رسائی کے لنکس

logo-print

مشکل میں پھنسی ن لیگ اور پیپلز پارٹی میں قربتیں


فائل

مشترکہ تحریک کے حوالے سے خورشید شاہ نے کہا کہ ’’تمام سیاسی جماعتیں اپنا اپنا اجتجاج کرتی ہیں۔ لیکن، سیاسی حالات اگر اس رخ پر گئے تو ایسا ہونا ممکن ہے‘‘

پاکستان مسلم لیگ(ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی دونوں مشکل حالات کا شکار ہوکر ایک دوسرے کے قریب آتی جا رہی ہیں۔

مسلم لیگ ن کے خواجہ سعد رفیق نے سابق صدر آصف علی زرداری کی متوقع گرفتاری پر کہا کہ ’’اگر آصف زرداری کو گرفتار کیا گیا تو طوفان اور ہیجان کی کیفیت ہوگی، اس سے زیادہ تماشا کیا ہوگا کہ بلاول کو ایسے کیس میں بلایا جب اس کی عمر ایک سال تھی‘‘۔ دوسری جانب، سید خورشید شاہ نے زرداری نواز ملاقات اور ملکر تحریک چلانے کو ’’ممکن‘‘ قرار دیا ہے۔

سیاست میں کوئی بات حرف آخر نہیں۔ اس کا واضح ثبوت حالیہ دنوں میں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) کا ساتھ ہے جو ایک وقت میں ایک دوسرے کے خلاف سخت بیان بازی کر رہی تھیں اور نواز شریف کے پانامہ فیصلے کے وقت زرداری نے نواز شریف سے ملاقات تک سے انکار کردیا تھا۔ لیکن حالات کا ستم کہیں کہ وقت کی ضرورت، اب یہی دونوں جماعتیں ایک دوسرے کے قریب ہوتی دکھائی دیتی ہیں۔

پیپلز پارٹی کے سید خورشید شاہ کہتے ہیں کہ زرداری اور نواز ملاقات ’’ممکن‘‘ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ابھی نواز شریف اور آصف زرداری یہاں نہیں۔ لیکن جب وہ موجود ہونگے تو ملاقات ہونا کوئی بڑی بات نہیں‘‘۔

مشترکہ تحریک کے حوالے سے خورشید شاہ نے کہا کہ ’’تمام سیاسی جماعتیں اپنا اپنا اجتجاج کرتی ہیں۔ لیکن، سیاسی حالات اگر اس رخ پر گئے تو ایسا ہونا ممکن ہے‘‘۔

پروڈکشن آرڈر جاری ہونے کے بعد نیب کی تحویل میں موجود سعد رفیق کو اسمبلی میں لایا گیا تو انہوں نے کہا کہ نیب قانون میں تبدیلی نہ کی گئی تو سب پچھتائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم کسی کو سلاخوں کے پیچھے نہیں دیکھنا چاہتے۔ لگتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے مزید لوگوں کو پکڑا جائے گا اور معاملات کو متوازن کرنے کیلئے حکومتی لوگوں کو گرفتار کیا جائے گا۔

رہنما ن لیگ کا کہنا تھا کہ ’’میثاق جمہوریت کو ساری سیاسی جماعتوں تک وسعت دینا ضروری ہے، (ن) لیگ اور پیپلز پارٹی حکومت کو گرانا نہیں چاہتے، اگر حکومت کے دل میں کوئی خدشات ہیں تو نکال دیں۔ اگر آصف زرداری کو گرفتار کیا گیا تو طوفان اور ہیجان کی کیفیت ہوگی‘‘۔

تجزیہ کار پروفیسر شاہد اقبال کامران کہتے ہیں کہ یہ پاکستان تحریک انصاف حکومت کی سیاسی ناکامی ہے جس نے دونوں جماعتوں کو ایک دوسرے کے قریب کر دیا اور اب دونوں جماعتیں ملکر حکومت کے لیے مشکلات کھڑی کرسکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آصف زرداری کے خلاف کرپشن کے خلاف الزامات نئے نہیں۔ وہ پہلے ہی گیارہ سال جیل کاٹ چکے اور کوئی حکومت ان کے خلاف کچھ ثابت نہیں کر سکی۔ لیکن اب اس موقع پر ان کے خلاف کیسز چلانا اور انہیں گرفتار کرنا دونوں سیاسی جماعتوں کی قوت بڑھانا ہوگا۔

ان دونوں جماعتوں کے ایک دوسرے کے قریب آنے اور ملکر سیاسی تحریک چلانے سے کیا گرفتاریاں رک سکیں گی، اس پر فی الحال کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا، کیونکہ حکومت ان دونوں جماعتوں کے رہنماؤں کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے دیکھنا چاہتی ہے۔ لیکن، ان کی عوامی طاقت کو نظرانداز کرنا تحریک انصاف کی سیاسی غلطی ہوگی جس کا خمیازہ انہیں بھگتنا پڑسکتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG