رسائی کے لنکس

logo-print

پنجاب میں پولیو وائرس پھیلنے کا خطرہ


دیہی علاقوں میں گھر گھر جا رکر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کی مہم

سمن خان

صوبہ پنجاب کے شہر لاهور کے سیوریج کے پانی میں ایک بار پھر پولیو کا وائرس ملا ہے۔

ماحولیاتی نمونے مُثبت آنے پر محکمہ صحت اور دیگر متعلقہ ادارے ایک بار پھر سر جوڑ کر بیٹھ گئے ہیں۔ 11 جولائی کو آؤٹ فال روڈ سے لئے گئے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس پایا گیا ہے۔
لاهور شہر کے سیوریج کے ماحولیاتی نمونوں میں مسلسل دو ماہ تک پولیو وائرس کی موجودگی محکمہ صحت کے لئے چیلنج بن گیا ہے۔

جون اور جولائی 2018 میں لئے جانے والے سیوریج کے پانی کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے جس کے بعد ڈی جی محکمہ صحت نے متعلقہ حکام کا اجلاس طلب کیا۔

بچے کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جا رہے ہیں۔
بچے کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جا رہے ہیں۔

اجلاس میں شرکا نے فیصلہ کیا کہ 6 اگست سے شروع ہونے والی پولیو مہم میں نیشنل ایمرجینسی سینٹر سے لاهور کے تمام علاقے شامل کرنے کی سفارش کی جائے گی۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ متحرک آبادیوں میں رہنے والے بچوں کو حفاظتی ٹیکے خاص کر آئی پی وی کے ٹیکے کا کورس مکمل کروا یا جائے گا۔

متعلقہ افسران کے مطابق راول پنڈی کی منتخب یونین کونسلوں میں پولیو مہم ناکافی ہے اور مہم کا دائرہ کار پانچ تحصیلوں تک پھیلایا جائے تاکہ اس کے مثبت نتائج سامنے آ سکیں۔

پولیو وائر سے بچاؤ کے لیے محکمہ صحت منصوبہ کر رہا ہے۔
پولیو وائر سے بچاؤ کے لیے محکمہ صحت منصوبہ کر رہا ہے۔

رواں برس جولائی کے مہینے میں لاهور شہر میں پولیو وائرس مثبت آنے پر مُتاثرہ علاقے اور أطراف میں پولیو مُہم چلائی گئی تھی، جس میں ٹارگٹ کئے جانے والے نو لاکھ 25 ہزار 552 بچوں میں سے 8 لاکھ 72 ہزار 690 بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے گئے تھے۔ جب کہ 30 ہزار 295 بچے مختلف وجوہات کی بناء پر پولیو ٹیموں تک نہیں پہنچ سکے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG