رسائی کے لنکس

logo-print

پنجاب میں پولیس سربراہ کی بار بار تبدیلی، معاملہ ہے کیا؟


حکومت نے پنجاب پولیس کے انسپکٹر جنرل شعیب دستگیر (بائیں) کو عہدے سے ہٹا کر ان کی جگہ انعام غنی کو نیا آئی جی مقرر کیا ہے۔ (فائل فوٹو)

پاکستان کے صوبے پنجاب میں نئے انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس انعام غنی نے اپنا چارج سنبھال لیا ہے۔ تحریک انصاف کی دو سالہ حکومت میں صوبے میں پانچویں مرتبہ آئی جی کو تبدیل کیا گیا ہے۔

سابق آئی جیز کی تنظیم 'ایسوسی ایشن آف فارمر انسپکٹر جنرل پولیس پاکستان' نے پنجاب میں وقتاً فوقتاً آئی جیز کو تبدیل کیے جانے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

تنظیم کے اجلاس کے بعد جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی آئی جی کی مدت ملازمت دو سال ہوتی ہے لیکن پنجاب میں گزشتہ دو برس میں پانچویں بار آئی جی تبدیل کیے جانے سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ اُن کی عہدے پر مدت اوسطاً چار ماہ کر دی گئی ہے۔

مقامی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق سابق آئی جی پنجاب شعیب دستگیر اور کیپیٹل سٹی پولیس افسر (سی سی پی او) لاہور عمر شیخ کے درمیان اختلافات کے بعد آئی جی پنجاب کی تبدیلی عمل میں آئی۔

وزیرِ اعظم عمران خان نے بھی شعیب دستگیر کو عہدے سے ہٹا کر انعام غنی کی آئی جی پنجاب تعیناتی کی منظوری دی۔ جب کہ سی سی پی او لاہور عمر شیخ کو عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا جنہیں سات روز قبل ہی تعینات کیا گیا تھا۔

مقامی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق سی سی پی او نے ماتحت افسران کے اجلاس میں آئی جی کے بجائے ان کے احکامات کو ترجیح دینے کی ہدایات جاری کی تھی جس کے بعد آئی جی پنجاب شعیب دستگیر نے دفتر جانا چھوڑ دیا تھا۔

انہوں نے مبینہ طور پر وزیرِ اعظم اور وزیرِ اعلیٰ پنجاب سے اُن کی مشاورت کے بغیر لاہور کے پولیس کے سربراہ کی تعیناتی اور ان کے بیان کا شکوہ کیا۔ لیکن سی سی پی او کے خلاف کوئی کارروائی نہ ہوئی۔ اور نہ ان کی سرزنش کی گئی جس پر آئی جی نے کام سے معذرت کر لی۔

رپورٹس میں مزید بتایا گیا کہ اِسی دوران سینٹرل پولیس آفس میں پی ایس پی افسران کی ایسوسی ایشن کا اجلاس ہوا جس میں افسران نے آئی جی شعیب دستگیر کی حمایت کا اعلان کیا اور عمر شیخ کو اس میں شرکت کرنے نہیں دی گئی۔

یہ اجلاس ابھی جاری تھا کہ وفاق نے شعیب دستگیر کو آئی جی کے عہدے سے ہٹا دیا اور انعام غنی کو نیا آئی جی پنجاب تعینات کر دیا۔

اجلاس میں شریک ایک سابق آئی جی نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک ایسا موضوع ہے جس پر بات کرنا بہت مشکل ہے کیوں کہ تبدیل کیے جانے والے افسر اور نئے لگائے جانے والے افسر کے ساتھ انہوں نے کام کیا ہے۔

سابق آئی جی نے کہا کہ بار بار آئی جی کی تبدیلی سے یوں معلوم ہوتا ہے جیسے کوئی تماشہ لگایا ہوا ہے اور بحیثیت ادارہ پولیس کا مذاق بنایا گیا ہے۔ اِس سے زیادہ نقصان ایک باوردی ادارے کا اور کیا ہو گا؟

اُن کا مزید کہنا تھا کہ یوں بار بار آئی جی تبدیل کیے جانے پر محکمے کا بہت زیادہ نقصان ہوا ہے۔ حالیہ مسئلے کے بھی بہت منفی نتائج سامنے آئیں گے۔

سابق آئی جی پولیس کہتے ہیں کہ بار بار ایک ڈسپلن فورس کی کمان کو تبدیل کرنا پولیس کے لیے، عوام کے لیے اور بہتر طرز حکمرانی کے لیے بہت منفی بات ہے۔

پنجاب پولیس کے سربراہ کی بار بار تبدیلی پر سابق آئی جی نے مزید کہا کہ آپ اِس سے پہلے پانچ آئی جی تبدیل کر چکے ہیں جنہیں آپ نے خود چنا تھا اور وہ اچھے تھے۔ جب آپ آئی جی لگاتے ہیں تو آپ خود کہتے ہیں کہ وہ اچھے افسر ہیں اور تعریفیں کرتے ہیں۔ لیکن کچھ عرصے بعد وہ برا نظر آنے لگتا ہے۔ اِس کا مطلب ہے کہ آئی جی کا انتخاب غلط نہیں بلکہ اُسے منتخب کرنے والے کی غلطی ہے۔

حزبِ اختلاف کی سیاسی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) نے سابق آئی جی پنجاب کی تبدیلی کو لاہور کی ایک عدالت میں چیلنج کیا ہے۔

تجزیہ کاروں کی رائے

سینئر صحافی اور تجزیہ کار افتخار احمد کہتے ہیں کہ پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت کو دو صوبوں پنجاب اور سندھ میں مسائل کا سامنا ہے۔ سندھ حکومت آئی جی بدلنے کی بات کرتی ہے تو ٹال مٹول سے کام لیا جاتا ہے۔ جب کہ پنجاب میں فوراً آئی جی تبدیل کر دیا جاتا ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے افتخار احمد نے دعویٰ کیا کہ آئی جی پنجاب کو وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر اور معاون خصوصی شہباز گِل کے کہنے پر تبدیل کیا گیا ہے۔

افتخار احمد نے بتایا کہ جب آپ آئی جی کو سی سی پی او کے کہنے پر تبدیل کر دیں گے تو یہ چین آف کمانڈ کو توڑنے کا معاملہ ہے۔

اُن کے بقول اگر ساری باتیں خفیہ ہوتیں اور منظر عام پر نہ آتیں۔ تو سمجھا جاتا کہ آئی جی بدلنا حکومت کا کام ہے۔ سی سی پی او نے دفتر سنبھالنے کے بعد پولیس دربار میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ جو آدمی کہا کرتا تھا کہ میرا سی گریڈ ہے۔ اُس افسر کو پتا لگ جانا چاہیے کہ سی گریڈ کا افسر آج سی سی پی او لاہور لگ گیا ہے۔

دوران خطاب سی سی پی او نے کہا تھا کہ کوئی شخص بھی آئی جی سے رابطہ نہیں کرے گا اور اگر آئی جی آفس سے کوئی پیغام آتا ہے تو وہ بتائیں گے کہ اُس پر عمل کرنا ہے یا نہیں کرنا۔

سینئر صحافی اور تجزیہ کار حامد میر کہتے ہیں کہ یہ بہت غیر معمولی صورتِ حال ہے کہ دو سال میں پنجاب کے پانچ آئی جی تبدیل کر کے چھٹا آئی جی لگایا گیا ہے۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے حامد میر نے کہا کہ جب بھی کوئی آئی جی لگتا ہے تو وہ صوبے کے تمام 36 اضلاع کا دورہ کرتا ہے لیکن یوں معلوم ہوتا کہ کوئی بھی آئی جی یہ دورے نہیں کر سکا۔

حامد میر نے کہا کہ اِس طرح سے پولیس کا مورال ڈاؤن کرنا ایک بہت چھوٹا لفظ ہے یہ تو پولیس کو برباد کرنے کے مترادف ہے۔

ان کے بقول یوں لگتا ہے آپ پنجاب پولیس کا وہی حال کرنا چاہتے ہیں جو بلوچستان پولیس کا ہے۔ یعنی وہاں پر پورے صوبے میں پولیس کی کوئی رِٹ نہیں ہے۔ اِسی طرح پنجاب میں پولیس کاغذوں میں تو موجود ہو گی لیکن اُس کی رِٹ کوئی نہیں ہو گی۔

وزیرِ اعلیٰ پنجاب کی رائے

وزیرِ اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کہتے ہیں کہ آئی جی پنجاب کی تبدیلی کوئی انہونی بات نہیں ہے۔ ماضی میں بھی تبدیلیاں ہوتی رہی ہیں۔

لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ یہ حکومت کا استحقاق ہے کہ جس افسر کو جہاں چاہے تعینات کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ نئے آئی جی آئے ہیں اُن کو یہی ہدایات کیں ہیں کہ صوبے میں امن و امان کو بہتر کرنا اُن کی پہلی ذمہ داری ہے۔

وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ پہلے بھی جو حکومتیں رہی ہیں اُن میں بھی آئی جی اور دیگر افسر تبدیل ہوتے رہے ہیں۔ یہ کوئی پہلی مرتبہ نہیں ہو رہا۔ یہ انتظامی تبدیلیاں ہیں۔ حکومت جس کو چاہتی ہے افسر لگا دیتی ہے۔ کسی کو کسی کے تبادلے سے کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے۔

صحافی اور تجزیہ کار حامد میر سمجھتے ہیں کہ یوں معلوم ہوتا ہے جیسے عمران خان آئی جی کو کوئی خاص ٹاسک دیتے ہیں جب آئی جی سے وہ ٹاسک پورے نہیں ہوتے تو انہیں تبدیل کر دیا جاتا ہے۔

حامد میر نے کہا کہ اِس وقت پنجاب پولیس کے کسی بھی افسر سے آف دی ریکارڈ بات کر کے دیکھ لیں سب کا مورال ڈاؤن ہے۔ ابھی سے مورال ڈاؤن نہیں ہے پچھلے ڈیڑھ سال سے مورال ڈاؤن ہے۔

تجزیہ کار افتخار احمد کہتے ہیں کہ یوں بار بار پولیس کے سربراہ کو تبدیل کرنا صوبائی خود مختاری میں مداخلت کے مترادف ہے۔

ان کے بقول کل تک وزیرِ اعلیٰ پنجاب آئی جی کی تبدیلی سے متعلق لا علم تھے۔ شعیب دستگیر کے بارے میں عمران خان اگست کے آخری ہفتے میں کہتے ہیں کہ یہ بہت زبردست آدمی ہیں۔ جب کہ ستمبر کے پہلے ہفتے میں اُنہیں تبدیل کر دیا جاتا ہے۔

تحریک انصاف کی حکومت میں کون کب تبدیل ہوا؟

تحریکِ انصاف نے 23 ماہ کے عرصے میں 11 مرتبہ پنجاب کے سیکرٹری آب پاشی، نو مرتبہ سیکرٹری ہائر ایجوکیشن اور پانچ مرتبہ انسپکٹر جنرل آف پنجاب پولیس کو تبدیل کیا ہے۔

پی ٹی آئی کی حکومت چار مرتبہ چیئرمین ایف بی آر، چار مرتبہ چیئرمین بورڈ آف انوسیٹمنٹ، چار مرتبہ کامرس سیکرٹری، چار مرتبہ کمشنر راولپنڈی ڈویژن اور چار مرتبہ سیکرٹری داخلہ کو تبدیل کر چکی ہے۔

اِسی طرح تحریکِ انصاف کی حکومت تین مرتبہ چیف سیکرٹری پنجاب، تین مرتبہ وفاقی فنانس سیکرٹری، تین مرتبہ چیئرمین سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان، تین مرتبہ سیکرٹری اطلاعات، تین مرتبہ صوبائی وزیرِ خوراک اور تین مرتبہ وزیرِ انڈسٹریز کو تبدیل کر چکی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG