رسائی کے لنکس

کانگریس کے پہلے خطاب میں ٹرمپ بجٹ ترجیحات بیان کریں گے


صدر منگل کی شام ایسٹرن ٹائم کے مطابق، رات 9 بجے کانگریس کے دونوں ایوانوں سے خطاب کریں گے، جس کا عنوان ’’امریکی عزم کا اعادہ‘‘ ہوگا۔ اہل کار کے مطابق، بنیادی طور پر خطاب ’’معاشی مواقع اور امریکی عوام کو تحفظ کی فراہمی سے متعلق ہوگا‘‘۔

وائٹ ہاؤس کے اہل کاروں کا کہنا ہے کہ منگل کی شام صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا کانگریس سے خطاب ’’اصل لوگوں کے حقیقی مسائل کے حل کی ٹھوس حکمتِ عملی کا مظہر ہوگا‘‘۔


انتظامیہ کے ایک اہل کار نے پیر کی شام وائٹ ہاؤس میں نامہ نگاروں سے گفتگو کے دوران بتایا کہ ’’صدر اُنھیں بتائیں گے کہ مدد کی فراہمی کا بندوبست ہو چکا ہے‘‘۔


صدر منگل کی شام ایسٹرن ٹائم کے مطابق، رات 9 بجے کانگریس کے دونوں ایوانوں سے خطاب کریں گے، جس کا عنوان ’’امریکی عزم کا اعادہ‘‘ ہوگا۔ اہل کار کے مطابق، بنیادی طور پر خطاب ’’معاشی مواقع اور امریکی عوام کو تحفظ کی فراہمی سے متعلق ہوگا‘‘۔


ایسے میں جب خطاب میں خارجہ پالیسی کے چند چیدہ معاملات شامل ہوں گے، انتظامیہ کے اہل کاروں کا کہنا ہے اُن کے خیال میں کسی خاص ملک کا نام نہیں لیا جائے گا۔ تاہم، اہل کاروں کے مطابق، ٹرمپ 12 ملکی بین البحرالکاہل تجارتی سمجھوتے سے علیحدگی کے بارے میں وضاحت پیش کریں گے، جس مربوط تجارتی معاہدے کی کانگریس نے کبھی توثیق نہیں کی؛ جس کو طے کرنے میں کئی برس لگے، جس کا باعث خود امریکہ اور جاپان تھے۔


امیگریشن ایک کلیدی موضوع


اِس سے قبل، وائٹ ہاؤس کی روزانہ اخباری بریفنگ کے دوران، ترجمان شان اسپائسر نے بتایا کہ ’’مجموعی طور پر، مشترکہ ایوانوں کے خطاب میں وہ پُر اعتماد طور پر اپنا نصب العین بیان کریں گے‘‘۔


اسپائسر نے مزید کہا کہ اُنھیں توقع ہے کہ کانگریس کے تمام ارکان، جِن میں ڈیموکریٹ بھی شامل ہوں گے، صدر کا ’’قابل رشک طور پر اور تالیوں کی گونج میں استقبال کریں گے‘‘۔


اسپائسر نے کہا کہ ’’آپ (منگل) رات امیگریشن کے بارے میں بہت سی باتیں سنیں گے‘‘۔


تاہم، ایوان میں موجود دو ڈیموکریٹک نمائندے بار بار اُٹھ کھڑے ہوں گے، جو بات پیر کے دِن اُنھوں نے اخباری نامہ نگاروں کو بتائی۔


سینیٹ کے اقلیتی قائد چَک شومر اور ایوانِ نمائندگان کی اقلیتی قائد نینسی پلوسی نے ’نیشنل پریس کلب‘ میں متوقع صدارتی خطاب سے متعلق گفتگو کی۔


شومر نے کہا کہ ’’ڈونالڈ ٹرمپ ہمیں باور کرانے کی کوشش کریں گے کہ سارے تارکینِ وطن دہشت گرد اور جرائم پیشہ ہیں‘‘۔


پلوسی نے کہا کہ ٹرمپ کا ’’امریگرینٹس کے بارے میں انداز ری پبلیکنز اور ڈیموکریٹس کی عشروں پرانی روایت سے انحراف پر مبنی ہوتا ہے‘‘۔


ایسے میں جب اقلیتی قائدین صدر کے ایجنڈے پر تنقید کر رہے تھے، ادھر وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ کانگریس کے دونوں ایوانوں کے اکثریتی قائدین کے ہمراہ اپنے خطاب کا جائزہ لے رہے تھے۔

ایوانِ نمائندگان کے ری پبلیکن اسپیکر، پال رائن کے ہمراہ ویسٹ وِنگ سے نمودار ہوتے ہوئے، سینیٹ میں اکثریتی پارٹی کے قائد، مِچ مکونیل نے بتایا کہ ’’ہم (منگل کی) رات مثبت اور شاندار ایجنڈے کی تفصیل سننے کے منتظر ہیں، جو ایسا ہی ہوگا جیسا کہ ٹرمپ کا ایجنڈا ہے‘‘۔


رائن کے بقول، ’’ہمارا ہدف یہ ہے کہ ہم عوام کی زندگی میں بہتری لانے کی کوشش جاری رکھیں۔ ہمارے سامنے ایک دلیرانہ نوعیت کا ٹھوس ایجنڈا ہے اور صدر اس بات کی نشاندہی کریں گے کہ ہمارے عوام کے لیے اس میں کیا فوائد پنہاں ہیں‘‘۔


ٹیکس، بجٹ کٹوتیاں


ری پبلیکن قانون سازوں کا کہنا ہے کہ اُنھیں امید ہے کہ ٹیکس اصلاحات اور ہیلتھ کیئر کا خصوصی ذکر اذکار ہوگا، علاوہ یہ کہ دفاعی اخراجات میں تقریباً 10 فی صد کا اضافہ کیا جائے گا، جس کی مجموعی مالیت 54 ارب ڈالر بنتی ہے، جب کہ غیر دفاعی بجٹ میں سے اندازاً اِسی تناسب کی کٹوتی عمل میں لائی جائے گی۔

XS
SM
MD
LG