رسائی کے لنکس

logo-print

قصور: 'پولیس نے بھیس بدل کر پکوڑے اور قلفیاں بھی فروخت کیں'


پولیس اہلکاروں نے غبارے اور سگریٹ فروخت کیے جب کہ کچھ نے رکشے بھی چلائے۔ (فائل فوٹو)

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع قصور کی تحصیل چونیاں میں کم سن بچوں کے اغوا، جنسی زیادتی اور بعد میں قتل کر دینے والے ملزم سہیل شہزاد کو اس کے استاد کی جانب سے 12 سال تک جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف ہوا ہے۔ پولیس نے سہیل شہزاد کے اُستاد کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔

سہیل شہزاد کو کم سن بچوں کے اغوا اور قتل کے الزامات کے تحت پولیس نے چند روز قبل گرفتار کر لیا تھا۔

سہیل شہزاد کون ہے؟

تحصیل چونیاں میں جون سے ستمبر کے دوران چار بچوں محمد عمران، فیضان، علی حسنین اور سلمان اکرم کو جنسی زیادتی کے بعد قتل کیا گیا۔ پولیس نے اِن چاروں بچوں کے قتل میں ملوث مبینہ ملزم سہیل شہزاد کو گرفتار کر لیا ہے۔

پولیس کے مطابق، سہیل شہزاد کی عمر 27 سال ہے جو چونیاں کا رہائشی ہے۔ مگر کام کے سلسلے میں اُس کا پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور آنا جانا لگا رہتا ہے۔ چونیاں پولیس کے مطابق سہیل شہزاد کے گھر والوں کو نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے تا کہ علاقے کے مشتعل افراد اُنہیں کوئی نقصان نہ پہنچا سکیں۔

سہیل شہزاد
سہیل شہزاد

سہیل شہزاد کیا کرتا تھا؟

چاروں بچوں کے مبینہ قاتل ملزم سہیل شہزاد کے پیشے کے حوالے سے مختلف باتیں سامنے آ رہی ہیں۔ تاہم، ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کے اصل میں ملزم سہیل شہزاد کرتا کیا تھا۔

یکم اکتوبر 2019 کو وزیر اعلٰی پنجاب نے ایک پریس کانفرنس میں سہیل شہزاد کی گرفتاری کا اعلان کیا تھا۔ اُسی پریس کانفرنس میں شریک آئی جی پنجاب کیپٹن ریٹائرڈ عارف نواز نے بتایا تھا کہ ملزم تندور پر روٹیاں لگاتا تھا۔ اِس کیس کی تفتیش کے لیے بنائی جانے والی جے آئی ٹی کے سربراہ آر پی او شیخوپورہ سہیل حبیب کے مطابق ملزم سہیل شہزاد کا کوئی ایک کام یا کاروبار نہیں تھا۔ وہ مختلف اوقات میں مختلف کام کرتا تھا۔

آر پی او شیخوپرہ نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ سہیل شہزاد لاہور میں تندور پر روٹیاں لگاتا تھا جب کہ چونیاں میں رکشہ چلاتا اور محنت مزدوری کیا کرتا تھا۔

سہیل شہزاد کا استاد

پولیس کے مطابق، بچوں کا ریپ کر کے انہیں قتل کرنے والا ملزم سہیل شہزاد خود بھی 12 سال تک جنسی زیادتی کا نشانہ بنتا رہا۔

مبینہ طور پر، جنسی زیادتی اُس کا اُستاد حبیب اللہ نامی شخص کیا کرتا تھا جسے پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔

سہیل تاجک نے بتایا کہ سہیل شہزاد سے جنسی زیادتی کرنے والا کوئی اور نہیں بلکہ اُس کا اُستاد تھا جس نے سہیل شہزاد کو روٹیاں لگانا سکھائی تھیں۔

ریجنل پولیس افسر سہیل حبیب تاجک
ریجنل پولیس افسر سہیل حبیب تاجک

ان کے بقول “سہیل شہزاد لاہور ہائی کورٹ کے قریب ایک ہوٹل پر روٹیاں لگاتا تھا۔ ملزم نے دوران تفتیش پولیس کو بتایا تھا کہ وہ گزشتہ 12 برس سے جنسی زیادتی کا شکار ہوتا رہا ہے اور اس کے ساتھ زیادتی حبیب اللہ اُس کا تندورچی استاد کیا کرتا تھا۔ جسے پولیس نے دو اکتوبر کو چونیاں کی ایک فیکٹری سے گرفتار کر لیا ہے۔"

'ملزم کا سراغ لگانا کسی چیلنج سے کم نہیں تھا'

سانحہ چونیاں کے مبینہ ملزم سہیل شہزاد کو پولیس نے تحقیقات کے دوران انتہائی مہارت سے گرفتار کیا۔ چونیاں میں چار بچوں کا زیادتی کے بعد قتل پولیس کے لیے معمہ بن چکا تھا۔ پولیس نے روایتی طریقے اپناتے ہوئے ملزم کو گرفتار کیا۔ آر پی او شیخوپرہ سہیل حبیب تاجک بتاتے ہیں کہ ملزم تک پہنچنا کسی چیلنج سے کم نہیں تھا، جس کے لیے نادرا، موبائل کمپنیوں، محکمہ ٹرانسپورٹ اور دیگر اداروں کی مدد رہی۔ سہیل تاجک نے بتایا کہ جب اِس کیس کی تفتیش شروع کی گئی تو وہ اور اُن کی ٹیم اِس بارے کچھ بھی نہیں جانتی تھی۔ کیس کو حل کرنے کے لیے صفر سے کام شروع کرنا پڑا۔

انڈر کور آپریشن میں خواتین پولیس اہلکاروں نے بھی حصہ لیا۔
انڈر کور آپریشن میں خواتین پولیس اہلکاروں نے بھی حصہ لیا۔

“اِس کیس کی کوئی سی سی ٹی وی فوٹیج نہیں تھی نہ ہی کوئی گواہ اِس لیے سمجھ بوجھ اور مہارت سے کیس کو حل کرنا شروع کیا۔ سب سے پہلے چونیاں کے 4684 گھروں میں آباد 26251 افراد کا ڈیٹا نادرا سے حاصل کیا گیا اور 3117 مشکوک افراد سے تفتیش شروع کی۔ نادرا کی مدد سے حاصل کیے گئے اعداد و شمار میں سے 1734 افراد کے ڈی این اے کے نمونے لیے گئے۔ ملزم چونکہ حال ہی میں رکشہ بھی چلاتا تھا تو 904 ڈرائیوروں کے پروفائلز بنائے اور مختلف موبائل فونز کا ڈیٹا مرتب کیا گیا۔"

انڈر کور آپریشن:

پولیس کے مطابق، ملزم کی گرفتاری کے لیے باقاعدہ منصوبہ بندی کی گئی اور ملزم کا سراغ لگانے کے لیے ہر طریقہ استعمال کیا گیا۔ آر پی او سہیل تاجک نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ملزم کی شناخت کے لیے خفیہ آپریشن شروع کیا گیا جس کے لیے دو الگ الگ ٹیمیں تشکیل دی گئیں تھیں۔ پولیس اہلکاروں جن میں خواتین پولیس اہلکار بھی شامل ہیں سب نے بھیس بدل کر فرائض انجام دیے۔

“چونیاں کی مختلف گلیوں میں پولیس اہلکاروں نے بھیس بدل کر پاپڑ، پکوڑے، چپس، پھل اور قلفیاں فروخت کیں۔ پولیس اہلکاروں نے غبارے اور سگریٹ فروخت کیے جب کہ کچھ نے رکشے بھی چلائے۔ خواتین پولیس اہلکاروں نے عام خواتین کی طرح مختلف بازاروں اور گلیوں میں اپنی ڈیوٹیاں سرانجام دیں۔"

پولیس اہلکاروں نے بھیس بدل کر چونیاں میں رکشہ بھی چلایا۔
پولیس اہلکاروں نے بھیس بدل کر چونیاں میں رکشہ بھی چلایا۔

رکشہ کے ٹائر اور چوتے کا نشان:

سانحہ چونیاں پر تحقیقات کرنے والی ٹیم کے سربراہ آر پی او شیخوپورہ بتاتے ہیں کہ رکشے کے ٹائروں کے نشان اور جوتے کے نشان سے ملزم کا سراغ ملا۔ آر پی او سہیل حبیب نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ پولیس کی تفتیشی ٹیم کو مقتول بچوں کی باقیات والی جگہ سے رکشے کے ٹائروں کے نشانات اور ایک جوتے کے نچلے حصے کا ربر ملا تھا۔ جس پر چونیاں کے 248 رکشہ ڈرائیوروں کا ڈیٹا اکٹھا کیا گیا۔ انہی میں ملزم سہیل شہزاد بھی تھا جو کچھ عرصہ قبل کرائے پر رکشہ لے کر چلاتا رہا۔

“ملزم سہیل شہزاد کو 29 ستمبر کو ڈی این اے کے لیے تھانے بلایا گیا جس پر ملزم نے لاہور فرار ہونے کی کوشش کی اور ایک مسافر وین میں سوار ہو گیا۔ پولیس اہلکاروں نے اسے ڈھونڈ نکالا اور وین سے اتار کر تھانے لے آئے۔ ڈی این اے نمونہ لینے کے بعد ملزم کو شخصی ضمانت پر چھوڑ دیا گیا اور دو دن بعد ڈی این اے مثبت آنے پر ملزم سہیل شہزاد کو گرفتار کر لیا گیا۔"

کیا سہیل شہزاد عادی مجرم ہے؟

پولیس کے مطابق، ملزم کے خلاف آٹھ سال پہلے بھی چونیاں میں ہی بچے سے زیادتی کا مقدمہ درج ہوا تھا۔ سہیل تاجک کا کہنا ہے کہ ملزم سہیل شہزاد نے 2011 میں بھی ایک پانچ سالہ بچے کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔ اسے پانچ سال قید کی سزا ہوئی تھی، مگر وہ جلد رہا ہو گیا تھا۔ سہیل شہزاد کا پولیس ریکارڈ دیکھتے ہوئے اسے شک کی بنیاد پر لاہور سے چونیاں بلا کر ڈی این اے ٹیسٹ کیا۔ اس کے ڈی این اے کا نمونہ نمبر 1471 تھا جو سو فی صد میچ کر گیا۔

پولیس اہلکار بھیس بدل کر پکوڑے اور چپس بھی فروخت کرتے رہے۔
پولیس اہلکار بھیس بدل کر پکوڑے اور چپس بھی فروخت کرتے رہے۔

پولیس نے ملزم سہیل کو بدھ کی سہ پہر انسداد دہشت گردی لاہور کی عدالت میں پیش کیا۔ پولیس نے عدالت کو بتایا کہ ملزم نے بچوں کو اغوا کیا اور ان کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے کے بعد بچوں کو قتل کیا۔ پولیس نے ملزم کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے ملزم کو 15 روز کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔

فیضان علی کے والد کا موقف

سانحہ چونیاں میں جنسی زیادتی کے بعد قتل ہونے والے چار بچوں میں ایک بچہ چودہ سالہ فیضان بھی تھا جسے گزشتہ ماہ 16 ستمبر کو جنسی زیادتی کے بعد قتل کر دیا گیا۔ فیضان کے والد محمد رمضان چونیاں میں امام مسجد ہیں انہوں نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں نہیں معلوم کے پکڑے جانے والا شخص سہیل شہزاد ہی اُن کے بیٹے کا قاتل ہے کیوں کہ انہیں بھی پولیس نے ہی بتایا ہے کہ ملزم پکڑا گیا ہے۔ محمد رمضان نے کہا اگر سہیل شہزاد ہی ملرم ہے تو اِنہیں تب چین ملے گا جب وہ اُسے سر عام چونیاں میں پھانسی پر لٹکا دیکھیں گے۔ سرعام پھانسی دینے سے مستقبل میں دیگر افراد کو ایسا گھناؤنا جرم کرنے کی ہمت نہیں ہو گی۔

ملزم کو کتنی سزا ہو سکتی ہے؟

ماہر قانون محمد ذیشان چوہدری کہتے ہیں کہ پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن 376 اور 377 بی کے تحت کسی بھی بچے، بچی، مرد، عورت اور جانور کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے والے ملزم کو جرمانے کے ساتھ تین مختلف سزائیں دی جا سکتی ہیں، جن مین سزائے موت بھی شامل ہے۔

ضلع قصور کی تحصیل چونیاں میں ڈھائی ماہ کے دوران چار بچوں کو اغوا کیا گیا جن میں فیضان، علی حسنین، سلمان اور بارہ سالہ عمران شامل ہیں۔ ان کی لاشیں جھاڑیوں سے ملی تھیں جب کہ بچوں سے زیادتی کی بھی تصدیق ہوئی تھی۔

ان واقعات کے بعد چونیاں میں شہریوں کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا۔ سولہ ستمبر کو چودہ سالہ فیضان کے ساتھ جنسی زیادتی اور قتل کی خبریں اور شہریوں کے احتجاج کی خبریں ذرائع ابلاع میں آنے پر وزیر اعلٰی پنجاب نے بچوں کے اغواء، زیادتی اور قتل کے واقعے کی تحقیقات کے لیے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم تشکیل دی تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG