رسائی کے لنکس

logo-print

ماحولیاتی تبدیلیاں: پیرس کانفرنس کی ڈیڈلائن میں ایک روز کی توسیع


کانفرنس میں 195 ممالک کے نمائندے معدنی تیل پر انحصار کو کم کرکے موسمیاتی تغیر کی رفتار کو سست کرنے کے لیے ایک معاہدے پر اتفاق کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

فرانس کے وزیر خارجہ لوراں فیبوس نے جمعے کو کہا ہے کہ پیرس میں ماحولیاتی تبدلی سے متعلق معاہدے پر مذاکرات ایک روز مزید جاری رہیں گے کیونکہ اب تک کسی حتمی معاہدے پر اتفاق نہیں ہو سکا۔

ایک فرانسیسی ٹیلی ویژن کو انہوں نے بتایا کہ وہ ہفتے کی صبح عالمی حدت کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک نیا مسودہ پیش کریں گے جس پر 200 کے قریب اقوام کے دوپہر تک اتفاق کرنے کی توقع ہے۔ ابتدائی طور پر اس کے لیے جمعے کا دن مقرر کیا گیا تھا۔

فرانسیسی وزیر خارجہ نے کہا کہ ’’ماحول سازگار ہے، چیزیں مثبت ہیں اور صحیح سمت میں جار ہی ہیں۔‘‘

موسمیاتی تغیر پر اقوام متحدہ کے اجلاس کا دورانیہ اکثر بڑھانا پڑتا ہے۔ 29 نومبر کو شروع ہونے والی اجلاس جمعے کو ختم ہونا تھا مگر اب یہ ہفتے تک جاری رہے گا۔

چین کے سرکاری ٹیلی وژن کے مطابق چینی صدر شی جنپنگ اور امریکی صدر براک اوباما نے جمعے کو ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ملک موسمیاتی تغیر پر آپس میں تعاون جاری رکھیں گے۔

سی سی ٹی وی کے مطابق دونوں صدور نے کہا کہ وہ موسمیاتی تغیر پر پیرس میں ہونے والی کانفرنس کی کامیابی کو آگے بڑھانے کے لیے قریبی تعاون کریں گے۔

کانفرنس میں 195 ممالک کے نمائندے معدنی تیل پر انحصار کو کم کر کے موسمیاتی تغیر کی رفتار کو سست کرنے کے لیے ایک معاہدے پر اتفاق کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق جمعرات کی رات کو ہونے والے مذاکرات میں حدت پیدا کرنے والی گیسوں کے اخراج کو محدود کرنے کے حوالے سے کئی اختلافات سامنے آئے ہیں کہ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کی ذمہ داریوں کے درمیان کس طرح توازن پیدا کیا جائے۔

XS
SM
MD
LG