رسائی کے لنکس

logo-print

احتساب یا سیاسی انتقام؟


مسلم لیگ نون کے رہنما رانا ثناءاللہ کی منشیات رکھنے کے الزام میں گرفتاری

پاکستان میں مسلم لیگ نون کے رکن قومی اسمبلی اور سینئر رہنما رانا ثناءاللہ کی منشیات رکھنے الزام میں گرفتاری، پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے انٹرویو کو نشر ہونے کے چند ہی منٹ بعد رکوا دینا، مسلم لیگ نون کے متعدد اراکین اسمبلی کا وفاداری بدلتے ہوئے وزیر اعظم سے ملاقات کرنا اور ایسے ہی کئی ایک دیگر واقعات سے پاکستان کے سیاسی حلقوں میں غیر یقینی کی صورت حال پیدا ہو گئی ہے اور بہت سے لوگ یہ سوال کرنے لگے ہیں کہ کیا پاکستان میں ایک بار پھر سیاسی انتقام کا کلچر ابھرنے لگا ہے؟

معروف سیاسی تجزیہ کار پروفیسر حسن عسکری نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اور قومی اداروں کے حالیہ اقدامات کو اپوزیشن کی طرف سے سیاسی انتقام قرار دینا فطری بات ہے۔ تاہم قومی احتساب بیورو اور انسداد منشیات کے ادارے خود مختار ادارے ہیں اور وہ اسی انداز میں کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ رانا ثناءاللہ کی گرفتاری جیسے معاملات کے سیاسی اثرات کا خمیازہ حکومت ہی کو بھگتنا پڑے گا۔

پروفیسر حسن عسکری نے کہا کہ ان دنوں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تناؤ بہت زیادہ ہے اور اس میں مسلسل شدت پیدا ہوتی جا رہی ہے۔ تاہم اس تناؤ کے نتیجے حکومت پر دباؤ بڑھ جاتا ہے کیونکہ کارکردگی حکومت ہی کو دکھانا ہوتی ہے جب کہ اپوزیشن حکومت کے لیے مشکلات کھڑی کرنے کی کوشش کرتی ہے۔

امریکہ کے معروف تھنک ٹینک ’’کاٹو انسٹی ٹیوٹ‘‘ سے وابستہ تجزیہ کار سحر خان نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں سیاستدان طویل عرصے سے جوابدہ نہیں رہے ہیں اور ان میں سے بیشتر سیاستدان کرپشن کے ذریعے ملک کی دولت لوٹتے رہے ہیں، جن سے ریاستی ادارے کمزور ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فی الحال عمران خان کے بارے میں یہ کہنا مشکل ہے کہ انہوں نے بھی کرپشن کی ہے کیونکہ انہیں برسراقتدار آئے ایک سال سے بھی کم عرصہ ہوا ہے۔

سحر خان کا کہنا تھا کہ یہ بات قطعی طور پر واضح ہے کہ حکومت یا اداروں کے حالیہ اقدامات کوئی سیاسی انتقام نہیں ہیں اور جن سیاست دانوں اور دیگر افراد نے غلط کام کیے ہیں انہیں ہر صورت جوابدہ بنانا ہو گا۔

سحر خان کا کہنا تھا کہ راناثناءاللہ نے بہت سے ایسے کام کیے ہیں جن کی قانون میں کوئی گنجائش موجود نہیں ہے اور یہ بات تعجب خیز ہے کہ ان کے خلاف واضح اور ٹھوس ثبوت ہونے کے باوجود اُنہیں منشیات رکھنے کے جرم میں گرفتار کیا گیا ہے۔

بوسٹن یونیورسٹی کے پروفیسر اور معروف تجزیہ کار ڈاکٹر عادل نجم نے وائس آف امریکہ کے ساتھ خصوصی بات چیت کے دوران کہا کہ ان کے خیال میں حکومت اور اداروں کے حالیہ واقعات سیاسی انتقام کے زمرے میں ہی آتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم نون کے سربراہ نواز شریف جیل میں ہیں اور ان کی جماعت کے بہت سے ارکان اپنی وفاداریاں بدلتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ ملاقات کر رہے ہیں۔ ان تمام واقعات سے یوں دکھائی دیتا ہے کہ پاکستان میں بہت سی قوتیں بے قابو ہو گئی ہیں جن میں حکومت کے ساتھ ساتھ ریاستی ادارے اور خود سیاست دان بھی شامل ہیں۔

عادل نجم کا کہنا تھا کہ پاکستان کی یہ صورت حال منفرد نہیں ہے اور امریکہ، یورپ، بھارت اور بہت سے دیگر ممالک میں بھی ایسی سیاسی صورت حال سامنے آئی ہے جس میں شخصیات پر مبنی سیاست کی جا رہی ہے۔

ان کے مطابق یہ نعروں اور دھمکیوں کی سیاست ہے جس میں مقتدر شخصیات اپنی طاقت کا بھرپور مظاہرہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ یوں بقول ان کے یہ ایک عالمی رجحان دکھائی دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ رانا ثناءاللہ مسلم لیگ نون کے جارح ترین سیاست دانوں میں شمار ہوتے ہیں اور ان کی جماعت کے اندر بھی بہت سے لوگ انہیں پسند نہیں کرتے۔ لہذا ان کی گرفتاری پر زیادہ رد عمل کا امکان کم ہی ہے۔

عادل نجم کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سیاست میں ابھرنے والے حالیہ محرکات سے اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں کی ساخت اور حیثیت کو تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور انہیں کمزور کیا جا رہا ہے تاکہ ملک میں ایک نیا سیاسی سسٹم تشکیل پائے۔

عادل نجم کے مطابق پاکستان میں بہت سے لوگ یہ سوچنے لگے ہیں کہ جن سیاسی جماعتوں کی طرف سے ملک مسائل کا شکار ہوا، ان کی اجارہ داری کو ختم کیا جانا چاہئیے۔ یوں بہت سے حلقے ان اقدامات کو ملک کے لیے خوش آئند قرار دے رہے ہیں۔

عادل نجم کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے معاشی ترقی کی قومی کونسل میں فوج کے نمائندوں کو شامل کر نے کا فیصلہ ایک لحاظ سے ان کی فتح ہے کیونکہ ملک کے معاشی معاملات میں فوج کو شریک کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر ملک میں معاشی استحکام پیدا نہیں ہو پاتا تو فوج کو بھی اس کا براہ راست ذمہ دار قرار دیا جائے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG