رسائی کے لنکس

logo-print

فوجی حکام سے ملاقاتوں پر پی ٹی ایم میں اختلافات


فائل فوٹو

پاکستان کی افواج کے اعلٰی افسران کے ساتھ مذاکرات اور ملاقاتوں کے معاملے پر پشتون تحفظ تحریک میں اختلافات پیدا ہو گئے ہیں اور پارٹی کے سینئر قائدین نے مقامی رہنماؤں کی فوجی حکام سے ملاقاتوں کی مخالفت کی ہے۔

اطلاعات کے مطابق پشتون تحفظ تحریک کے شمالی اور جنوبی وزیرستان کے رہنماؤں اور سرگرم کارکنوں کے وفود نے رواں ہفتے کور کمانڈر پشاور سے الگ الگ ملاقاتیں کیں جن میں لاپتا افراد کی بازیابی سمیت قبائلی علاقوں کے مسائل پر بات چیت کی گئی۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے ان ملاقاتوں پر کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔ لیکن شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے پی ٹی ایم کے ایک مقامی رہنما رضا وزیر نے ان ملاقاتوں کی تصدیق کی ہے۔

کور کمانڈر پشاور سے ملاقات کرنے والے پی ٹی ایم کے وفد میں شامل رضا وزیر نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ملاقات سے قبل رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ اور منظور پشتین کو اعتماد میں لیا تھا۔ ان کے بقول محسن داوڑ اس کے حق میں تھے تاہم تحریک کے سربراہ منظور پشتین نے ملاقات کی مخالفت کی تھی۔

رضا وزیر کا کہنا تھا کہ کور کمانڈر پشاور نے عید الفطر سے قبل 170 گمشدہ افراد کو بازیاب کرانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ ان کے بقول فوجی حکام نے یہ بھی یقین دہانی کروائی ہے کہ گرفتار افراد میں سے جو بھی بے قصور ہوا، اسے چھوڑ دیا جائے گا۔

تاہم پشتون تحفظ تحریک کے مرکزی رہنما اور رکن قومی اسمبلی علی وزیر نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ یہ وفود علاقائی مسائل کے سلسلے میں ملاقاتیں اور مذاکرات کر رہے ہیں جس پر ان کے بقول پارٹی کی مرکزی قیادت کو کوئی اعتراض نہیں۔

اُنہوں نے تصدیق کی کہ فوجی حکام سے ملاقاتیں کرنے والوں میں تنظیم کے سرگرم ارکان شامل ہیں جنہوں نے تنظیم کو فعال بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان افراد کے پاس علاقائی مسائل کے حل کے سلسلے میں کسی بھی عہدے دار کے ساتھ بات چیت اور ملاقات کا اختیار ہے۔

مرکزی سطح پر مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے

پشتوں تحفظ تحریک کے مرکزی رہنما منظور پشتین حال ہی میں سینیٹ کے ارکان کے ساتھ دو ملاقاتیں کر چکے ہیں۔ منظور پشتین کا کہنا تھا کہ سینیٹ اراکین نے ان کے مسائل آئین اور قانون کے تحت حل کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

جمعرات کی ملاقات میں پی ٹی ایم کے مطابق اراکین سینیٹ کے ساتھ مختلف معاملات پر مذاکرات ہوئے ہیں۔ جن میں بارودی سرنگوں کے خاتمے، جبری گمشدگیوں، اور ماورائے عدالت ہلاکتوں کے معاملات بھی زیر بحث آئے ہیں۔

خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ نے بھی پشتون تحفظ تحریک کے ساتھ مذاکرات کے لیے قبائلی اضلاع سے تعلق رکھنے والے اراکین پارلیمنٹ پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی تھی۔ تاہم پی ٹی ایم نے اس کمیٹی کے ساتھ مذاکرات شروع نہیں کئے۔

حال ہی میں ڈی جی، آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے پی ٹی ایم پر بیرونی فنڈنگ سے ملک دُشمن سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام لگایا تھا۔ ڈی جی، آئی ایس پی آر نے خبردار کیا تھا کہ پی ٹی ایم کو دی گئی مہلت اب ختم ہو گئی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG