رسائی کے لنکس

logo-print

ری پبلکن انتخابی مہم نے جارجیا میں الیکشن کے نتائج چیلنج کر دیے


فائل فوٹو

امریکہ میں ری پبلکن جماعت کے صدارتی امیدوار صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم نے جمعے کو اپنی قانونی جنگ جاری رکھتے ہوئے ریاست جارجیا میں انتخابات کے نتائج کو چیلنج کیا ہے۔

ٹرمپ کی صدارتی مہم کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ عدالت میں جمع کرائی گئی درخواست میں جارجیا کے شہریوں کے بیانات کو بنیاد بنایا گیا ہے۔

ری پبلکن پارٹی سے ہی تعلق رکھنے والے جارجیا کے سیکریٹری آف اسٹیٹ بریڈ ریفن سپرر اور دیگر ریاستی حکام متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ کہ انہیں تین نومبر کے انتخابات میں کوئی گڑ بڑ نظر نہیں آئی۔

صدر ٹرمپ کی ٹیم کو انتخابات کے نتائج کے خلاف قانونی جنگ میں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ دو ریاستوں نیواڈا اور وسکانسن میں بھی ٹرمپ کی مہم کو کامیابی نہیں مل سکی ہے۔

نو منتخب صدر جو بائیڈن کو صدارتی انتخابات میں 232 کے مقابلے میں 306 الیکٹورل ووٹوں سے فیصلہ کن برتری حاصل ہوئی ہے۔ جب کہ انہیں 270 الیکٹورل ووٹ درکار تھے۔

نیواڈا میں ڈسٹرکٹ جج نے ری پبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے الیکٹرز کا کیس خارج کرتے ہوئے انہیں دفاعی ٹیم کے قانونی اخراجات پورے کرنے کا حکم بھی دیا۔ کیوں کہ ان کے مطابق استغاثہ اپنے کیس سے متعلق ثبوت فراہم کرنے میں ناکام رہا۔

ریاست وسکانسن کی سپریم کورٹ نے تین کے مقابلے میں چار ججوں کے فیصلے میں ریاست کے انتخابات کے نتائج کو کالعدم قرار دینے سے انکار کردیا۔سپریم کورٹ کے جج برائن ہیگڈورن نے فیصلے میں کہا کہ ایسا اقدام امریکہ کی تاریخ میں غیرمعمولی ہوتا۔

صدر ٹرمپ کی انتخابی مہم اب تک قانونی جنگ میں 90 لاکھ ڈالر کے اخراجات کر چکی ہے جس میں 23 لاکھ ڈالر صرف وکلا اور مشیروں کو ادا کیے گئے ہیں۔

ری پبلکن پارٹی کی انتخابی مہم اور ری پبلکن نیشنل کمیٹی نے صدارتی انتخاب کے بعد 20 کروڑ 70 لاکھ ڈالرز کے فنڈ جمع کیے ہیں۔

جمع کردہ فنڈز میں سے بہت سے فنڈز صدر ٹرمپ کے مستقبل کے سیاسی منصوبوں پر خرچ ہوں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG