی پرائمری کے دور میں کوئی چیز نہیں بھائی۔

رائن نے پھر سوال کیا، ’’خیالات پر نظر دوڑائیں، ایجنڈا کو دیکھیں‘‘۔

اِس سال موسمِ گرما کے دوران، رائن ریپبلیکن نیشنل کنوینشن کے سربراہ کے فرائض انجام دیں گے۔ اُنھوں نے کہا کہ اُنھیں محتاط ہونا پڑے گا کہ وہ کسی خاص امیدوار کے لیے پسندیدگی کا اظہار نہ کریں۔ تاہم ،اُنھوں نےٹرمپ کے کچھ بیانات کا ذکر کیا، اور کہا کہ ’’ریپبلیکنز ہمیشہ شخصیات کے چناؤ میں مار کھا جاتے ہیں۔۔ ہمیشہ ایسا ہی ہوتا ہے۔ ہم نے یہ سبق تکلیف دہ تجربات کے بعد سیکھا ہے۔ لیکن، خیالات کے میدان میں جیت ہمیشہ ہماری ہی ہوتی ہے‘‘۔

قومی قرضہ جات، صحت کی دیکھ بھال اور ماحول کے موضوع پر ہونے والے ایک گھنٹے کے ٹاؤن ہال اجلاس میں، جس میں دھیان زیادہ تر امیگریشن اور نسلی عدم یگانگت پر مرتکز رہا، جن امور کے بارے میں روایتی طور پر ریپبلیکنز نوجوان ووٹروں کی حمایت کے حصول میں پیچھے رہے ہیں۔

رائن نےرائن نے طالب علموں کو بتایا کہ وہ ’ملینئل ووٹرز‘ کو تسلیم کرتے ہیں، اور چاہیں گے کہ سیاست داں اُن کے معاملات کو درکار اہمیت دیں گے۔ بقول اُن کے ’’آپ چاہتے ہیں کہ دلائل کی بنیاد پر بات کی جائے، نہ کہ اپنے طور پر ہی آپ کسی کو اپنا سمجھ لیں‘‘۔

طالب علموں نے رائن کے اِس بیان پر کھل کر تالیاں بجائیں جس میں اُنھوں نے کہا کہ جنوبی کیرولینا کی گورنر نِکی ہیلی نے ریاست کے دارالحکومت کے صدر دفتر سے وفاقی پرچم اتارنے کا اچھا کام کیا۔

رائن نے کہا کہ ’’یہ تعصب کی علامت تھا۔ میرے خیال میں یہ ملک کو متحد کرنے کا موجب ہونے کی جگہ، ملک کو منقسم کرنے کی علامت تھا‘‘۔

اس سے قبل، رائن نے اپنے ابتدائی کلمات میں کہا کہ ’’جو امریکہ آپ چاہتے ہیں وہی ہم بھی چاہتے ہیں۔۔۔ جو سب کے لیے ہو، متنوع ہو، متحرک ہو‘‘۔

تاہم، اُن کا کہنا تھا کہ کانگریس سے امیگریشن إصلاحات منظور کرانے کے موقع کو ’’گنوا دیا گیا‘‘، چونکہ صدارتی حکم نامہ جاری کرکے صدر نے ’’ماحول زہریلہ کر دیا تھا‘‘۔

رائن کے بقول، ’’یہ علم شماریات آبادی سے متعلق معاملہ نہیں ہے۔ یہ لاطینی آبادی تک محدود نہیں۔ اس کا تعلق قانون کی حکمرانی سے ہے۔ یہ اس ملک کا معاملہ ہے کہ یہاں کون آتا اور جاتا ہے، اور اِن قوانین کو درست رکھنا ہوگا، تاکہ بہتر کام ہو‘‘۔

XS
SM
MD
LG