رسائی کے لنکس

logo-print

سرکاری عمارت میں گل پانڑہ کی ویڈیو پر تنازع، تحقیقات کا حکم


گل پانڑہ نے ضلع خیبر میں سرکاری عمارت میں ٹک ٹاک ویڈیو بنائی تھی۔ مسلم لیگ کے رہنما خضر حیات کی اس پر تحریری معافی نامے نے معاملے کو نئی شکل دے دی ہے۔

خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والی گلوکارہ گل پانڑہ ٹک ٹاک کی ایک ویڈیو کی وجہ سے تنازع میں گھر گئی ہیں۔

صوبے کے وزیرِ اعلیٰ محمود خان نے گل پانڑہ کی جانب سے ضلع خیبر کے ڈپٹی کمشنر کی سرکاری رہائش گاہ میں ویڈیو بنانے کا نوٹس لیتے ہوئے معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

گل پانڑہ کی ویڈیو اتوار کو سامنے آئی تھی جو مبینہ طور پر گزشتہ ہفتے لنڈی کوتل میں واقع ڈپٹی کمشنر کی رہائش گاہ کے احاطے میں ریکارڈ کی گئی تھی۔

گلوکارہ کی ویڈیو 16 سیکنڈز کی ہے جس میں وہ ایک گانے پر رقص کر رہی ہیں۔

وزیرِ اعلیٰ محمود خان نے ویڈیو سامنے آنے کے بعد حکام سے استفسار کیا ہے کہ گل پانڑہ کو سرکاری عمارت میں داخلے کی اجازت کس نے اور کیوں دی؟

معاملے کی تحقیقات کے لیے وزیرِ اعلیٰ نے ہوم سیکریٹری کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دے دی ہے جس نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

پشاور سے وائس آف امریکہ کے نمائندے شمیم شاہد کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پشاور سے تعلق رکھنے والے ایک رہنما کے اس معاملے پر تحریری معافی نامے نے معاملے کو نئی شکل دے دی ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما ارباب خضر حیات نے پیر کو ایک بیان میں اعتراف کیا کہ گل پانڑہ ان کے اہل خانہ کے ہمراہ وہاں گئی تھیں اور انہوں نے نا دانستگی میں ویڈیو بنائی جس پر انہوں نے ضلع خیبر کی انتظامیہ سے معافی مانگی ہے۔

خیبر کی ضلعی انتظامیہ نے ابھی تک ارباب خضر حیات کے معافی نامے سے متعلق کوئی ردِ عمل ظاہر نہیں کیا ہے۔ البتہ ایک مقامی عہدیدار نے اس معاملے میں دو اہلکاروں کو معطل کیے جانے کی تصدیق کی ہے۔

اُدھر حزبِ اختلاف میں شامل جماعتِ اسلامی کے ضلع خیبر سے تعلق رکھنے والے کارکنوں نے اس واقعے کے خلاف لنڈی کوتل میں احتجاج کیا ہے اور تمام سرکاری دفاتر و املاک میں موسیقی کے پروگرامات پر پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG