رسائی کے لنکس

logo-print

طالبان سے کامیاب مذاکرات مزید پیچیدگیوں کا سبب ہوں گے: سیاسی ماہرین


مبصرین کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں تعطل وقتی ہے کیوں کہ بظاہر حکومت کے پاس مذاکرات کے علاوہ کوئی دوسرا ’پُر امن آپشن‘ موجود نہیں ہے۔ مذاکرات کی کامیابی کی صورت میں طے پانے والے معاہدے سے بلوچستان میں برسر ِعمل عسکری قوتوں کی حوصلہ افزائی ہوگی۔

چند سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ حکومت کے لئے طالبان سے مذاکرات دو دھاری تلوار بن گئے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ عارضی تعطل کے بعد اگر یہ مذاکرات کامیاب ہو بھی گئے تب بھی ان کے نتائج نئے پیچیدگیوں کا باعث ہوسکتے ہیں۔

پاکستان کے بعض سیاسی تجزیہ نگاروں اور مبصرین کی یہ رائے بلوچ ری پبلکن آرمی (بی آر اے) کی جانب سے اتوار کو جیکب آباد میں خوشحال خان خٹک ایکسپریس کو نشانہ بنائے جانے کی ذمے داری قبول کرنے کے ایک روز بعد سامنے آئی ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں تعطل وقتی ہے کیوں کہ بظاہر حکومت کے پاس مذاکرات کے علاوہ کوئی دوسرا ’پرامن آپشن‘ موجود نہیں۔ مذاکرات کی کامیابی کی صورت میں طے پانے والے معاہدے سے بلوچستان میں برسر ِعمل عسکری قوتوں کی حوصلہ افزائی ہوگی۔ انہیں یہ پیغام ملے گا کہ اگر انہوں نے بھی طالبان جیسی پالیسی اپنائی تو پھر حکومت ان سے بھی مذاکرات کے لئے مجبور ہو گی۔

سیاسی تجزیہ نگار جو اپنی شناخت ظاہرنہیں کرنا چاہتے، اپنی بات کی تائید میں بلوچ ری پبلکن آرمی کی ویب سائٹ پر خوشحال خان خٹک ایکسپریس کو نشانہ بنائے جائے کی ذمے داری سے متعلق بیان کا حوالہ دیتے ہیں جس میں کہا گیا ہے:

’خوشحال خان خٹک ایکسپریس سیکورٹی فورسز کی جانب سے ڈیرہ بگٹی اور کوہستان مری میں عسکری آپریشن کاردعمل ہے۔ اس آپریشن میں27 بے قصور بلوچ شہری ہلاک ہوئے تھے جن میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔ اگر فورسز نے اس طرح کے حملے بند نہ کئے تو ہماری طرف سے بھی بلوچستان سمیت پورے پاکستان میں ایسے حملے ہوسکتے ہیں‘۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ طالبان بھی دہشت گردی کی وارداتوں کو اپنے خلاف حملوں کا ’بدلہ‘ قرار دیتے رہے ہیں اور اب بی آر اے بھی یہی کہہ رہی ہے۔ یہ صورتحال نئے زاویئوں پر سوچ کا پہلو روشن کرتی ہیں چنانچہ اب طالبان سے مذاکرات کرتے ہوئے ارباب اختیار کو یہ زاویئے بھی مد ِنظر رکھنا ہوں گے۔
XS
SM
MD
LG