رسائی کے لنکس

logo-print

پولیو کے خلاف مشکل اور چیلنجز سے بھرپور طویل جنگ


پاکستان میں گزشتہ 25 برس سے پولیو کے خاتمے کے لیے انسدادِ پولیو پروگرام جاری ہے۔ لیکن سر توڑ کوشش کے باوجود بچوں کو اپاہج کرنے والی اس بیماری کا ملک سے مکمل خاتمہ نہیں ہو سکا ہے۔

پاکستان ميں 2015 ميں پولیو کے 54 کیسز، 2016 ميں 20، 2017 ميں 8 اور 2018 ميں 12 کيسز سامنے آئے تھے۔ لیکن رواں سال یعنی 2019 میں اب تک 45 کیسز کا اندراج ہو چکا ہے اور بدقسمتی سے ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید پولیو کیسز سامنے آ رہے ہیں۔

حکومتی سطح پر پوليو کے خاتمے کے لیے باضابطہ مہم کا آغاز 1994 ميں اُس وقت کی وزيرِ اعظم بینظير بھٹو نے اپنی بيٹی آصفہ بھٹو زرداری کو پولیو سے بچاؤ کی ویکسین پلا کر کیا تھا۔

ايک محتاط اندازے کے مطابق 25 سال قبل ملک بھر ميں پوليو کيسز کی تعداد تقریباً 22 ہزار تھی۔

پاکستان کے علاوہ افغانستان اور نائیجيريا وہ ممالک ہيں جہاں اب بھی پوليو وائرس پايا جاتا ہے۔ لیکن پچھلے 22 ماہ سے نائیجيريا ميں پولیو کا کوئی نيا کیس سامنے نہیں آیا ہے۔

انسدادِ پولیو مہم کے خلاف پروپیگنڈا

انسدادِ پولیو مہم سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ پاکستان میں اس مہم کے حوالے سے ہونے والے منفی پراپیگنڈے نے اُن کے کام کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔

پشاور کے نواحی علاقے ماشوخيل ميں 22 اپريل کو منظم پروپیگنڈا کر کے انسدادِ پولیو مہم کے خلاف افواہ پھیلائی گئی کہ پولیو سے بچاؤ کے قطرے پينے سے بچوں کی طبعیت خراب ہو گئی ہے۔ اس افواہ کے بعد والدین اپنے بچوں کو لے کر اسپتال پہنچنا شروع ہو گئے تھے۔

گو کہ بعد میں محکمۂ صحت کے اہل کاروں نے کہا تھا کہ يہ اطلاع بے بنیاد تھی ليکن خيبر پختونخوا سمیت ملک بھر ميں جاری انسدادِ پوليو مہم کو اس افواہ کی وجہ سے زبردست دھچکا لگا تھا۔ يہی وجہ ہے کہ اپريل کے بعد سے اب تک پشاور ميں پوليو ويکسين مہم کی بجائے آگاہی مہم چلائی جا رہی ہے۔

اس بارے میں پشاور ميں کميونٹی ہيلتھ ورکر مسز احسن کہتی ہیں کہ اپريل میں جھوٹی افواہ کی بنیاد پر کیے جانے والے پروپیگنڈے نے انسدادِ پولیو مہم کا رخ ہی تبدیل کر دیا ہے۔ وہ والدين جو پہلے سوال نہیں کرتے تھے، اب وہ بھی شکوک و شبہات میں مبتلا ہو گئے ہیں۔

پولیو کے خلاف مشکل اور چیلنجز سے بھرپور طویل جنگ
please wait

No media source currently available

0:00 0:01:46 0:00

مسز احسن نے مزيد بتايا کہ آگاہی مہم کے دوران والدین باقاعدہ بدتميزی بھی کرتے ہیں اور نامناسب جملے کستے ہیں۔

واضح رہے کہ 2013 سے 2018 کے دوران ملک بھر میں مؤثر انداز میں انسدادِ پولیو مہم چلائی گئی تھی جس کی وجہ سے نئے پولیو کیسز کی تعداد میں نمایاں کمی آئی تھی۔

انسدادِ پوليو پروگرام کی 2013 سے 2018 تک فوکل پرسن رہنے والی سينيٹر عائشہ رضا فاروق نے وائس آف امريکہ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں بھی بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ لیکن تمام صوبائی حکومتوں کے تعاون سے ملک بھر ميں پوليو کيسز کی تعداد جو سال 2014 ميں 306 تھی کم ہو کر دسمبر 2018 ميں 12 رہ گئی تھی۔

سينيٹر عائشہ کہتی ہیں کہ انہوں نے شخصيات کی بنياد پر نہیں، بلکہ سائنسی بنياد پر انسدادِ پوليو پروگرام کو چلایا تھا اور ملک بھر میں ايمرجنسی سينٹرز قائم کیے تھے اور کميونيکيشن بہتر بنائی تھی۔

ان کے بقول بدقسمتی سے جو نظام بنایا گیا تھا اس ميں کافی رد و بدل کیا گیا ہے اور اس کا نتیجہ پولیو کیسز میں اضافے کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔

پوليو پروگرام ميں سياسی عمل دخل کے الزامات

ايک سينئر پوليو پروگرام ورکر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر وائس آف امريکہ کو بتايا کہ بدقسمتی سے جب بھی کبھی نظام ايک حکومت سے دوسری حکومت کو منتقل ہو رہا ہوتا ہے تو اس وقفے ميں پوليو کے کيسز ميں اضافہ ہو جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نئی حکومت کے آنے کے بعد ملک میں جاری پولیو پروگرام ميں کافی تبديلياں کی گئيں اور يہی وجہ ہے کہ دن بدن پوليو کيسز ميں اضافہ ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ سال کا دور پوليو پروگرام کا "غير سياسی" دور تھا اور اس عرصے ميں انسدادِ پولیو پروگرام میں کسی طرح کی سياسی مداخلت نہیں کی گئی۔

عائشہ رضا فاروق بھی اس بات سے متفق ہيں کہ انسدادِ پولیو کی مہم کے لیے چیلنجز بڑھے ہیں۔ ان کے بقول خيبر پختونخوا ميں حاليہ دنوں میں پوليو مہم کے دوران جعلی خبريں سامنے آنے اور اس کے نتیجے میں امنِ عامہ کی صورتِ حال خراب ہونے کی وجہ سے پوليو ورکرز کو گھر گھر مہم پر آمادہ کرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔

سينيٹر عائشہ کے بقول کہ بہتر ہو گا کہ اس صورتِ حال کے تناظر میں انسدادِ پولیو مہم کی بہت زیادہ تشہیر کے بجائے اسے خاموشی کے ساتھ آگے بڑھایا جائے۔

دسمبر 2012 سے اب تک خيبر پختونخوا اور ان سابق قبائلی اضلاع میں جو اب خيبر پختونخوا ميں ضم ہو چکے ہيں، کئی مرتبہ پولیو ویکسین پلانے والی ٹیموں پر حملے کیے گئے جس کے باعث مہم سے وابستہ بعض افراد کی جانیں بھی گئیں۔

پوليو وائرس پشتون علاقوں ميں ہی کيوں؟

انسدادِ پوليو پروگرام خيبر پختونخوا کے ٹيکنیکل فوکل پرسن ڈاکٹر امتياز علی شاہ کا کہنا ہے کہ پاکستان ميں آپ کو ہر اس علاقے میں پوليو وائرس ملے گا جہاں پشتون رہائش پذير ہیں۔

وائس آف امريکہ سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر امتياز نے بتايا کہ بدقسمتی سے ان علاقوں کے سیکورٹی کے حالات طويل عرصے سے خراب چلے آ رہے ہيں۔

ان کے خیال میں امريکہ کی اس خطے ميں مداخلت نے بھی لوگوں ميں کافی شکوک و شبہات کو جنم دیا ہے اور پوليو کے خلاف منظم مہم نہ چلنے سے وائرس بھی ختم نہیں ہو سکا ہے۔

ياد رہے کہ 2001 میں افغانستان پر امريکہ کے حملے کے بعد بڑی تعداد میں شدت پسندوں نے پاکستان کے قبائلی علاقے میں پناہ لی۔ ان علاقوں میں حکومتی عمل داری کمزور ہونے کے سبب پولیو مہم نہیں چل سکی۔

ڈاکٹر امتياز بتاتے ہیں کہ ملکی اور بين الاقوامی حالات کے پيش نظر لوگ انسدادِ پولیو پروگرام کو اپنی نظر سے ديکھتے ہيں اور بد قسمتی سے پاکستان ميں لوگ سازشی عناصر پر بھی زيادہ يقين کرتے ہيں۔

اعتماد کیسے بحال ہو؟

ڈاکٹر امتياز کے بقول حکومت لوگوں کے خدشات ٹيلی ویژن، ريڈيو، اخبارات اور ڈاکٹرز کے ذریعے اور جگہ جگہ اشتہارات لگا کر دور کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور کافی حد تک اس ميں کامياب بھی ہوئی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ حکومت نے علمائے کرام، علاقے کے با اثر افراد اور سياسی رہنماؤں کی خدمات بھی حاصل کی ہيں تاکہ وہ لوگوں کو يہ باور کرا سکيں کہ پوليو ويکسين ميں کوئی مضرِ صحت عنصر نہیں ہے اور يہ عوام کے فائدے کے لیے ہے۔

ڈاکٹر امتياز علی شاہ کہتے ہیں کہ ان تمام کوششوں کے باوجود صوبہ خيبر پختونخوا ميں حکام کے مسائل بڑھ رہے ہيں۔ جيسے ہی پرانے مسائل حل ہوتے ہيں، عوام کے ذہنوں میں نت نئے شبہات جنم لے ليتے ہيں۔ لوگوں کا اعتماد اس حد تک کم ہو گيا ہے کہ اب انہوں نے گھروں میں مارکر تک رکھ لیے ہيں جس سے وہ حکام کو اپنے بچوں کی انگلی پر نشان لگا کر مطمئن کر ديتے ہيں کہ وہ پوليو کے قطرے پی چکے ہيں۔

ڈاکٹر امتياز نے بتايا کہ 2017 ميں ملک بھر ميں پوليو کيسز کی تعداد صرف آٹھ تھی۔ پوليو وائرس کی موجودگی ميں بھی نماياں کمی ديکھنے میں آئی تھی۔ اس کے بعد حکومت نے جو انکاری گھرانے رہ گئے تھے ان پر سختی کی تاکہ ملک سے پوليو کا مکمل خاتمہ کيا جا سکے اور لوگوں کو جيل بھی بھيجا گيا۔

وہ کہتے ہیں کہ حکومتی اقدامات کا وقتی طور پر اثر تو مثبت رہا تاہم لوگوں کے ذہنوں ميں نئے شبہات جنم لينے لگے اور انہوں نے اپنے بچوں کہ انسدادِ پوليو کے مزید قطرے پلانے چھوڑ دیے اور قانونی کارروائی سے بچنے کے لیے گھر پر مارکر رکھ لیے۔

انہوں نے کہا کہ اس کا مستقبل ميں نقصان يہ ہوا کہ علاقے ميں پھر سے وائرس رونما ہوا اور نتيجہ اب 2019 ميں آپ کے سامنے ہے۔

کیا والدین کو منایا جا سکے گا؟

ڈاکٹر امتياز کہتے ہیں کہ 2014 کے بعد سے سیکورٹی خدشات پر تو کافی حد تک قابو پا ليا گيا ہے اور تمام علاقے حکومت کی پہنچ ميں ہيں۔ ليکن پشتون آبادی والے علاقوں ميں اب بھی پولیو ویکسین پلانے سے انکار کرنے والے افراد کی تعداد بڑھ رہی ہے۔

لیکن وہ پر اميد ہيں کہ اصل مسئلہ سیکورٹی کا تھا جس کے حل ہو جانے کے بعد انکاری گھرانوں کو ان کی ٹيميں بہت جلد اپنے بچوں کو پوليو سے بچاؤ کے قطرے پلانے پر آمادہ کر ليں گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG