رسائی کے لنکس

logo-print

عثمان بزدار کو عمران خان کا اعتماد حاصل ہے: گورنر پنجاب


گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور۔

پاکستان کے صوبۂ پنجاب کے گورنر چوہدری سرور کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان واضح کر چکے ہیں کہ عثمان بزدار ہی وزیر اعلٰی پنجاب کے عہدے پر برقرار رہیں گے۔

’وائس آف امریکہ‘ کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں چوہدری سرور کا کہنا تھا کہ پارلیمانی نظامِ حکومت میں وزیرِ اعظم اور وزیرِ اعلٰی اپنی کابینہ میں ردّوبدل کر سکتے ہیں۔

چوہدری سرور کا کہنا تھا کہ حال ہی میں پنجاب میں جو تبدیلیاں کی گئیں اس میں وزیرِ اعظم کی رضامندی شامل تھی۔ وزیرِ اعلٰی پنجاب نے وزیرِ اعظم کی تائید کے ساتھ یہ فیصلے کیے۔

خیال رہے کہ گزشتہ دنوں وزیر اعلٰی پنجاب کے ترجمان ڈاکٹر شہباز گل مستعفی جب کہ مشیر برائے وزیرِ اعلٰی عون چوہدری کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔

'گزشتہ حکومت کے منصوبے مکمل کریں گے'

چوہدری سرور کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت گزشتہ دورِ حکومت میں شروع ہونے والے تمام منصوبے مکمل کرے گی۔

لاہور میں زیرِ تعمیر اورنج لائن ٹرین کا ذکر کرتے ہوئے گورنر پنجاب کا کہنا تھا کہ اس منصوبے پر 200 ارب لاگت آ چکی ہے، اسے اب پایۂ تکمیل تک پہنچایا جائے گا۔ یہ عوام کا پیسہ ہے اسے ضائع نہیں ہونے دیا جائے گا۔

خیال رہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف گزشتہ حکومت کی جانب سے شروع کیے جانے والے اورنج لائن ٹرین منصوبے پر شدید تنقید کرتی رہی ہے۔ خود وزیرِ اعظم عمران خان متعدد بار ایسے منصوبوں کو ملکی معیشت پر بوجھ قرار دیتے رہے ہیں۔

گورنر پنجاب نے اعتراف کیا کہ پنجاب میں شعبۂ صحت میں کئی مسائل موجود ہیں لیکن وہ پرامید ہیں کہ پنجاب کی وزیرِ صحت انہیں حل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گی۔

'مولانا فضل الرحمٰن سے کوئی خطرہ نہیں'

گورنر پنجاب کا کہنا تھا کہ حالات تقاضا کرتے ہیں کہ حکومت مخالف احتجاج کی بجائے کشمیر کے معاملے پر یکجہتی کا مظاہرہ کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ وہ پر امید ہیں کہ بڑی سیاسی جماعتیں مولانا فضل الرحمٰن کے اسلام آباد مارچ کا حصہ نہیں بنیں گی۔

'کابینہ میں ردوبدل کا اختیار وزیر اعلٰی کے پاس ہے'
please wait

No media source currently available

0:00 0:03:13 0:00

یاد رہے کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے اعلان کیا ہوا ہے کہ وہ اکتوبر میں حکومت کے خلاف اسلام آباد کی جانب آزادی مارچ کریں گے۔ مولانا فضل الرحمٰن کا دعویٰ ہے کہ ان کے آزادی مارچ میں 15 لاکھ افراد شریک ہوں گے۔

حزبِ اختلاف کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری واضح کر چکے ہیں کہ وہ مذہب کے نام پر ہونے والی کسی بھی سیاسی سرگرمی میں حصّہ نہیں لیں گے۔ البتہ مولانا فضل الرحمٰن پر امید ہیں کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی بھی ان کے آزادی مارچ میں شریک ہوں گی۔

'کرتار پور کے علاوہ بھارت سے کسی معاملے پر بات نہیں ہو گی'

گورنر پنجاب کا کہنا تھا جب تک بھارت کشمیر کے حوالے سے اپنے 5 اگست کے اقدامات کو واپس نہیں لے لیتا اس وقت تک نئی دہلی سے کسی بھی قسم کی کوئی بات چیت نہیں ہو گی۔ لیکن انہوں نے یہ واضح کیا کہ کرتار پور راہداری کے معاملے پر بھارت سے رابطے میں رہیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ کرتار پور راہداری کا 85 فی صد کام مکمل ہو چکا ہے۔ وزیرِ اعظم عمران خان 9 نومبر کو اس راہداری کا باضابطہ افتتاح کریں گے۔

گورنر پنجاب کا کہنا تھا کہ افتتاحی تقریب میں بھارتی حکام کو بھی شرکت کی دعوت دی جائے گی۔

چوہدری سرور نے کہا کہ 27 ستمبر کو اقوامِ متحدہ میں وزیرِ اعظم پاکستان کے خطاب کا محور کشمیر ہو گا۔

'بریگزٹ کا اثر برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں پر بھی پڑے گا'

گورنر پنجاب کا کہنا تھا کہ برطانیہ بریگزٹ سے متعلق جو بھی فیصلہ کرے گا اس کا براہ راست اثر وہاں مقیم کمیونٹیز پر پڑے گا۔

چوہدری سرور خود بھی برطانوی رکنِ پارلیمنٹ رہ چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر وہ برطانیہ میں ہوتے تو وہ بھی بریگزٹ کے خلاف ووٹ دیتے۔

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب پر گورنر پنجاب کا کہنا تھا کہ پاکستان نے کالعدم تنظیموں کے خلاف کریک ڈاؤن کے ضمن میں خاطر خواہ اقدامات کیے ہیں۔ لہذٰا انہیں امید ہے کہ پاکستان ایف اے ٹی ایف کو مطمئن کر پائے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG