رسائی کے لنکس

logo-print

شمالی کوریا کے ساتھ مذاکرات مثبت رہے، امریکی وزیر خارجہ


مائیک پومپیو

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے شمالی کوریا کے عہدے داروں کے ساتھ اپنے تازہ ترین مذاکرات کو تعمیری قرار دیا ہے ۔ انہوں نے ویت نام روانہ ہونے سے قبل اتوار کے روز ٹوکیو میں جاپان اور جنوبی کوریا کے اپنے ہم منصبوں سے ملاقات کی ۔

پیانگ یانگ، امریکہ کے اعلی ترین سفارت کار کے طور پر ان کے پہلے عالمی دورے کا پہلا اسٹاپ تھا۔

ایشیا کے بعد وہ متحدہ عرب امارات جائیں گے جس کے بعد وہ بیلجیئم روانہ ہوں گے جہاں وہ برسلز میں صدر ٹرمپ کے ہمراہ نیٹو کے سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے۔

امریکی وزیر خارجہ پومیو نے کہا کہ گزشتہ ہفتے پیانگ یانگ میں ان مذاكرات کے دوران، شمالی کوریا نے اپنے جوہری پروگرام کو ختم کرنے کے اپنے وعدے کی از سر نو تصدیق کر دی تھی، جن کے بارے میں وزیر خارجہ نے کہا کہ ان میں جوہری ہتھیاروں کے بھر پور اور مکمل خاتمے کے اگلے مراحل پر تفصیلی اور بھر پور گفت وشنید شامل تھی ۔

ان کا کہنا تھا کہ جو بات سب سے اہم ہے وہ یہ ہے کہ دنیا شمالی کوریا سے کیا مطالبے کر رہی ہے اور شمالی کوریا اس سے کیا مراد لیتا ہے۔ اور شمالی کوریا پر یہ پوری طرح سے واضح ہے کہ جوہری طور پر عدم سلح ہونے کے دائرے میں کیا کچھ شامل ہے ۔ میں نے ان پر یہ بالکل واضح کر دیا تھا۔

شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا نے ایک عہدے دار کے حوالے سے، جس کا نام نہیں بتایا گیا، کہا ہے کہ اگر امریکہ یہ توقع کرتا ہے کہ شمالی کوریا اس کا مطالبہ پورا کر دے گا تو وہ غلطی پر ہو گا اور اس نے انتباہ کیا کہ جوہری طو ر پر عدم مسلح ہونے کا اس کا عزم کمزور پڑ سکتا ہے ۔ لیکن پومیو نے شمالی کوریا کے عہدے داروں کے ساتھ اپنے مذاكرات میں پیش رفت کا حوالہ دیا ۔

انہوں نے کہا کہ شمالی کوریا امریکی فوجی عملے کے ہمارے ارکان کی باقيات کی واپسی پر جولائی کے وسط میں بات چیت کے لئے تیار ہو گیا تھا۔ شمالی کوریا نے میزائل کے اپنے تجرباتی مقام کو تباہ کرنے کے اس سے قبل کے اپنے وعدے کی بھی از سر نو تصدیق کی تھی جس سے خطہ اور دنیا پہلے سے زیادہ محفوظ ہوجائیں گے۔

اگرچہ انہوں نے تسلیم کیا کہ شمالی کوریا کو جوہری طور پر مکمل طریقے سے عدم مسلح کرنے کا راستہ دشوار ہو گا لیکن امریکہ کے اعلیٰ ترین سفارت کار نے ان نقادوں پر برہمی کا اظہار کیا جن کا کہنا ہے کہ انتظامیہ نے شمالی کوریا کے ساتھ معمولی یا قطعی طور پر پیش رفت نہیں کی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ ہم نے جو کامیابی حاصل کی ہے نقاد اسے کم سے کم بیان کرنے کی کوشش کریں گے ۔ لیکن جمہوریہ کوریا اور جاپان جیسے ہمارے اتحادیوں کی طرح صدر ٹرمپ اور میرا خیال ہے کہ امن کے لیے یہ کوشش معنی رکھتی ہے اور یہ ہی وہ کچھ ہے جو ہم سب چاہتے ہیں ۔

جاپان اور جنوبی کوریا کے وزرائے خارجہ نے پومپیو کی کوشش کی تعریف کی اور اپنے اپنے ملکوںکی جانب سے بھر پور حمایت کا وعدہ کیا۔

جنوبی کوریا کے وزیر خارجہ کانگ کیونگ وا کا کہنا تھا کہ ہم تینوں کے درمیان آج کی ملاقات شمالی کوریا کو جوہری اسلحے سے مکمل طور پر پاک کرنے کے مشترکہ مقصد کے حصول کے لیے ہم تینوں ملکوں کے مصمم عزم کو اجاگر کرتی ہے۔

تینوں وزراء نے زور دے کر کہا کہ شمالی کوریا کے خلاف بین الاقوامی پابندیاں اس وقت تک نرم نہیں کی جائیں گی جب تک وہ جوہری طور پر مکمل اور مصدقہ طریقے سے غیرمسلح نہیں ہو جاتا۔

جاپانی وزیر خارجہ تارہ کونو کا کہناتھا کہ ہم نے از سر نو یہ تصدیق کر دی ہے کہ بین الاقوامی برادری اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مکمل نفاذ کا سلسلہ جاری رکھے گی۔

امریکی صدر اور شمالی کوریا کے راہنماکے درمیان12 جون کے تاریخی سر براہی اجلاس کے بعد گزشتہ ہفتے پومپیو کی شمالی کوریا کے عہدے داروں سے یہ پہلی ملاقات تھی ۔

((Zlatica Hoke, VOA

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG