رسائی کے لنکس

logo-print

جوہری ہتھیاروں تک ایران کی رسائی کا راستہ بند ہو گیا: صدر اوباما


صدر اوباما کے مطابق ’’یہ معاہدہ ہمیں ایک نئی سمت میں جانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ ہمیں اس سے فائدہ اٹھانا چاہیئے۔‘‘

صدر اوباما نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیئے۔ انہوں نے گانگریس کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس معاہدے کے نفاذ کو روکنے کے لیے کسی بھی قانون سازی کی کوشش کو ویٹو کر دیں گے۔

وائٹ ہاؤس میں ایک بیان میں اوباما نے کہا ہے کہ اس معاہدے کے تحت ایران کا جوہری ہتھیاروں تک پہنچنے کا ہر راستہ بند کر دیا گیا ہے۔ یہ معاہدہ اعتماد کی بجائے تصدیق پر تعمیر کیا گیا ہے اور اسے مسترد کرنا ’’غیر ذمہ دارانہ‘‘ فعل ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ ظاہر کرتا ہے کہ امریکی سفارت کاری ہمارے ملک اور دنیا کو محفوظ بنانے میں حقیقی اور بامعنی تبدیلی لا سکتی ہے۔

صدر اوباما نے کہا کہ اس معاہدے سے امریکہ اور ایران کے درمیان تمام اختلافات ختم نہیں ہوں گے اور ان کے بقول واشنگٹن انسانی حقوق اور دیگر معاملات سے متعلق ایران پر عائد پابندیاں برقرار رکھے گا۔

صدر اوباما کا کہنا تھا کہ ان اختلافات کے باوجود یہ معاہدہ خطے میں تبدیلی کا ایک اہم موقع ہے۔

’’یہ معاہدہ ہمیں ایک نئی سمت میں جانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ ہمیں اس سے فائدہ اٹھانا چاہیئے۔‘‘

انہوں نے معاہدے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے کی وجہ سے ایران انتہائی افژودہ یورینیم اور ہتھیاروں کے لیے کارآمد پلوٹونیم پیدا نہیں کر سکے گا، جو جوہری ہتھیار بنانے کے لیے ضروری ہیں۔

’’اس معاہدے کی وجہ سے ایران اپنے دوتہائی نصب شدہ سنٹری فیوج ہٹائے گا اور انہیں عالمی نگرانی میں محفوظ کر دے گا۔ سنٹری فیوج کے ذریعے انتہائی افژودہ یورینم کی تیاری کی جاتی ہے۔‘‘

انہوں نے مزید بتایا کہ ایران اپنے سنٹری فیوجز کو اگلے دس سال کے دوران افژودہ یورینیم بنانے کے لیے استعمال نہیں کرے گا اور وہ اپنی افژودہ یورینیم کا ذخیرہ بھی تلف کرے گا۔ ’’اس ذخیرے سے 10 کے قریب جوہری ہتھیار تیار کیے جا سکتے ہیں۔ اس معاہدے کی بدولت اس ذخیرے کو اتنا کم کر دیا جائے گا کہ اس سے ایک جوہری ہتھیار بھی تیار نہیں کیا جا سکے گا۔‘‘

اوباما نے کہا کہ ذخیرے پر پابندی 15 سال کے لیے برقرار رہے گی۔ اگلے 15 سال کے دوران ایران کوئی بھاری پانی کا ری ایکٹر بھی تعمیر نہیں کر سکے گا۔

اگرچہ اس معاہدے کو ایک تاریخی معاہدہ قرار دیا جا رہا ہے، مگر اس کی کانگریس سے منظوری کا مرحلہ مشکل ثابت ہو سکتا ہے۔

گانگریس کے رپبلیکن ارکان اس معاہدے کے سخت مخالفت کرتے رہے ہیں۔ مئی میں کانگریس نے ’ایران نیوکلیئر ڈیل ریویو ایکٹ‘ نامی ایک قانون منظور کیا تھا جس میں قانون سازوں کو جوہری معاہدے کو منظور یا مسترد کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔

اس قانون کے تحت قانون سازوں کو اس معاہدے کا جائزہ لینے کے لیے 60 دن کی مہلت دی گئی ہے اور اس مدت کے دوران صدر ایران پر عائد پابندیاں نہیں ہٹا سکتے۔

صدر کانگریس کے فیصلے پر دستخط کر سکتے ہیں یا اسے ویٹو کر سکتے ہیں۔ مگر صدر کے ویٹو کو منسوخ کرنے کے لیے کانگریس کو دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہو گی۔

یہ معاہدہ صدر اوباما کے لیے خارجہ پالیسی کی ایک فتح ہے۔ 2008 کی صدراتی مہم میں ان پر یہ کہنے پر تنقید کی گئی تھی کہ امریکہ کو اپنے دشمنوں سے بات چیت کرنی چاہیئے۔

اس معاہدے کے تحت امریکہ، یورپی یونین اور اقوام متحدہ کی جانب سے ایران پر عائد پابندیاں ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے عوض ہٹا لی جاہئیں گی۔

XS
SM
MD
LG