رسائی کے لنکس

logo-print

گھروں میں کام کرنے والے ملازمین کے لیے قانون کی تیاری


ملک بھر میں گھروں میں کام کرنے والے ملازمین کی بڑی تعداد بچوں اور بچیوں پر مشتمل ہے جو کم عمری سے ہی گھروں میں کام کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ (فائل فوٹو)

نئے قانون کے تحت گھروں میں کام کرنے والے ہر ملازم کا بار کوڈ ہوگا اور ملازمین کے ساتھ نامناسب سلوک کی صورت میں مالک کو قید اور جرمانے کی سزا ہوسکے گی۔

پنجاب حکومت نے لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر گھریلو ملازمین کے تحفظ کے لیے قانون کا مسودہ تیار کرلیا ہے۔

نئے قانون کے تحت گھروں میں کام کرنے والے ہر ملازم کا بار کوڈ ہوگا اور ملازمین کے ساتھ نامناسب سلوک کی صورت میں مالک کو قید اور جرمانے کی سزا ہوسکے گی۔

لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس جواد الحسن نے جمعرات کو گھریلو ملازمین کے بارے میں قانون سازی نہ ہونے کے بارے میں درخواست کی سماعت کرتے ہوئے حکومتِ پنجاب کو ہدایت کی تھی کہ وہ گھروں میں کام کرنے والے بچوں کے حوالے سے قانون سازی کرے۔

دورانِ سماعت اسسٹنٹ ایڈوکیٹ جنرل پنجاب رائے شاہد سلیم نے عدالت کے روبرو ڈومیسٹک ورکرز بل 2018ء کا مسودہ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ گھریلو ملازمین کے تحفظ کے لیے پنجاب حکومت نے قانون کا مسودہ تیار کر لیا ہے جو ملک بھر میں اپنی نوعیت کا پہلا قانون ہوگا۔

پنجاب حکومت کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ نئے قانون کے ذریعے مالک اور ملازم کے درمیان پہلے معاہدہ ہوگا اور تنخواہ طے کی جائے گی.

ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے وائس آف امریکہ کو مجوزہ قانون کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ڈومیسٹک ورکرز کے قانون کے تحت صوبۂ پنجاب کے ہر ضلع میں ایک کمیٹی تشکیل دی جائے جو ملازم کی شکایت پر کارروائی کرے گی۔

ان کے بقول قانون کے تحت گھریلو ملازم کے ساتھ نامناسب سلوک پر ایک ہفتے سے پانچ برس تک قید اور جرمانے کی سزا بھی ہوسکتی ہے۔ پندرہ برس سے کم عمر کے کسی بچے کو گھریلو ملازم نہیں رکھا جاسکتا۔

واضح رہے کہ ملک بھر میں گھروں میں کام کرنے والے ملازمین کی بڑی تعداد بچوں اور بچیوں پر مشتمل ہے جو کم عمری سے ہی گھروں میں کام کرنا شروع کر دیتے ہیں۔

صوبۂ پنجاب میں بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی سرکاری ادارے 'چائلڈ پروٹیکشن بیورو' کے ایک افسر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ عدالتی حکم پر نئے قانون کا مسودہ تیار کیا جا رہا ہے جس سے قبل گھریلو ملازمین سے متعلق کوئی قانون نہیں تھا۔

انہوں نے بتایا کہ ان کے ادارے، پولیس یا محکمہ چائلڈ لیبر کے پاس ایسا کوئی ریکارڈ نہیں جس سے پتا چل سکے کہ صوبہ بھر میں گھروں میں کام کرنے یا کم عمری میں ملازمت کرنے والوں بچوں کی تعداد کتنی ہے۔

لیکن ان کے بقول صوبے کے جنوبی علاقوں سے بچوں کی بڑی تعداد گھروں میں کام کرنے کے لیے صوبے کے بڑے شہروں کا رخ کرتی ہے جن کی اجرت زیادہ تر ان کے والدین وصول کرتے ہیں۔

صوبہ پنجاب کے جنوبی ضلعے ملتان کے علاقے نیو ملتان کالونی کے ایک گھر میں کام کرنے والی سکینہ بی بی نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی ٓاٹھ سالہ بچی نگینہ کو اس لیے کام پر ساتھ لاتی ہیں کہ اُن کے گھر کا خرچہ پورا نہیں ہوتا۔

ان کے بقول نگینہ دورانِ ملازمت گھر کے چھوٹے موٹے کاموں میں ان کا ہاتھ بٹا دیتی ہے جس کے عوض ان کی بیٹی کو پینے کے لیے دودھ اور کھانا مل جاتا ہے۔

پاکستان میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر مہدی حسن نے بچوں سے متعلق عدالتی ہدایت پر وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس قانون کی بہت ضرورت تھی کیونکہ گھروں میں بہت چھوٹے بچوں کو ملازم رکھ لیا جاتا ہے۔ ایسی عمر میں بچوں کو کام نہیں کرنا چاہیے بلکہ اُنہیں اسکول جانا چاہیے۔

"حکومت صرف قانون نہ بنائے بلکہ اس پر عمل درآمد بھی کرائے کیوں کہ ہمارے ہاں قوانین تو بن جاتے ہیں لیک عمل درآمد نہیں ہوتا۔ گھروں میں جو بچے مدد کی غرض سے کام کرتے ہیں ان کے ساتھ ناروا سلوک رکھا جاتا ہے اور ایسے واقعات بڑے شہروں میں بھی ہو رہے ہیں۔"

بچوں کے متعلق 'ایچ آر سی پی' کے شعبے کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت ملک بھر میں کم وبیش 23 لاکھ بچے گھروں، ورکشاپس، ہوٹلوں اور مختلف جگہوں پر ملازمت کر رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG