رسائی کے لنکس

logo-print

رائے عامہ کے جائزوں میں تحریکِ انصاف کو برتری حاصل


فائل فوٹو

پولسٹر اور 'گیلپ پاکستان' کے ڈائریکٹر بلال شفیع گیلانی اور 'پلس کنسلٹنٹ' کے چیف ایگزیکٹو افسر کاشف حفیظ صدیقی نے وائس آف امریکہ کے پروگرام 'جہاں رنگ' میں بتایا ہے کہ تحریکِ انصاف کو تازہ ترین رجحانات کے مطابق برتری حاصل ہے۔

پاکستان میں عوامی رائے کا جائزہ لینے والے دو اداروں 'گیلپ پاکستان' اور 'پلس کنسلٹنٹ' کے عہدیداروں نے دعویٰ کیا ہے کہ 25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات میں پاکستان تحریکِ انصاف کو مجموعی طور پر برتری حاصل ہو رہی ہے لیکن پنجاب میں مسلم لیگ (ن) اس وقت بھی کچھ فرق سے آگے ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ حالیہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ہو سکتا ہے کہ کوئی جماعت صوبہ خیبر پختونخوا میں متواتر دوسری مدت کے لیے حکومت بنا سکے۔

پولسٹر اور 'گیلپ پاکستان' کے ڈائریکٹر بلال شفیع گیلانی اور 'پلس کنسلٹنٹ' کے چیف ایگزیکٹو افسر کاشف حفیظ صدیقی نے وائس آف امریکہ کے پروگرام 'جہاں رنگ' میں بتایا ہے کہ تحریکِ انصاف کو تازہ ترین رجحانات کے مطابق برتری حاصل ہے۔

بلال شفیع گیلانی کے بقول، "ہمارے جو ابھی تک کے تجزیے ہیں، ان کے مطابق 2018ء کا انتخاب بہت اہم ہے اور یہ 2013ء، 2008ء اور اس سے پہلے کے انتخابات سے مختلف ہو گا۔ پنجاب اور صوبہ خیبر پختونخوا میں الیکٹورل ڈائنامکس تبدیل ہوتے دیکھ رہے ہیں۔ مسلم لیگ نواز جو صوبۂ پنجاب کی سب سے بڑی جماعت ہے، اس کی برتری میں کمی ہوتے اور بعض سروے رپورٹوں کے مطابق اس کو اقلیت میں تبدیل ہوتا دیکھتے ہیں۔"

بلال گیلانی نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں بھی حالات تحریکِ انصاف کے لیے بے حد سازگار ہیں۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کا موقف ہے کہ ان کے قائدین کی گرفتاری اور سزاؤں سے کارکنوں کا حوصلہ بلند ہوا ہے جس کا نتیجہ انتخابات میں سامنے آئے گا۔ (فائل فوٹو)
مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کا موقف ہے کہ ان کے قائدین کی گرفتاری اور سزاؤں سے کارکنوں کا حوصلہ بلند ہوا ہے جس کا نتیجہ انتخابات میں سامنے آئے گا۔ (فائل فوٹو)

"تحریکِ انصاف (صوبے میں) حکومت بناتی نظر آتی ہے اور حالیہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ہو گا کہ کسی حکمران جماعت کو مسلسل دوسری مرتبہ خیبر پختونخوا میں حکومت بنانے کا موقع مل رہا ہے۔۔۔ کراچی میں بھی ایم کیو ایم کی تفریق کے بعد جو دیگر پارٹیاں سب سے زیادہ فائدہ اٹھائیں گی ان میں تحریکِ انصاف اور پیپلزپارٹی شامل ہیں۔"

قومی سطح پر بھی بلال شفیع گیلانی کے مطابق پی ٹی آئی سب سے بڑی جماعت بن کر ابھرتی نظر آتی ہے۔

"قومی منظرنامے کے اوپر پی ٹی آئی کے ووٹ پی یم ایل این سے ابھی تک زیادہ نظر آ رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ (پاپولر) ووٹوں کے اعتبار سے پی ٹی آئی ملک کی سب سے بڑی جماعت ہو گی۔ نواز لیگ دوسری اور پیپلز پارٹی تیسری بڑی جماعت ہوگی۔"

اہم انتخابی میدان پنجاب میں کیا صورتِ حال ہے؟ بلال شفیع گیلانی کے مطابق "پنجاب جو کل آبادی کا 53 فی صد ہے، وہاں پی ایم ایل این ابھی آگے ہے۔ مگر اس کی برتری بتدریج کم ہو رہی ہے۔ 2013ء میں نواز لیگ کو ووٹوں کے اعتبار سے 30 فی صد کی برتری حاصل تھی اور ظاہر ہے سیٹوں میں بھی۔ لیکن چھ ماہ پہلے جو سروے ہوا اس میں یہ لیڈ 20 فی صد تھی جب کہ دو ماہ پہلے کے سروے کے مطابق یہ برتری 14 فی صد ہے۔ اور جو آجکل ہمارے سرویز آ رہے ہیں اس میں یہ لیڈ 14 فی صد سے بھی کم ہوتی نظر آ رہی ہے۔ پنجاب میں الیکشن اس جانب جا رہے ہیں جہاں کوئی حتمی رائے دینا بہت مشکل ہے۔"

بلال شفیع گیلانی کا کہنا تھا کہ ابھی بھی 14 فی صد کے قریب ووٹر ایسے ہیں جنہوں نے اپنے ووٹ کا فیصلہ نہیں کیا۔ یہ ووٹ کسی بھی پارٹی کو پنجاب میں فتح دلا سکتا ہے۔

پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان
پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان

کاشف حفیظ 'پلس کنسلٹنٹ' کے چیف ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہیں اور ان کا تجزیہ بھی بلال شفیع گیلانی سے زیادہ مختلف نہیں ہے۔

"پنجاب روایتی طور پر مسلم لیگ کے گرد ہی گھومتا رہا ہے۔ کبھی مسلم لیگ (قاف) تو کبھی مسلم لیگ (نون)۔ اس وقت بہت دلچسپ صورتِ حال ہے۔ بظاہر ایک معلق پارلیمان بنتی نظر آتی ہے۔ مگر اس میں کوئی شک نہیں کہ تحریکِ انصاف ایک لیڈ لے کر حکومت کی طرف جائے گی۔ لیکن اگر نواز لیگ پنجاب سے مناسب تعداد میں سیٹیں لے اور پیپلز پارٹی سندھ سے جیتے تو پھر ایک معلق پارلیمنٹ کے اندر اتحادی حکومت کی طرف معاملات جا سکتے ہیں۔ لیکن یہ بات بہت واضح ہے کہ اس وقت خیبر پختونخوا سے، کراچی سے، پنجاب میں تحریکِ انصاف سرج کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔"

اس موقع پر کاشف حفیظ سے سوال کیا گیا کہ تحریکِ انصاف کے لیے اشاریے پبلک پلس (عوام کی نبض) ہیں یا وہ دیگر عوامل ہیں جن کی جانب نواز لیگ اور ان کے حامی اشارہ کرتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا، "تمام چیزیں لوگوں کی رائے پر کام کرتی ہیں۔ جس طرح کے حالات بنے ہوتے ہیں وہ بھی عوام کی رائے کو متاثر کرتے ہیں۔ پولیٹیکل انجینئرنگ کی ایک تعریف یہ بھی کی جا سکتی ہے کہ جس طرح کا بھی ماحول بنایا جا رہا ہے اس کا اثر عوام کی رائے پر ہوتا ہے۔"

کاشف حفیظ کے نزدیک لوگوں کو اپنے مسائل کے حل سے غرض ہوتی ہے اور جب ان کو احساس دلایا جائے کہ فلاں پارٹی اقتدار میں آ رہی ہے تو وہ اسی کو ووٹ دے کر اپنے مسائل کا حل چاہتے ہیں۔

پاکستان کا ایک بڑا میڈیا گروپ 'جنگ' اور 'جیو' کاشف حفیظ کے ادارے 'پلس کنسلٹنٹ' کا سب سے بڑا کلائنٹ ہے۔ کاشف حفیظ سے سوال کیا گیا کہ کیوں نہ ان کے نتائج کو شک کی نگاہ سے دیکھا جائے کہ ان کے کلائنٹ کا سیاسی جھکاؤ بہت واضح ہے؟ اس پر انہوں نے کہا کہ یہ سوال بہت بجا ہے مگر ہم پوری دیانت داری سے اپنے تجزیے کرتے ہیں۔ ہم پر کسی بھی طرح کے نتائج دکھانے کے لیے دباؤ نہیں ہوتا۔

مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کا نواز شریف کی لاہور آمد پر جلوس (فائل فوٹو)
مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کا نواز شریف کی لاہور آمد پر جلوس (فائل فوٹو)

کتنے فی صد ووٹرز نے ابھی تک اپنے ووٹ کا فیصلہ نہیں کیا؟ اور کیا ہو سکتا ہے کہ نوازلیگ کا حامی ووٹر سرویز کے اندر نواز لیگ کی قیادت کو سزا کے سبب اس کی طرف جھکاؤ ظاہر نہیں کر رہا مگر وہ حتمی فیصلہ نواز لیگ کے حق میں کرے؟

اس پر 'گیلپ پاکستان' کے ڈائریکٹر بلال شفیع گیلانی نے کہا کہ تقریباً 14 فی صد ووٹر ابھی تک اپنے ووٹ کا فیصلہ نہیں کر سکے۔ لہٰذا یہ بالکل ممکن ہے کہ وہ 'امبیرسمنٹ فیکٹر' کے سبب نواز لیگ کے حق میں نہیں بول رہے مگر میاں نواز شریف اور ان کی صاحبزادی کی قید کے پیشِ نظر ہمدری کے تابع اپنے ووٹ کا فیصلہ کرے۔

'پلس کنسلٹنٹ' کے سربراہ کاشف حفیظ اس سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کے بقول، "پاکستان کے ووٹرز فیصلہ کر چکے اور اب انتخاب سے پہلے کم ہی امکانات ہیں کہ وہ اپنی رائے تبدیل کریں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 'امبیرسمنٹ فیکٹر' موجود نہیں۔ جنہوں نے نواز لیگ کی حمایت کرنی ہے، وہ سزاؤں کے باوجود کھل کر حمایت کر رہے ہیں۔"

دونوں پولسٹرز نے دعویٰ کیا کہ ان کے سروے کے نتائج میں غلطی کا امکان ایک سے دو فی صد ہی ہوگا جو کہ عالمی معیار کے مطابق ہے۔

پاکستان تحریکِ انصاف کی برتری کی بات پولسٹرز ایسے موقع پر کر رہے ہیں جب اس کے حالیہ جلسے حاضرین کی تعداد کے اعتبار سے مایوس کن رہے ہیں۔ جھنگ، سیالکوٹ، جہلم اور شاہدرہ کے جلسوں میں خالی کرسیاں قیادت کے لیے بھی بظاہر پریشانی کا سبب بنی ہیں۔

تاہم تجزیہ کار اور سینئر صحافی ارشاد احمد عارف کے مطابق جھنگ اور جہلم میں حاضرین کے نہ ہونے کی وجہ عمران خان کا وقت سے پہلے پہنچنا، عمران خان کے جلسوں میں سکیورٹی خدشات سے متعلق انتباہ اور موسم کی شدت کا بھی دخل تھا۔

رائے عامہ کے جائزوں اور تجزیوں کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی قومی اسمبلی میں تیسری بڑی جماعت رہے گی۔ (فائل فوٹو)
رائے عامہ کے جائزوں اور تجزیوں کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی قومی اسمبلی میں تیسری بڑی جماعت رہے گی۔ (فائل فوٹو)

صحافیوں کے بین الاقوامی کنسورشیم (جس نے پاناما دستاویزات کی چھان بین کی تھی) سے منسلک پاکستان کے سینئر صحافی عامر لطیف نے دو صوبائی دارالحکومتوں پشاور اور لاہور کا جائزہ خود وہاں جا کر لیا ہے۔ ان کے مطابق بھی تحریکِ انصاف خیبر پختونخوا میں پہلے سے زیادہ نششتیں جیتنے کی پوزیشن میں نظر آتی ہے جبکہ لاہور (پنجاب) میں اسے نواز لیگ کے ساتھ سخت مقابلہ درپیش ہے۔ نون لیگ کو کمزور سمجھنا غلطی ہو گی۔ لیکن نوجوان ووٹر تحریکِ انصاف کی طرف جھکاؤ ظاہر کر رہا ہے۔

عامر لطیف کے مطابق کراچی میں بھی تحریکِ انصاف مناسب تعداد میں سیٹیں لے سکتی ہے۔

نواز لیگ کے رہنماؤں اور حامیوں کا دعویٰ ہے کہ قیادت کا لندن سے واپس آنا اور قید و بند کا سامنا کرنا اس کے ووٹروں کو جوش اور ولولہ فراہم کر رہا ہے جب کہ تحریکِ انصاف کے جلسے اپنے حامیوں سے خالی ہو گئے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی جماعت ایک بار پھر میدان مارنے میں کامیاب ہو جائے گی۔

گزشتہ روز وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی اور تجزیہ کار سیہل وڑائچ نے بھی کہا تھا کہ تحریکِ انصاف وفاق، خیبر پختونخوا میں حکومت بناتی نظر آتی ہے۔ پنجاب میں بھی آزاد امیدواروں کو ساتھ ملا کر یا فارورڈ بلاک طرز کے بندوبست کے بعد تحریکِ انصاف ہی حکومت بنا سکتی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG