رسائی کے لنکس

logo-print

سیاستدان اپنی سیکورٹی کا انتظام خود کریں: سپریم کورٹ


فائل

پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے ملک کے ان سیاستدانوں کو اپنی سیکورٹی کا بندوبست خود سے کرنے کی ہدایت کی ہے جنہیں حکومت کی طرف سے سیکورٹی فراہم کی جا رہی ہے۔

سپریم کورٹ نے یہ حکم منگل کو سیاستدانوں اور بعض سرکاری افسروں کی طرف سے سرکاری گاڑیوں کے مبینہ غیر مجاز استعمال کے معاملے کی سماعت کے دوران دی۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس کی سربراہی میں قائم تین رکنی بینچ نے جمعیت العلمائے اسلام (ف) کے سربراہ فضل الرحمٰن، سیکرٹری جنرل عبدالغفور حیدری اور مسلم لیگ ن کے سینٹر کامران مائیکل کی سرکاری گاڑیاں کے مبینہ استعمال پر انہیں عدالت میں پیش ہونے کا کہا۔ تاہم، اس موقع پر مولانا فضل الرحمٰن کے وکیل کامران مرتضیٰ نے عدالت عظمیٰ کو بتایا کہ یہ گاڑیاں حکومت کو واپس کر دی گئی ہیں جس پر عدالت نے یہ حکم واپس لے لیا۔

کامران مرتضیٰ نے عدالت عظمیٰ کو آگاہ کیا کہ فضل الرحمٰن پر ماضی میں تین بار قاتلانہ حملے ہو چکے ہیں۔ تاہم، عدالت نے انہیں کہا کہ وہ اپنی سیکورٹی کا خود انتظام کریں، کیونکہ انہیں سرکار کی طرف سے سیکورٹی فراہم کرنے کی وجہ سے سرکار ی وسائل پر بوجھ پڑ رہا ہے ۔ عدالت عظمیٰ نے مزید کہا کہ سرکاری گاڑیوں پر کسی بھی سیاسی رہنما کو انتخابی مہم چلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

سلامتی کے امور کے تجزیہ کار اور پاکستان کے سابق سیکرٹری داخلہ تسنیم نورانی کا کہنا ہے کہ سیکورٹی اور پروٹوکول میں بہت تھوڑا فرق ہے، اور ان کے بقول، بعض سیاستدان اپنے وسائل سے اپنی سیکورٹی کا انتظام کر سکتے ہیں اور ان کے بقول عدالت عظمیٰنے منطقی طور پر درست فیصلہ کیا ہے۔

بدھ کو وائس آف امریکہ سےگفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا "میں سمجھتا ہوں کہ جو شخص سرکاری عہدے پر فائز ہے تو اسےسیکورٹی ملنی چاہیے اورعہدہ چھوڑنے کے چار چھ مہینے تک جب تک وہ اپنی سیکورٹی کا بندوبست نہیں کر لیتا اس وقت تک اسے سیکورٹی فراہم کی جا سکتی ہے۔۔۔ اور اگر کوئی ثابت کرتا ہے کہ اس کے وسائل نہیں ہے کہ اسے خطرہ ہے تو پھر ہر کو معاملہ الگ الگ دیکھا جاسکتا ہے۔ مگر جن کے پاس وسائل ہیں وہ صرف پروٹوکول کے لیے سیکورٹی لیتے ہیں ان کے اپنے سیکورٹی گارڈز بھی ہوتے ہیں اور وہ سیکورٹی کے لیے صرف پولیس کی سیکورٹی پر انحصار نہیں کرتے ہیں۔"

تاہم، سیاسی امور کے تجزیہ احمد بلال محبوب کا کہنا ہے کہ یہ تاثر درست نہیں ہے کہ سب سیاستدان اپنی سیکورٹی کا انتظام خود کر سکتے ہیں، ان کے بقول، کچھ شاید کر سکتے ہیں اور کچھ نہیں بھی کرسکتے ہیں۔

اُنھوں نے کہا ہے کہ"لحاظہ یہ توقع رکھنا کہ وہ اپنا انتظام خود کریں یہ بھی درست نہیں ہے ہر شہری کو یہ صرف سیاستدنوں کا معاملہ نہیں ہے کسی بھی شہری کی جان و مال کواگر خطرہ ہو تو یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کے لیے حفاظت کا انتظام کرے وہ سیاستدان ہے یا کوئی اور، جس جس کو خطرہ ہے اس کو صیح طور پر دیکھا جائے اور پھر اس کے مطابق اس کو وہ سیکورٹی فراہم کی جائے۔"

پاکستان میں امن و امان کی صورت حال کے پیش نظر ماضی ساستدان اور بعض دیگر شخصیات دہشت گرد حملوں کا نشنانہ بنتی رہیں اور گزشتہ مہینے سابق وزیر داخلہ اقبال احسن بھی اس طرح کے حملے میں زخمی ہوئے۔احمد بلال کے بقول اس صورت حال میں یہ ایک سنجیدہ اور حساس معاملہ ہے اور ہر کیس کو اپنے الگ میرٹ پر دیکھنا چاہیے۔

بعض مبصرین کے خیال میں ایک خاص قسم کا عمومی بیان دینا کہ ان تمام لوگوں کی سیکورٹی غیر ضروری ہے یا یہ تمام لوگ اپنی سیکورٹی کا انتظام خود کریں یہ مناسب نہیں ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG