رسائی کے لنکس

logo-print

شام: مغوی مبصرین کی رہائی کے لیے عالمی دبائو میں اضافہ


تنظیم نے عالمی رضاکاروں کو اس لیے اغوا کیا ہے تاکہ وہ شامی حکومت پر علاقے پر حملے اور بمباری بند کرنے کے لیے دبائو ڈال سکے: ترجمان

شام میں باغیوں کے ہاتھوں اغوا ہونے والے اقوامِ متحدہ کے 21 اہلکاروں کی رہائی کے لیے عالمی برادری کے دبائو میں اضافہ ہورہا ہے جب کہ شامی حزبِ اختلاف کے ایک ترجمان نے یقین دہانی کرائی ہے کہ مغویوں کو جلد رہا کردیا جائے گا۔

مغربی ممالک کے حمایت یافتہ شامی حزبِ اختلاف کے اتحاد 'سیرین نیشنل کولیشن' کے ترجمان ہشام مروہ نے جمعرات کو ترکی کے شہر استنبول میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے یقین دلایا کہ عالمی ادارے کے اہلکاروں کو جلد رہا کردیا جائے گا۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ مغوی اہلکار شام میں اقوامِ متحدہ کے مبصر کے طور پرتعینات تھے اور انہوں نے کسی فوجی کاروائی یا آپریشن میں حصہ نہیں لیا تھا۔

برطانیہ میں قائم شامی حزبِ اختلاف کی حامی تنظیم 'سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس' کے ترجمان رامی عبدالرحمن کے مطابق انہوں نے اور دیگر رہنمائوں نے بھی باغیوں کو احساس دلایا ہے کہ عالمی ادارے کے امن رضاکاروں کو حراست میں لینا ان کی غلطی ہے۔

مغوی اہلکار اقوامِ متحدہ کے امن مبصرین کے 1000 سے زائد نفری والے اس دستے کا حصہ ہیں جو گولان ہائیٹس کے علاقے میں اسرائیل اور شام کے درمیان جنگ بندی کی نگرانی پر مامور ہے۔

ان اہلکاروں کو باغیوں کی 'شہدائے یرموک' نامی تنظیم نے بدھ کو حراست میں لیا تھا۔

'آبزرویٹری' کے ترجمان کے مطابق اغواکاروں کی تنظیم کسی بڑے اتحاد کا حصہ نہیں اور اپنے طور پر علاقے کے دیہات میں سرگرم ہے۔

ترجمان کے مطابق تنظیم نے عالمی رضاکاروں کو اس لیے اغوا کیا ہے تاکہ وہ شامی حکومت پر علاقے پر حملے اور بمباری بند کرنے کے لیے دبائو ڈال سکے۔

مغوی اہلکاروں کی اکثریت کا تعلق فلپائن سے ہے۔ 'آبزرویٹری' نے مغوی اہلکاروں کی ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں ایک کپتان کا کہنا ہے کہ وہ اس کے تمام ساتھی خیریت سے ہیں۔

اقوامِ متحدہ اور فلپائن، دونوں نے ہی مبصرین کے اغوا کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے جب کہ عالمی ادارے کے عہدیدار باغیوں کے ساتھ مغویوں کی رہائی کے لیے مذاکرات کر رہے ہیں۔
XS
SM
MD
LG