رسائی کے لنکس

logo-print

ایران کی بیلسٹک میزائل سرگرمیاں بڑھتی جا رہی ہیں: پومپیو


امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے بدھ کے روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا کہ جب سے 2015ء میں جوہری معاہدہ طے پایا ہے، ایران کی جانب سے بیلسٹک میزائل سرگرمیاں بند ہونے کی جگہ بڑھتی جا رہی ہیں۔

کونسل کے شش ماہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے، پومپیو نے بتایا کہ ’’اس کوشش میں کہ وہ بیلسٹک میزائل کی طاقت بن جائے، ایران نےدیگر ملکوں کی ہمدردی کا ناجائز فائدہ اٹھایا ہے، جب کہ وہ درحقیقت سلامتی کونسل کی متعدد قراردادوں کی انحرافی کر رہا ہے‘‘۔ اجلاس میں جوہری معاہدے پر عمل درآمد کو زیر غور لایا گیا۔

پومپیو نے کہا کہ ’’امریکہ اس بات کی ہرگز اجازت نہیں دے گا‘‘۔

اُنھوں نے سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کی جانب توجہ مبذول کرائی، جس میں ایران کے ساتھ معاہدے کو بین الاقوامی قانون کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔ جس میں ایران سے کہا گیا ہے کہ وہ ’’بیلسٹک میزائل تیار کرنے کی نوعیت کی کسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے گا، جو جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہو‘‘۔

مائیک پومپیو نے کہا کہ ’’جب ہم ایران سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بیلسٹک میزائل سرگرمی بند کرے، تو دراصل ہم اس بات سے اتفاق کر رہے ہوتے ہیں کہ وہ ایسا عمل بند کر دے گا۔ لیکن، دنیا کے زور بار کے باوجود ایران انحرافی پر تلا ہوا ہے‘‘۔

اُنھوں نے کہا کہ ’’ایران کی جانب سے میزائل سرگرمی، جن میں میزائل تیار کرنا اور تجربہ کرنا شامل ہے، وہ سلسلہ 2015ء کےمعاہدے کے بعد نہیں ہوا؛ بلکہ ایران کے میزائل تجربات اور میزائل کا پھیلاؤ کی سرگرمی بڑھتی جا رہی ہے‘‘۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG