رسائی کے لنکس

logo-print

تعلیمی مسائل کا حل، سیاستدانوں کا بچوں سے وعدہ


متفقہ میثاق پر سندھ کی حکمراں جماعت، پیپلز پارٹی اور صوبے کی دوسری سیاسی جماعتوں نے دستخط کئے ہیں۔ تمام سیاسی جماعتیں اس بات کا عہد کرتی ہیں کہ بچوں کے اسکول میں 100 فیصد داخلے اور سیکھنے کے معیار کو بہتر بنایا جائے گا

سندھ کے تعلیمی مسائل کے حل اور سندھ کے اسکولوں میں طالبعلموں میں اضافے اور ہر بچے کو تعلیم کا حق دلوانے کیلئے، گزشتہ روز سندھ کی تمام سیاسی پارٹیوں کی قیادت نے صوبے میں تعلیمی ایمرجنسی کا تاریخی عہد کیا ہے۔

پاکستان میں تعلیم کیلئے سرگرم غیر سرکاری تنظیم 'الف اعلان' کے زیرِ اہتمام سندھ کی نو اہم سیاسی جماعتوں کی قیادت نے اپنی سیاسی جماعت کی اسکولوں کی حالت بہتر کرنے کی حکمتِ عملی پیش کرتے ہوئے، سندھ کے بچوں سے وعدہ پر دستخط کئے، جو کہ تمام سیاسی جماعتوں کا سندھ میں تعلیم کی سرپرستی کا میثاق ہے۔

سیاسی جماعتوں کے رہنماوٴں نے الف اعلان کی اس کاوش کو سراہتے ہوئے، اس بات کا عزم کیا کہ وہ سندھ میں تعلیم کی بہتری کے لئے، وزیرِ تعلیم کے شانہ بہ شانہ کھڑے ہوں گے۔

اس متفقہ میثاق پر حکمران جماعت پیپلز پارٹی اور صوبے کی دوسری سیاسی جماعتوں نے دستخط کئے ہیں۔ تمام سیاسی جماعتیں اس بات کا عہد کرتی ہیں کہ بچوں کے اسکول میں100 فیصد داخلے اور سیکھنے کے معیار کو بہتر بنایا جائے گا۔ اس معاہدے میں شامل مقاصد بہت حوصلہ افزا ہیں۔ لیکن، سیاسی جماعتوں کے عزم کا اُس وقت ہی صحیح اندازہ ہوگا جب تین مہینے کے بعد، یہ سب جماعتیں دوبارہ اکھٹی ہوں گی۔

الف اعلان کے سیاسی ترجمان، سلمان نوید نے ایک خصوصی گفتگو میں بتایا کہ ’پاکستان میں صوبائی سطح پر اگر تعلیم کا جائزہ لیا جائے، تو سندھ میں تعلیمی صورتحال سب سے ابتر ہے۔ جس کے لئے، اہم اقدامات کی ضرورت ہے۔‘

انھوں نے مزید بتایا کہ ان کی تنظیم چاروں صوبوں میں تعلیم کیلئے اہم اقدامات کررہی ہے مگر سیاستدانوں نے اس میثاق پر پہلی بار دستخط ہیں۔ الف اعلان کا مقصد سیاستدانوں کو اس سنگین مسئلے پر اکٹھا کرنا تھا۔ جب تک سیاستدان متحد نہیں ہوں گے، تعلیمی صورتحال بہتری کی جانب گامزن نہیں ہوسکتی'۔

انھوں نے مزید بتایا کہ "اگلے نئے تعلیمی سیشن کے آغاز پر سندھ میں انرولمنٹ مہم کا آغاز کیاجاءئگا جسمیں اس میثاق کا صحیح نتیجہ سامنے آئے گا پیپلزپارٹی سمیت تمام جماعتوں کے کارکن اس مہم کا حصہ بنیں گے۔"

تاریخی عہدنامے پر دستخط پر صوبائی وزیرِ تعلیم اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما نثار احمد کُھہڑو کا کہنا ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں کا اپنے سیاسی اختلافات اور نظریات پسِ پُشت ڈال کر تعلیم کے لئے اکٹھا ہونا بہت حوصلہ افزا بات ہے‘۔ بقول اُن کے، پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ سندھ کی تمام سیاسی جماعتوں نے اس مسئلے کے فوری حل کی ضرورت پر زور دیا ہے‘۔

اس میثاق پر پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان تحریکِ انصاف، پاکستان مسلم لیگ فنکشنل، پاکستان مسلم لیگ ن، جماعتِ اسلامی، جئے سندھ قومی محاذ، سندھ یونائٹیڈ پارٹی، عوامی جمہوری پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ نے دستخط کئے ہیں۔

یہ عہد ایک ایسے وقت ہوا ہے جب سندھ کی تعلیم کی خراب صورتحال خبروں کی زینت بن رہی ہے۔ سپریم کورٹ کے ایک حالیہ فیصلے کے مطابق، پاکستان کے ہر چار میں سے تین غیرفعال یا ’گھوسٹ اسکول‘ سندھ ہی میں ہیں اور صوبے کی تعلیمی صورتحال سے متعلق اعداد و شمارخراب ترین بتائے جاتے ہیں۔ زیادہ تر سرکاری اسکولوں کی عمارت دگرگوں اور تعلیمی معیار خراب ہے۔

الف اعلان کی پاکستان ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اعداد و شمار کے مطابق، طلبا کے سیکھنے کے حوالے سے بدترین اعداد و شمار سندھ کے اسکولوں کے سامنے آئے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق، دیہی سندھ کا کوئی بھی ضلع پہلے 75 اضلاع میں نہیں ہے، جبکہ شہری اضلاع میں بھی کراچی 56 نمبر پر ہے۔

حال ہی میں شائع ہونے والی سالانہ اثر رپورٹ کے مطابق، پڑھنے، سیکھنے اور ریاضی کے سوالات حل کرنے کے حوالے سے سندھ فاٹا سے بھی پیچھے ہے۔
XS
SM
MD
LG