رسائی کے لنکس

logo-print

این آر او لینے کے لیے غیر ملکیوں کو سفارش کی گئی: عمران خان


فائل

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وہ پاکستان کے مفاد پر کسی قسم کا دباؤ قبول نہیں کریں گے۔

اے آر وائی کو انٹرویو دیتے ہوئے، انھوں نے تصدیق کی کہ وہ امریکہ کا دورہ کریں گے، جس دوران ان کا وفد مختصر ہوگا اور وہ کسی مہنگے ہوٹل میں نہیں ٹھہریں گے۔ انھوں نے کوئی تفصیل نہیں بتائی۔

ساتھ ہی وزیر اعظم نے کہا کہ تین جولائی کو آئی ایم ایف کے ساتھ ملاقات طے ہے، جس کے بعد، بقول ان کے، معیشت کے شعبے میں ’’جلد افراتفری ختم ہوگی‘‘۔

انھوں نے زور دے کر کہا کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ ڈالر کے ریٹ سے متعلق کوئی معاملہ طے نہیں ہوا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ’’معیشت درست سمت جا رہی ہے‘‘۔

ایک سوال کے جواب میں، عمران خان نے بتایا کہ ایک سیاست دان کے بیٹوں نے والد سے متعلق سفارش کی کوشش کی تھی۔ لیکن، انھوں نے واضح کیا کہ ’’این آر او کی سفارش نہیں چلے گی‘‘۔

انھوں نے کہا کہ سابق صدر پرویز مشرف نے ’’این آر او دے کر دونوں سیاسی جماعتوں کو بچایا تھا‘‘، جس کے بارے میں وزیر اعظم نے کہا کہ یہ پاکستان کے ساتھ خیر خواہی نہیں تھی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ’’ذوالفقار علی بھٹو کے علاوہ کوئی اصل لیڈر نہیں آیا، اور یہ کہ جس کے پاس عوامی مینڈیٹ نہیں ہوتا وہ مضبوط لیڈر نہیں ہوتا اور دباؤ میں آجاتا ہے‘‘۔

ایمنسٹی اسکیم سے متعلق سوال پر، عمران خان نے کہا کہ حکومت کے پاس بے نامی اثاثے رکھنے والوں کی مکمل فہرست موجود ہے، اور یہ کہ کینسر کا علاج عمل جراحی ہی ہے۔

ایک اور سوال پر، وزیر اعظم نے کہا کہ سلیکٹڈ کے لفظ کے استعمال پر انھیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔

براہ راست نشریات میں مشیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ اور فیڈرل بورڈ آف روینیو کے سربراہ، شبر زیدی نے بھی معیشت سے متعلق سوالوں کے جواب دیے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG