رسائی کے لنکس

logo-print

اپنی دو عدد ٹوئیٹس میں، ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’’ہم فلسطینیوں کو سالانہ کروڑوں ڈالر ادا کرتے ہیں، جس پیسے کی نہ تو قدر کی جاتی ہے نہ اُسے سراہا جاتا ہے۔ وہ طویل مدت سے مذاکرات نہیں کرنا چاہتے، نہ ہی اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ‘‘

صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے امریکہ کی جانب سے فلسطینی اتھارٹی کو دی جانے والی امداد میں کٹوتی کی دھمکی دی ہے، یہ بات تسلیم کرتے ہوئے کہ یوں لگتا ہے کہ مشرق وسطیٰ امن عمل میں تعطل واقع ہوگیا ہے۔

اپنی دو عدد ٹوئیٹس میں، ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’’ہم فلسطینیوں کو سالانہ کروڑوں ڈالر ادا کرتے ہیں، جس پیسے کی نہ تو قدر کی جاتی ہے نہ اُسے سراہا جاتا ہے۔ وہ طویل مدت سے مذاکرات نہیں کرنا چاہتے، نہ ہی اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ‘‘۔

اُنھوں نے مزید کہا کہ ’’ایسے میں جب فلسطینی امن بات چیت میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے، ہم کیوں اُن کو اتنی بڑی رقوم دیتے رہیں؟‘‘

ٹرمپ نے گذشتہ سال کے اواخر میں یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے اور اپنا سفارت خانہ وہاں منتقل کرنے کا اعلان کیا، جس پر متعدد لوگ ناراض ہوئے۔

ایک طویل عرصے سے ٹرمپ یہ کہتے رہے ہیں کہ وہ مشرق وسطیٰ امن کی ثالثی کے کردار کے خواہاں ہیں، جسے اُنھوں نے بالآخر ہونے والا ’’حتمی معاہدہ‘‘ قرار دیا ہے۔

صدر کی ٹوئیٹ سے قبل منگل کو اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نے انکشاف کیا تھا کہ اقوام متحدہ کے اُس ادارے کو رقوم کی فراہمی بند کی جائے گی جو انسانی بنیادوں پر فلسطینی مہاجرین کو امداد فراہم کرتا ہے۔

سفیر نکی ہیلی نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ ’’بنیادی طور پر صدر نے یہ کہا ہے کہ وہ مزید رقوم دینے کے خواہاں نہیں، جب تک فلسطینی مذاکرات کی میز پر واپس آنے پر اتفاق نہیں کرتے‘‘۔

’یو این آر ڈبلیو اے‘ کی ویب سائٹ کے مطابق، ادارے کو امریکہ سب سے زیادہ رقوم فراہم کرتا ہے، جس کے لیے سال 2016ء میں تقریباً 37 کروڑ ڈالر امداد دینے کا وعدہ کیا گیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG