رسائی کے لنکس

سندھ میں مردم شماری کے نتائج پر تحفظات، احتجاج


A census enumerator (R) along with a Pakistan Army soldier notes details outside a house

مردم شماری کے عبوری نتائج میں سندھ کی آبادی 4 کروڑ 78 لاکھ 86 ہزار بتائی گئی ہے۔ کراچی ڈویژن کی آبادی 1 کروڑ 60 لاکھ بتائی گئی ہے جو 19 سال میں 63 فیصد بڑھی۔ اسی طرح لاہور ڈویژن کی آبادی میں 61 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

پاکستان میں 19 سال بعد عدالتی حکم پر ہونے والی مردم شماری کے عبوری نتائج سامنے آگئے ہیں۔ جس پر مختلف آرا سامنے آرہی ہیں۔ لیکن سب سے زیادہ ان نتائج پر تنقید کا نشانہ سندھ میں بنایا جارہا ہے۔ صوبہ سندھ کی حکمران جماعت پیپلز پارٹی سمیت اہم سیاسی جماعتوں نے ان نتائج کو یکسر مسترد کردیا ہے۔

حکمران جماعت پیپلز پارٹی کے اہم رہنما سعید غنی کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت نے شروع ہی میں مردم شماری کے طریقہ کار پر سوالات اٹھائے تھے۔ لیکن ان کی کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ اسی پر پیپلز پارٹی نے سندھ ہائی کورٹ میں آئینی درخواست بھی دائر کی گئی تھی جو اب بھی زیر سماعت ہے۔

سعید غنی کے بقول عبوری نتائج سامنے آنے کے بعد مردم شماری کی شفافیت پر رہا سہا اعتماد بھی ختم ہوگیا ہے اور یہ نتائج سندھ کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہیں۔

دوسری جانب صوبے کی دوسری بڑی جماعت ایم کیو ایم نے بھی عبوری نتائج کو سازش قرار دے دیا ہے۔

پارٹی رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے الزام عائد کیا ہے کہ سندھ کی شہری آبادی کے حقوق صلب کیے جارہے ہیں۔ دھاندلی والی مردم شماری قبول نہیں کی جاسکتی۔ ایم کیو ایم نے مردم شماری کے نتائج پر احتجاج اور دھرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔

قوم پرست جماعتوں اور سندھ اسمبلی میں موجود دیگر چھوٹی جماعتوں کا بھی کم و بیش یہی موقف ہے۔ فنکشنل لیگ نے اسمبلی میں اس بارے میں تحریک استحقاق جمع کرانے کا اعلان بھی کیا ہے۔

ایک جانب جہاں سیاسی جماعتوں کی جانب سے نتائج پر سخت نکتہ چینی کی جارہی ہے وہیں ادارہ شماریات کے ترجمان نے مردم شماری پر آنے والے اعتراضات کو مسترد کردیا ہے۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ مشترکہ مفادات کونسل میں جب یہ عبوری نتائج پیش کئے گئے تو اس وقت وزیر اعلیٰ سندھ کی جانب سے کوئی بھی اعتراض سامنے نہیں آیا۔ ادارہ شماریات نے شفاف مردم شماری کرانے میں کوئی کثر نہیں چھوڑی۔

مردم شماری کے عبوری نتائج میں سندھ کی آبادی 4 کروڑ 78 لاکھ 86 ہزار بتائی گئی ہے۔ کراچی ڈویژن کی آبادی 1 کروڑ 60 لاکھ بتائی گئی ہے جو 19 سال میں 63 فیصد بڑھی۔ اسی طرح لاہور ڈویژن کی آبادی میں 61 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

معاشی تجزیہ کاروں کے قریب سندھ کے بارے میں مردم شماری کے عبوری نتائج بہت زیادہ حیران کن نہیں۔

معاشی تجزیہ کار قیصر بنگالی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں فی الحال نتائج چیلنج کرنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔ اگر کسی کو سرکاری نتائج پر اعتراض ہی ہے تو چند بلاکس میں دوبارہ مردم شماری کرالی جائے، نتائج میں بہت زیادہ فرق نظر آئے تو ہی ان اعتراضات میں کوئی دم نظر آئے گا۔

قیصر بنگالی کے مطابق عبوری نتائج یہ ظاہر کرتے ہیں کہ مردم شماری کے عبوری نتائج سامنے آنے کے بعد سندھ میں دیہی اور شہری تقسیم مزید بڑھے گی جبکہ سندھ اور وفاق کے درمیان بھی محاذ آرائی بڑھنے کا اندیشہ ہے۔

XS
SM
MD
LG