رسائی کے لنکس

انقرہ: پوٹن کا دورہٴ ترکی، دونوں ملکوں کے فروغ پاتے تعلقات


فائل

’کارنیگی یورپ‘ کے ایک تجزیہ کار نے کہا ہے کہ بات چیت ترکی کی جانب سے روسی ساختہ ’ایس 400 میزائل شکن نظام‘ خریدنے کے فیصلے پر مرکوز رہے گی؛ لیکن یہ اسی پر ہی محدود نہیں رہے گی؛ بلکہ بات چیت میں شام کا مستقبل بھی زیر غور آئے گا‘‘

تیزی سے فروغ پاتے ہوئے تعلقات کے پیشِ نظر، ترک صدر رجب طیب اردوان جمعرات کو انقرہ میں اپنے صدارتی محل میں اپنے روسی ہم منصب ولادیمیر پوٹن کو خوش آمدید کہیں گے اور شام اور دیگر کئی ایک معاملات پر بات چیت کریں گے، جو امور اس بات کے متقاضی ہیں کہ اپنے اختلافات کو بھلایا جائے۔

دونوں ملکوں کے مابین بہتر ہوتے ہوئے اور فروغ پاتے ہوئے تعلقات کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک وسیع ایجنڈا اُن کا منتظر ہے۔

سینان اولگن برسلز مین واقع ’کارنیگی یورپ‘ کے ادارے میں ایک تجزیہ کار ہیں۔

اُن کا کہنا ہے کہ بات چیت ترکی کی جانب سے روسی ساختہ ’ایس 400 میزائل شکن نظام‘ خریدنے کے فیصلے پر مرکوز رہے گی؛ لیکن یہ اسی پر ہی محدود نہیں رہے گی؛ بلکہ بات چیت میں شام کا مستقبل بھی زیر غور آئے گا‘‘۔

الگن کے بقول، ’’کرد حکومت کی طرف سے آزادی کے ریفرنڈم کےنتائج پر بھی گفتگو متوقع ہے۔ بڑے منصوبے بھی ہیں، جیسا کہ ترکی میں اکویو جوہری بجلی کی تنصیبات کی تعمیر کا معاملہ‘‘۔

گذشتہ ماہ ترکی نے ایس 400 نظام خریدنے کا اعلان کیا تھا، جس سے ملک کے نیٹو کے پارٹنرز میں تشویش پیدا ہوئی تھی۔

دونوں ملکوں کی قربت کو دیکھتے ہوئے، اس تشویش میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

سال 2015میں دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات سست روی کا شکار تھے، جب ترکی نے شام کے فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے ایک روسی بمبار طیارے کو مار گرایا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG