رسائی کے لنکس

logo-print

کراچی میں عیدالاضحیٰ کی تیاریوں کے منظر، رونقیں دوبالا


بقر عید کی آمد کے ساتھ ہی کچھ نئے پرانے کاروبار بھی چمک اٹھے ہیں۔ جیسے چھریوں کی دکانیں، ان پر دھار لگانے والے کاریگروں، سجاوٹ کا سامان، جست کی انگیٹھیاں، کوئلے، لکڑی کی مڈڈیاں، گھنگھرو اور کباب کی سیکھوں کے کاروبار سے جڑے لوگوں کی مصروفیت بڑھ گئی ہے

کراچی میں بھی عیدالاضحیٰ کی تیاریاں عروج پر ہیں۔ بچوں اور بڑوں سمیت سبھی کا اِن دنوں ایک ہی مشغلہ ہے۔ سپرہائی وے پر قائم منڈی کے پھیرے لگانا اور قربانی کے لئے جانوروں کی خریداری کرنا۔

دن اور رات کا کوئی پہر ایسا نہیں ہوتا جب منڈی سے لیکر سہراب گوٹھ تک اور سہراب گوٹھ سے لیکر شہر کے دیگر علاقوں اور شاہراوٴں تک جانوروں سے لدی ان گنت سوزوکیوں اور ٹرکوں سے ٹریفک بلاکا جام نہ ہو۔ منتوں کا سفر کئی کئی گھنٹوں میں طے ہو رہا ہے۔

شہر کا کوئی گلی کوچہ ایسا نہیں جہاں گائے اور بکرے نہ بندھیں ہوں۔ جگہ جگہ گھانس، چارے، چوکر، کٹی، بھوسے اور جنتر کی عارضی دکانیں لگی ہیں۔ مختلف دکانوں پر جانوروں کو سجانے کا سامان بک رہا ہے۔ ہار، مصنوعی پھول، چمڑے کی نکیل، سجاوٹ والے گلے کے پٹے اور نجانے کیا کیا کچھ۔

بقرعید کی آمد کے ساتھ ہی کچھ نئے پرانے کاروبار بھی چمک اٹھے ہیں۔ جیسے چھریوں کی دکانیں، ان پر دھار لگانے والے کاریگروں، سجاوٹ کا سامان، جست کی انگیٹھیاں، کوئلے، لکڑی کی مڈڈیاں، گھنگھرو اور کباب کی سیکھوں کے کاروبار سے جڑے لوگوں کی مصروفیت بڑھ گئی ہے۔

شام ہوتی نہیں کہ گلیوں میں بچے جانوروں کو ٹہلانے اور ریس لگانے کے لئے نکل پڑتے ہیں۔ گلیوں میں اور شامیانوں کے نیچے بندھے جانوروں کی ساری ساری رات دیکھ بھال اور رت جگوں کا سماع۔۔دیدنی ہے۔

جنرل اسٹورز پر مختلف برانڈز کے مصالحوں کو الماریوں اور درازوں سے باہر نکال کرنئے اور دلکش اسٹائل میں سجادیا گیا ہے تاکہ گاہک کو دور سے ہی مصالحوں کی خریداری پر راغب کیا جاسکے۔ سیل بڑھانے کے لئے ’بائے ون گیٹ ون فری‘ جیسی اسکیمیں شروع ہیں۔

بیکریوں کے باہر بکرے کی ران راسٹ کرانے کے بینرز لگے ہیں۔ لوگوں کو قصابوں سے ’اپائنٹمنٹ‘ نہیں مل رہا۔ گوشت رکھنے کے لئے چٹائیوں کی دکانوں پر بھی خریداروں کا رش ہے ۔ٹوکریاں اور شاپنگ بیگز کے بھی دام اور ڈیمانڈ بڑھ چکی ہے۔

XS
SM
MD
LG