رسائی کے لنکس

نربھیا ریپ کیس: بھارتی صدر نے ایک مجرم کی رحم کی اپیل مسترد کر دی


فائل فوٹو

بھارت کے صدر رام ناتھ کووند نے نربھیا ریپ کیس میں ایک مجرم مکیش سنگھ کی رحم کی اپیل مسترد کر دی ہے۔

بھارت کے نشریاتی ادارے 'این ڈی ٹی وی' کی رپورٹ کے مطابق مکیش سنگھ ان چار مجرموں میں شامل ہیں جن کو ریپ کیس میں سزائے موت سنائی گئی ہے۔

ان مجرموں کی سزائے موت پر عمل درآمد آئندہ ہفتے ہونا ہے۔

مجرم مکیش سنگھ کی رحم کی اپیل وزارتِ داخلہ کے توسط سے صدر کو ارسال کی گئی تھی۔ یہ ان کی سزائے موت پر عمل درآمد سے قبل اپیل کرنے کا آخری موقع تھا۔

قبل ازیں مکیش سنگھ کے ہمراہ اس کیس کے ایک اور مجرم وینے شرما نے سپریم کورٹ میں بھی درخواست دائر کی تھی۔ تاہم عدالت نے وہ پٹیشن بھی مسترد کر دی تھی۔

نربھیا کیس میں چار افراد وینے شرما، مکیش سنگھ، اکشے کمار سنگھ اور پاون گپتا کو سزائے موت سنائی گئی تھی۔ ان مجرمان کو 22 جنوری کو دہلی کی تہاڑ جیل میں پھانسی دی جائے گی۔

ان مجرمان نے 2012 میں میڈیکل کی ایک طالبہ نربھیا کا چلتی بس میں ریپ کیا تھا۔ ان مجرمان کو سات سال قبل پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی۔ گزشتہ ہفتے عدالت نے ان کے ڈیتھ وارنٹ جاری کیے تھے۔

ڈیتھ وارنٹ کے اجرا کے موقع پر نربھیا کی ماں بھی عدالت میں موجود تھیں۔ انہوں نے ان احکامات کو انصاف کی جیت قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے عدالت پر خواتین کا اعتماد بڑھے گا۔

میڈیکل کی 23 سالہ طالبہ نربھیا کو 16 دسمبر 2012 کی شب دہلی کی ایک چلتی بس میں اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ مجرموں نے ان پر وحشیانہ تشدد بھی کیا تھا۔

نربھیا کا علاج ابتدا میں دہلی میں اور پھر سنگاپور میں ہوا تھا مگر وہ جانبر نہ ہو سکی تھیں اور چند روز کے اندر ان کی موت واقع ہو گئی تھی۔

واقعے پر بھارت سمیت دنیا بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی تھی۔ بھارت میں انسانی حقوق کی تنظیمیں کئی روز تک سراپا احتجاج رہی تھیں۔ واقعے کے بعد نئی دہلی پولیس کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

اس واقعے کے بعد بھارت میں ریپ سے متعلق قوانین بھی مزید سخت کر دیے گئے تھے۔

واقعے میں ملوث تمام چھ ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ ان میں ایک نابالغ ملزم کا کیس بچوں کی عدالت میں زیرِ سماعت رہا تھا جسے عدالت نے جرم ثابت ہونے پر تین سال قید کی سزا سنائی تھی۔

ایک ملزم رام سنگھ نے نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں خود کُشی کر لی تھی۔

مقامی عدالت نے تمام ملزموں کو ستمبر 2013 میں سزائے موت دی تھی جس کی توثیق دہلی ہائی کورٹ نے مارچ 2014 میں کی۔

بھارت کی سپریم کورٹ نے بھی مئی 2017 میں ذیلی عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھا تھا۔ سپریم کورٹ نے مجرموں کی نظرِ ثانی کی اپیلیں بھی خارج کر دی تھیں۔

دوسری جانب تہاڑ جیل کی انتظامیہ نے دہلی کی عدالت سے ان مجرمان کی سزائے موت پر عمل در آمد کیے لیے نئی تاریخ مقرر کرنے کی استدعا کی ہے کیوں کہ ملزمان میں سے باقی تین نے ابھی صدر سے رحم کی اپیل نہیں کی۔ ان کی اپیل کی صورت میں قانونی عمل مکمل کرنے کے لیے وقت درکار ہوگا۔

دوسری جانب نربھیا کی والدہ نے مجرموں کی پھانسی میں تاخیر پر خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کئی سال سے عدالتوں کے چکر کاٹ رہی ہیں تاکہ ان کو انصاف مل سکے۔

ملزمان کی اپیلوں سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ اگر ان کو حقوق حاصل ہیں تو ہمیں بھی تو حق حاصل ہے کہ اپنی بیٹی کے لیے انصاف حاصل کریں جس کو سات سال قبل قتل کیا جا چکا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG