رسائی کے لنکس

صدر کا مواخذہ: 'ری پبلکن سینیٹرز اخلاقی جرات کا مظاہرہ کریں'


صدر ٹرمپ امریکی تاریخ کے تیسرے صدر ہیں جنہیں مواخذے کی کارروائی کا سامنا ہے۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کے لیے امریکی سینیٹ میں ٹرائل جاری ہے۔ ایوانِ نمائندگان کی پراسیکیوشن ٹیم کے سربراہ ایڈم شف نے جمعے کو اپنے دلائل مکمل کر لیے۔ ہفتے کو صدر کی قانونی ٹیم اُن کا دفاع کرے گی۔

ڈیمو کریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹرز کا کہنا ہے کہ 2020 کے صدارتی الیکشن سے قبل صدر کو عہدے سے ہٹانا ضروری ہے، ورنہ وہ اختیارات کا ناجائز استعمال جاری رکھتے ہوئے امریکی جمہوریت کے لیے خطرہ رہیں گے۔

جمعے کو سینیٹ میں ٹرائل کے دوران مواخذے کی کارروائی میں ایوانِ نمائندگان کی پراسیکیوشن ٹیم کے سربراہ ایڈم شف نے کہا کہ اگر سینیٹ نے مجرمانہ فیصلہ کرتے ہوئے اُنہیں کلین چٹ دی تو اسی صورت میں ہی صدر مواخذے سے بچ سکتے ہیں۔

ایڈم شیف نے کہا کہ امریکی صدر روس کے امریکہ مخالف منفی پروپیگنڈے پر خاموش رہے۔ اُنہیں ایک سال مزید دینے کا مطلب یہ ہو گا کہ وہ اپنے تباہ کن ایجنڈے کو مکمل کر سکیں جس نے ہمیں آج اس نہج پر پہنچا دیا ہے۔

حتمی دلائل دیتے ہوئے ایڈم شیف نے صدر کے خلاف الزامات کو دہرایا۔ اُنہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ کے خلاف سارے الزامات ثابت ہو چکے ہیں۔ لہذٰا ری پبلکن سینیٹرز اخلاقی جرآت کا مظاہرہ کریں۔

ایڈم شیف نے صدر ٹرمپ کی وکلا کی ٹیم پر بھی دبے لفظوں میں تنقید کی۔ اُنہوں نے کہا کہ ری پبلکن سینیٹرز اس بات پر کان نہ دھریں کہ مواخذے کی کارروائی میں خامیاں تھیں۔ کیوں کہ یہ صرف صدر ٹرمپ کے اقدامات سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہو گی۔

ایوانِ نمائندگان کی پراسیکیوشن ٹیم کے سربراہ ایڈم شف
ایوانِ نمائندگان کی پراسیکیوشن ٹیم کے سربراہ ایڈم شف

پراسیکیوشن ٹیم کے سربراہ نے ری پبلکن سینیٹرز کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایک دن ایسا بھی آ سکتا ہے جب صدر ٹرمپ آپ میں سے کسی ایک کو اپنا ہدف بنا سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی اُنہوں نے تین روز سے جاری دلائل مکمل کر لیے۔

ہفتے کو صدر ٹرمپ کے وکلا سینیٹ میں صدر کا دفاع کریں گے۔ صدر کی قانونی ٹیم کے سربراہ جے سیکیولو کا کہنا ہے کہ ہفتے کو وہ صدر کے حق میں مضبوط کیس پیش کریں گے۔

خیال رہے کہ گزشتہ ماہ ایوانِ نمائندگان میں اکثریت رکھنے والی ڈیمو کریٹک پارٹی نے صدر کے مواخذے کی منظوری دے دی تھی۔ لہذٰا اب ری پبلکن پارٹی کی اکثریت والی سینیٹ نے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ صدر کا مواخذہ ہو سکتا ہے یا نہیں۔

صدر ٹرمپ امریکی تاریخ کے تیسرے صدر ہیں جنہیں مواخذے کی کارروائی کا سامنا ہے۔ لیکن صدر ٹرمپ اپنے خلاف مواخذے کی کارروائی کو محض مذاق قرار دیتے آئے ہیں۔

سینیٹ میں ڈیمو کریٹک پارٹی کے اراکین نے مطالبہ کر رکھا ہے کہ امریکی قومی سلامتی کے سابق مشیر جان بولٹن اور مک ملوانی کو گواہی کے لیے بلایا جائے۔ سینیٹ آئندہ ہفتے اس سے متعلق فیصلہ کرے گی۔

سینیٹ میں گواہی کے لیے ڈیمو کریٹک پارٹی کو چار ری پبلکن سینیٹرز کی حمایت درکار ہے، جو تاحال اُنہیں نہیں مل سکی۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ رواں سال نومبر میں ہونے والے امریکی صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کا عندیہ دے چکے ہیں۔ تاہم اُن کے مدمقابل ڈیمو کریٹک پارٹی کے اُمیدوار کا تاحال فیصلہ نہیں ہو سکا۔

صدر ٹرمپ سے قبل اینڈریو جانسن اور بل کلنٹن کے خلاف مواخذے کی کارروائی ہوئی۔ البتہ سابق امریکی صدر رچرڈ نکسن نے کارروائی سے قبل ہی عہدہ چھوڑ دیا تھا۔

امریکی سینیٹ میں مواخذے کی کارروائی کی منظوری کے لیے دو تہائی اکثریت ضروری ہے۔ تاہم ری پبلکن پارٹی کے اراکین اکثریت میں ہونے کے باعث غالب امکان یہی ہے کہ صدر کا الزامات سے بری کر دیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ پر الزامات

صدر ٹرمپ پر پہلا الزام یہ ہے کہ اُنہوں نے 2020 کے صدارتی انتخابات میں اپنے متوقع حریف جو بائیڈن کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے لیے یوکرین کے صدر ولادی میر زیلینسکی پر فون کر کے دباؤ ڈالا تھا کہ وہ جو بائیڈن کے صاحبزادے ہنٹر بائیڈن کے خلاف مبینہ کرپشن کی تحقیقات کرائیں۔

صدر پر یہ بھی الزام ہے کہ اُنہوں نے تعاون نہ کرنے پر یوکرین کے لیے امریکی امداد روکنے کی بھی دھمکی دی تھی۔

صدر ٹرمپ پر دوسرا الزام یہ ہے کہ انہوں نے اپنے خلاف ہونے والی تحقیقات میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG