رسائی کے لنکس

'افغان امن عمل میں ناکامی کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کی کوشش ہو رہی ہے'


پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی

پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ افغان امن مذاکرات میں ناکامی کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کی کوشش ہو رہی ہے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستان افغان امن عمل میں معاونت کرتا رہا ہے لیکن وہ افغانستان میں امن کا ضامن نہیں ہے۔

وزیرِ خارجہ قریشی نے یہ بات پیر کو اسلام آباد میں پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان کی صدارت میں افغانستان کی صورتِ حال سے متعلق ہونے والے ایک اجلاس کے بعد ایک نیوز کانفرنس کے دوران کہی۔

یادر ہے کہ حال ہی میں افغانستان کی تازہ صورتِ حال سے متعلق ہونے والے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس کے دوران ایک افغان سفارت کار نے افغانستان کی موجودہ صورتِ حال کا ذمے دار پاکستان کو قرار دیتے ہوئے پاکستان پر طالبان کی حمایت کا الزام عائد کیا تھا۔

شاہ محمود قریشی نے افغان سفارت کار کے بیان کو بین الاقوامی برادری کو "گمراہ کرنے کی کوشش" قرار دیتے ہوئے کہا کہ افغان رہنماؤں کو پاکستان پر الزام تراشی سے گریز کرنا چاہیے۔

اُں کا کہنا تھا کہ افغان تنازع کا دیرپا حل افغان دھڑوں کے مابین بامعنی مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

افغانستان سے متعلق اقوامِ متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کے اجلاس کی صدارت بھارت کر رہا تھا جس میں پاکستانی حکام کے بقول پاکستانی مندوب کو مؤقف پیش کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ بھارت کو سلامتی کونسل کے صدر کی حیثیت سے ایسا رویہ زیب نہیں دیتا۔

یاد رہے کہ بھارت نے یکم اگست کو رواں ماہ کے لیے سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن کی حیثیت سے کونسل کی صدارت سنبھالی ہے۔

پاکستان کے وزیرِ خارجہ نے افغانستان کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورتِ حال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے افغانستان میں امن و استحکام کے لیے بھرپور کردار ادا کیا ہے۔

ان کے بقول افغانستان میں قیامِ امن کے معاملے میں پاکستان، بین الاقوامی برادری اور امریکہ کا مؤقف ایک ہی ہے۔ لیکن ان کے بقول افغانستان میں قیامِ امن کے لیے بین الاقوامی برادری کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔

وزیرِ خارجہ کے بقول افغانستان کا امن پاکستان اور امریکہ کے یکساں مفاد میں ہے اور اس کے لیے دونوں ممالک کو مل کر کام کرنا ہو گا۔

پاکستان کے وزیرِ خارجہ قریشی نے کہا کہ پاکستان کو افغانستان میں تشدد اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان فوجی طاقت کے زور پر افغانستان پر کنٹرول حاصل کرنے کے خلاف ہے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ ایسی کوئی بھی کوشش افغانستان میں خون ریزی کا باعث بنے گی۔

عالمی برادری اور امریکہ کا یہ مؤقف ریا ہے کہ پاکستان طالبان پر اپنا اثرو رسوخ استعمال کرتے ہوئے اُنہیں تشدد ختم کرنے اور مذاکرات شروع کرنے کے لیے قائل کرے۔

بین الاقوامی امور کی تجزیہ کار ہما بقائی کا کہنا ہے اگرچہ ماضی میں پاکستان کا طالبان پر اثرو رسوخ رہا ہے اور پاکستان نے امریکہ اور طالبان کے درمیان امن معاہدہ کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔ لیکن افغانستان سے غیر ملکی فورسز کے انخلا کے اعلان کے بعد پاکستان کے طالبان پر اثر و رسوخ میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔

ہما بقائی کا کہنا تھا کہ اگرچہ پاکستان نے دوحہ معاہدے میں اپنا کردار ادا کیا۔ لیکن ان کے بقول اس کے باوجود اس خدشے کا اظہار کیا جاتا رہا تھا کہ اگر افغانستان میں امن قائم نہیں ہو گا تو اس کا ذمے دار پاکستان کو قرار دیا جائے گا۔

بین الاقوامی اُمور کے ماہر نجم رفیق کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی برادری میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ افغانستان میں امن عمل اس لیے تعطل کا شکار ہے کیوں کہ پاکستان اپنا کردار مؤثر انداز میں ادا نہیں کر رہا۔

ان کے بقول افغانستان میں چین، امریکہ، روس اور پاکستان سمیت دنیا کے تمام اہم ممالک کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔

تجزیہ کار نجم رفیق کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی برادری کو پاکستان سے متعلق اپنے اس تاثر کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔

یاد رہے کہ افغانستان سے غیر ملکی فورسز کے انخلا کا عمل رواں ماہ کے اواخر میں مکمل ہو جائے گا۔ لیکن دوسری جانب افغانستان میں طالبان کی پیش قدمی جاری ہے اور اُنہوں نے ملک کے کم سے کم چار صوبائی دارالحکومتوں پر قبضے کا دعویٰ کیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG