رسائی کے لنکس

logo-print

کم جونگ ان کی روسی صدر پوٹن سے ملاقات


روس کے صدر ولادی میر پوٹن نے جزیرہ نما کوریا میں کشیدگی ختم کرنے اور امریکہ کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے لیے شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان کی کوششوں کو سراہا ہے۔

روسی صدر نے یہ بات دونوں رہنماؤں کے درمیان جمعرات کو بحرالکاہل کے کنارے واقع روسی شہر ولادی ووستوک میں ہونے والی ملاقات میں کہی ہے۔

کم جونگ ان کا روس کا یہ پہلا دورہ اور ولادی میر پوٹن سے پہلی ملاقات تھی جس کے لیے وہ بدھ کو اپنی مخصوص ٹرین کے ذریعے ولادی ووستوک پہنچے تھے۔

جمعرات کو سربراہی ملاقات کے آغاز پر صدر پوٹن اور کم جونگ ان نے تخلیے میں ملاقات کی جو لگ بھگ ڈیڑھ گھنٹے جاری رہی۔

روسی حکام کے مطابق ملاقات میں دونوں رہنماؤں کے بعض قریبی مشیر بھی شریک تھے۔

ملاقات کے بعد صحافیوں سے مختصر گفتگو میں صدر پوٹن نے کہا کہ انہوں نے مہمان سربراہِ مملکت کے ساتھ جزیرہ نما کوریا کی صورتِ حال اور اسے بہتر بنانے کے امکانات پر بات کی ہے۔

روسی صدر نے مہمان رہنما کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ دونوں کوریاؤں کے درمیان بات چیت کے آغاز اور امریکہ کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی کم جونگ ان کی کوششوں کا خیرمقدم کرتے ہیں۔

صحافیوں سے گفتگو میں کم جونگ ان نے روسی صدر کے ساتھ ہونے والی بات چیت کو مخلصانہ اور بامعنی قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ جزیرہ نما کوریا کی صورتِ حال میں پوری دنیا دلچسپی لے رہی ہے اور وہ خطے کےحالات سمیت تمام معاملات پر روسی صدر کے ساتھ براہِ راست بات چیت کے لیے خود روس آئے ہیں۔

تخلیے میں ملاقات کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان وفود کی سطح پر بھی بات چیت ہوئی جس کے اختتام پر کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔

بعد ازاں دونوں رہنماؤں نے ایک عشائیے میں بھی شرکت کی۔

کم جونگ ان کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد سے روس کا یہ ان کا پہلا دورہ ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان آخری سربراہی ملاقات 8 سال قبل ہوئی تھی جب کم جونگ ان کے والد کم جونگ اِل نے روس کے اس وقت کے صدر دیمیتری میدویدیف سے ملاقات کی تھی۔

روس کے شمالی کوریا سے نسبتاً اچھے تعلقات ہیں اور ماسکو، پیانگ یانگ حکومت کو خوراک اور دیگر امداد بھی دیتا آیا ہے۔

روس اور شمالی کوریا کی سربراہی ملاقات امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور کم جونگ ان کے درمیان فروری میں ہنوئی میں ہونے والی ملاقات کی ناکامی کے بعد ہوئی ہے جس کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات دوبارہ سرد مہری کا شکار ہو گئے تھے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صدر پوٹن سے ملاقات بھی کم جونگ ان کا ایک سیاسی حربہ ہے جس کے ذریعے وہ امریکہ کے ساتھ جاری اپنے تنازع میں بین الاقوامی برادری کی زیادہ سے زیادہ حمایت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG