رسائی کے لنکس

logo-print

'امریکہ نے سفارت کاروں سے ناروا سلوک کی کوئی شکایت نہیں کی'


پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان محمد فیصل (فائل فوٹو)

ڈاکٹر شکیل آفریدی کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں مائیک پومیپو نے کہا کہ جب وہ سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) کے سربراہ تھے تو اُنھوں نے "اس بارے میں کام کیا تھا لیکن کامیابی نہیں ملی۔"

پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان محمد فیصل نے واضح کیا ہے کہ سفارت کاروں سے مبینہ ناروا سلوک کے بارے میں امریکہ کی طرف سے وزارتِ خارجہ کو ابھی تک کوئی باضابطہ شکایت موصول نہیں ہوئی ہے۔

خیال رہے کہ امریکہ کے وزیرِ خارجہ مائیک پومیپو نے بدھ کو کانگریس کا بتایا تھا کہ پاکستان میں تعینات امریکی سفارت کاروں سے "برا" سلوک روا رکھا جاتا ہے۔

امریکی کانگریس کی اُمورِ خارجہ سے متعلق کمیٹی میں عوامی سماعت کے موقع پر مائیک پومپیو نے کہا کہ سفارت خانے اور قونصل خانوں میں تعینات امریکی افسران سے پاکستان کی حکومت کا سلوک اچھا نہیں ہے۔

سماعت کے دوران پاکستان میں قید ڈاکٹر شکیل آفریدی کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں مائیک پومیپو نے کہا کہ جب وہ سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) کے سربراہ تھے تو اُنھوں نے "اس بارے میں کام کیا تھا لیکن کامیابی نہیں ملی۔"

مائیک پومیپو کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ اُن کے دل میں ہے اور وہ جانتے ہیں کہ یہ کتنا اہم ہے۔

امریکی وزیرِ خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ 2018ء میں امریکہ نے پاکستان کو فراہم کی جانے والی امداد میں کافی کمی کی ہے اور آئندہ سال اس میں مزید کمی آئے گی۔

امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو ایوانِ نمائندگان کی کمیٹی کے سامنے بیان دے رہے ہیں۔
امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو ایوانِ نمائندگان کی کمیٹی کے سامنے بیان دے رہے ہیں۔

جمعے کو ہفتہ وار نیوز بریفنگ کے دوران مائیک پومیپو کے بیان کے ردِ عمل میں پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان میں تعینات مختلف ممالک کے سفارت کاروں کو بین الاقوامی سفارتی روایات کے مطابق ہر ممکن سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔

ترجمان محمد فیصل نے کہا کہ امریکہ نے رواں سال کے آغاز میں پاکستان کو فراہم کی جانے والی سکیورٹی اعانت معطل کر دی تھی۔

اُنھوں نے کہا کہ پاکستان یہ سمجھتا ہے اور اُن کے بقول امریکی عہدیدار بھی یہ تسلیم کرتے رہے ہیں کہ سکیورٹی اعانت خطے میں استحکام کے مشترکہ مقصد کے حصول میں اہم کردار ادا کرتی رہی ہے۔

ترجمان نے کہا کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں سے دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کا خاتمہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ امریکی اعانت نے اس مشترکہ مقصد کے حصول میں مدد کی۔

واضح رہے کہ رواں ماہ 11 مئی کو پاکستان اور امریکہ نے ایک دوسرے کے ممالک میں تعینات سفارت کاروں کی نقل و حرکت محدود کرنے کے لیے پابندیوں کے نفاذ پر عمل درآمد شروع کر دیا تھا۔

نئی پابندیوں کے تحت اب پاکستان میں تعینات امریکی سفارتی عملے کو جہاں وہ تعینات ہیں اس سے 25 میل یا لگ بھگ 40 کلومیٹر سے باہر جانے کے لیے متعلقہ حکام سے اجازت لینا ہو گی۔

اسی طرح کی پابندی امریکہ میں تعینات پاکستانی سفارت کاروں پر بھی ہے۔

پاکستان واضح کرچکا ہے کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کے رہائی کے لیے امریکہ سے کوئی ڈیل نہیں ہورہی
پاکستان واضح کرچکا ہے کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کے رہائی کے لیے امریکہ سے کوئی ڈیل نہیں ہورہی

پاکستان کی طرف سے کچھ مزید پابندیاں بھی عائد کی گئی ہیں جن میں امریکی سفارت خانے و قونصلوں خانوں کے زیرِ استعمال گاڑیوں کو شیشے سیاہ کرنے کی اجازت نہیں ہو گی جب کہ اُن گاڑیوں پر متبادل نمبر پلٹیس بھی نہیں لگائی جا سکیں گی۔

اس سے قبل سکیورٹی خدشات کی بنا پر پاکستان میں امریکی سفارت خانے اور قونصل خانوں کی گاڑیوں کو غیر سفارتی نمبر پلیٹس استعمال کرنے کی اجازت تھی۔

اس کے علاوہ امریکی سفارت کاروں کو بائیو میٹرک تصدیق کے بغیر فون سمز جاری نہیں کی جائیں گی اور نہ ہی وہ بغیر اجازت اپنی رہائش گاہوں اور سیف ہاؤسز پر ریڈیو مواصلاتی آلات لگا سکیں گے۔

ان پابندیوں کے نفاذ کو دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات میں مزید تناؤ سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب رواں ہفتے پاکستان نے اُن خبروں کی تردید کی تھی کہ اسامہ بن لادن تک پہنچنے میں امریکہ کی مدد کرنے والے ڈاکٹر شکیل آفریدی کی رہائی یا اُنھیں امریکہ بھیجنے سے متعلق کوئی ڈیل ہو رہی ہے۔

قبائلی علاقے خیبر ایجنسی سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر شکیل آفریدی نے مبینہ طور پر القاعدہ کے مفرور سربراہ اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد میں موجودگی کی تصدیق کرنے میں امریکی 'سی آئی اے' کی معاونت کی تھی۔

دو مئی 2011ء کو امریکی کمانڈوز کی خفیہ کارروائی میں بن لادن کی ہلاکت کے بعد پاکستانی انٹیلی جنس حکام نے شکیل آفریدی کو حراست میں لے لیا تھا اور بعد ازاں خیبر ایجنسی کی ایک عدالت نے اُن کو ریاست مخالف عناصر سے رابطوں کا مرتکب قرار دیتے ہوئے 33 برس قید کی سزا سنائی تھی۔

بعد میں ڈاکٹر شکیل آفریدی کی سزا میں 10 سال کی تخفیف کر دی گئی تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG