رسائی کے لنکس

logo-print

'بلوچستان میں پی ٹی ایم کو کام نہیں کرنے دیا جا رہا'


پی ٹی ایم کے بلوچستان میں ہونے والے ایک دھرنے کا منظر (فائل فوٹو)

پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے ایک رہنما نے الزام لگایا ہے کہ بلوچستان میں ان کی تنظیم کے کارکنوں کو سکیورٹی اہلکار تشدد کا نشانہ بناتے ہیں اور انہیں کام نہیں کرنے دیا جا رہا۔

پی ٹی ایم بلوچستان کے سربراہ حُسین آغا ایڈووکیٹ نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا ہے کہ پی ٹی ایم تشدد کی سیاست کے خلاف ہے لیکن ان کے بقول ہمارے کارکنان کوئی جلسہ یا مظاہرہ کرتے ہیں تو اُن پر بد ترین تشدد کیا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کارکنان پر تشدد کا یہ سلسلہ تنظیم کے مرکزی رہنما ارمان لونی کی ہلاکت کے بعد شروع ہوا ہے جس سے بچنے کے لیے پی ٹی ایم کے کئی رہنما اور کارکن ان کے بقول روپوش ہوگئے ہیں۔

حُسین آغا کے مطابق پی ٹی ایم نے تمام کارکنوں کو سختی سے ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ سرکاری اداروں کے اہلکاروں کی طرف سے ہر طرح کے تشدد اور اشتعال کا صبر سے مقابلہ کریں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے کارکنوں کے والدین یا گھر کے دیگر افراد کو طلب کر کے اُنہیں اپنے بیٹوں اور بھائیوں کو پی ٹی ایم سے دور رکھنے کی ہدایات دی جاتی ہیں۔ لیکن ان کے بقول ہمارے کارکنوں نے یہ تمام حربے مسترد کر دیے ہیں۔

واضح رہے کہ بلوچستان سے مختلف قوم پرست پشتون جماعتوں کے کارکنان پشتون تحفظ موومنٹ میں شامل ہوئے ہیں اور پی ٹیم ایم کے رہنماؤں کی جانب سے گزشتہ چند ماہ کے دوران بلوچستان کے چند اضلاع میں بڑے اجتماعات بھی کیے گئے ہیں۔

پی ٹی ایم کے کئی رہنماﺅں کے خلاف جلسوں میں ریاستی اداروں کے خلاف مبینہ طور پر منفی بیانات دینے پر ایف آئی آر بھی درج کی جا چکی ہیں۔

لیکن بلوچستان کی صوبائی حکومت کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے پی ٹی ایم کے کارکنوں کی گرفتاری اور ان پر تشدد کے الزامات کو مسترد کیا ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں لیاقت شاہوانی کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت نے کسی جماعت کی سیاسی سرگرمیوں پر کوئی پابندی عائد نہیں کی ہے اور ہر سیاسی جماعت قانون کے مطابق صوبے میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھ سکتی ہے۔

یاد رہے کہ پشتون تحفظ موومنٹ کا قیام گزشتہ سال جنوری میں عمل میں آیا تھا جب کراچی میں مبینہ طور پر پولیس کے ہاتھوں ماورائے عدالت قتل کیے جانے والے نقیب اللہ محسود کے اہلِ خانہ کو انصاف کی فراہمی کے لیے اسلام آباد میں ایک دھرنا دیا گیا تھا۔

پی ٹی ایم کی طرف سے پشتون نوجوانوں کی مبینہ جبری گمشدگی اور ماورائے عدالت قتل کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن قائم کرنے اور سابق قبائلی علاقوں سے بارودی سرنگوں کے خاتمے کے مطالبات کیے گئے تھے۔

پی ٹی ایم کے دو رہنما محسن داوڑ اور علی وزیر 2018 کے عام انتخابات میں قومی اسمبلی کے رکن بھی منتخب ہوئے تھے جو کارکنوں کو سکیورٹی اداروں پر حملے کے لیے اُکسانے کے الزام میں ان دنوں زیرِ حراست ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG