رسائی کے لنکس

سانحہ یوحنا آباد: ملزمان کی بریت کے خلاف ہائی کورٹ جانے کا فیصلہ


(فائل فوٹو)

انسدادِ دہشت گردی لاہور کی خصوصی عدالت نے 30 جنوری 2020 کو سانحہ یوحنا آباد میں حافظ نعیم اور بابر نعمان کو زندہ جلانے کے مقدمے کا پانچ سال بعد فیصلہ سنایا۔ فیصلے کے خلاف سرکاری وکیل نے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

خصوصی عدالت کے جج ارشد حسین بھٹہ نے یوحنا آباد میں حافظ نعیم اور بابر نعمان کو زندہ جلانے کے مقدمے میں نامزد ملزمان کی جانب سے عدالت میں راضی نامہ پیش کیے جانے پر مسیحی برادری کے تمام 40 افراد کو بری کر دیا ہے۔

ملزمان کی جانب سے درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ ان کا راضی نامہ ہو چکا ہے۔ لہٰذا اُنہیں رہا کیا جائے۔ عدالت نے ملزمان کی درخواست پر مقدمے کے ورثا محمد اقبال، محمد نواز اور خدیجہ بی بی کو طلب کیا اور ان کے بیان قلم بند کیے۔

یوحنا آباد کیس میں پانچ سال بعد مقدمے کے مدعیوں نے دفعہ 345 کے تحت صلح کی درخواست عدالت میں جمع کرائی تھی۔ جیل انتظامیہ نے مقدمے کے تمام ملزمان کو جیل سے عدالت میں پیش کیا تھا۔ انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے مدعیوں کے دلائل سننے کے بعد تمام 40 ملزمان کو مقدمے میں بری کر دیا۔

لاہور کے علاقے یوحنا آباد میں 2015 میں مسیحی برادری کی عبادت گاہوں پر دو بم دھماکوں کے بعد پُر تشدد احتجاج پر پولیس نے 42 افراد کے خلاف مقدمات درج کیے تھے۔

یوحنا آباد میں چرچ دھماکوں کے بعد مبینہ طور پر مشتعل افراد نے علاقے سے پولیس کو نکال دیا تھا اور ہوائی فائرنگ کی تھی۔ مشتعل افراد نے آس پاس کے تمام بازار اور دکانیں بند کرا دی تھیں اور پولیس کو جائے وقوعہ تک پہنچنے نہیں دیا گیا تھا۔

مشتعل افراد نے موقع پر موجود دو افراد کو تشدد کا نشانہ بنایا تھا اور بعد ازاں انہیں زندہ جلا دیا گیا تھا۔ مشتعل مظاہرین کے ہاتھوں قتل ہونے والے افراد کی شناخت حافظ محمد نعیم اور بابر نعمان کے نام سے کی گئی تھی۔

حافظ نعیم شیشہ کاٹنے کا کام کرتے تھے جب کہ بابر نعمان ایک گارمنٹ فیکٹری میں ملازم تھے۔ حالات پر قابو پانے کے لیے اُس وقت کی حکومت کو پنجاب رینجرز کو طلب کرنا پڑا تھا۔

پولیس نے موبائل فون فوٹیجز، تصاویر اور نادرا ریکارڈ کے ذریعے 60 سے زائد ملزمان کو گرفتار کیا جن میں سے بیشتر کو عدم ثبوت کی بنا پر رہا کر دیا گیا تھا۔

یوحنا آباد دھماکوں کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے گروپ جماعت الاحرار نے قبول کی تھی۔

سانحہ یوحنا آباد کا مقدمہ تھانہ نشتر کالونی میں درج کیا گیا تھا اور کیس میں 42 ملزمان نامزد تھے۔ دو ملزمان جیل میں بیماری کے باعث انتقال کر گئے تھے۔

عدالت نے جمعرات کو ورثا کے بیانات کی روشنی میں تمام 42 ملزمان کو بری کر دیا جن میں سے دو دوران قید انتقال کر چکے ہیں۔

کیس میں ملزمان کے وکیل اسد جمال اور سرکاری وکیل عبد الرّوف وٹو بطور قانونی ماہرین یہ سمجھتے ہیں کہ انسدادِ دہشت گردی کی دفعات کے تحت چلنے والے مقدمے میں صلح کی بنیاد پر ملزمان کی رہائی نہیں ہو سکتی۔

ان کے بقول ماضی میں عدالتیں ایسے ملزمان کی سزاؤں میں کمی یا تبدیلی کر چکی ہیں۔ لیکن سزاؤں کو مکمل طور پر ختم یا ملزمان کو رہا نہیں کیا گیا۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے چند ملزمان کے وکیل اسد جمال نے بتایا کہ ماضی میں کچھ ایسی مثالیں موجود ہیں جہاں سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ نے ایسے مقدمات میں ملزمان کی سزا کو کم کیا ہے یا سزائے موت کو عمر قید میں بدلا ہے۔ لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا کہ سزا ہی مکمل طور پر ختم کر دی گئی ہو۔

اسد جمال کہتے ہیں کہ ملزمان کے خلاف کوئی ٹھوس شواہد موجود نہیں تھے۔ لہٰذا اُن کے خلاف کیس بنتا ہی نہیں تھا۔ ان کے بقول فوجداری مقدمات میں ملزمان کے خلاف عدالت میں ٹھوس شواہد پیش کرنے ہوتے ہیں۔ اِس کیس میں حکومت پر بہت دباؤ تھا تو انہوں نے دباؤ میں آ کر بہت ساری گرفتاریاں کیں۔

انہوں نے کہا کہ ملزمان کی جو شناخت پریڈ کرائی گئی وہ بھی قانونی طور پر ٹھیک نہیں تھی۔ ملزمان کی شناخت پریڈ کرانے والوں میں پانچ پولیس اہلکار تھے جن میں سے دو انسپکٹر تھے۔ اسد جمال کے بقول ملزمان کے خلاف فرانزک اور دیگر دستیاب شواہد سے بھی کچھ ثابت نہیں ہوا اور یہ سارا کیس شک کی بنیاد پر بنایا گیا تھا۔

پنجاب پراسیکیوشن ڈپارٹمنٹ کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل عبد الرّؤف وٹو کہتے ہیں کہ عدالت کا یہ فیصلہ اُن کے لیے بہت حیران کن ہے۔ ابھی عدالت کے تفصیلی فیصلے کا انتظار ہے جس کے بعد وہ انسدادِ دہشت گردی عدالت کے فیصلے کے خلاف عدالتِ عالیہ لاہور سے رجوع کریں گے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے عبد الرّوف وٹو نے کہا کہ اس مقدمے میں ملزمان کے خلاف مضبوط شواہد موجود تھے جو عدالت میں پیش کیے گئے تھے۔ ملزمان کی شناخت پریڈ بھی ہو چکی تھی جس میں انہیں شناخت کیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ملزمان سے جرم میں استعمال ہونے والے آلات بھی برآمد ہو چکے تھے۔ عبد الرّوف وٹو نے بتایا کہ انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں چلنے والے کیسوں میں فریقین کے درمیان صلح کی بنیاد پر رہائی نہیں ہو سکتی۔

دوسری جانب بشپ آف لاہور عرفان جمیل کہتے ہیں کہ عدالت نے جو فیصلہ کیا ہے وہ تمام شواہد، ثبوتوں اور حقیقت کو سامنے رکھ کر کیا گیا ہے۔ وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ اِس مقدمے میں کسی کو غلط یا صحیح نہیں کہہ سکتے۔ وہ تو صرف اتنا جانتے ہیں کہ عدالتوں نے قانون کے مطابق درست فیصلہ کیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG