رسائی کے لنکس

logo-print

متنازع ٹیلی ویژن اشتہار پر پی ٹی آئی وزرا کی معذرت


فائل

قومی اسمبلی اجلاس میں علی وزیر کے نقطہٴ نظر کی تائید کرتے ہوئے، وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک نے اشتہار پر معذرت کی۔

وفاقی وزیر اطلاعات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ ٹیلی ویژن چینلوں نے اشتہار چند ہی بار نشر کیا تھا، جسے دھیان مبذول کرائے جانے کے فوری بعد روک دیا گیا۔

اپنی ایک ٹوئیٹ میں، اُنھوں نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ ’’مسترد ہونے والے اشتہار کو پھیلانے سے گریز کریں‘‘۔

اطلاعات کے مطابق اس سے قبل، قومی اسمبلی کے رُکن، علی وزیر نے منگل کے روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں حکومت پنجاب کی جانب سے متنازع عام اعلان پر اعتراض کیا، جو مبینہ طور پر پختون برادری کے خلاف نسل پرستی پر مبنی تھا۔

جونہی وزیر خزانہ اسد عمر نے اپنی بجٹ تقریر مکمل کی، ’پشتون تحفظ تحریک (پی ٹی ایم)‘ کے راہنما، علی وزیر نے پنجاب حکومت کی جانب سے اشتہاری مہم پر نکتہٴ اعتراض اٹھایا۔

علی وزیر کے نقطہٴ نظر کی تائید کرتے ہوئے، وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک نے اشتہار پر معذرت کی۔

خٹک نے کہا کہ ’’یہ اشتہار لوگوں میں اشتعال پیدا کرنے کا موجب بن سکتا ہے۔ (ہم نے) حکومتِ پنجاب کو احکامات دیے ہیں کہ یہ اشتہار فوری طور پر واپس لیا جائے‘‘۔

بتایا گیا ہے کہ مملکتی وزیر داخلہ شہریار آفریدی نے خٹک کے خیالات کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ ’’کسی خاظ برادری کو ہدف بنانے سے جذبات پیدا ہوتے ہیں اور ہم ایسے تمام اقدامات کی مخالف ہیں‘‘۔

تاہم، پی ٹی ایم کے رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے کہا کہ ’’حکومت پنجاب کی جانب سے معذرت آنی چاہیئے‘‘۔

پندرہ ستمبر کو وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے دعویٰ کیا تھا کہ زیر بحث اشتہار کو نشر ہونے سے روک دیا گیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG