رسائی کے لنکس

logo-print

روس کا افغان امن عمل پر سہ فریقی اجلاس بلانے کا اعلان


روس کے مطابق صدر پوٹن کے نمائندۂ خصوصی برائے افغان ضمیر کابلووف اجلاس کی میزبانی کریں گے۔ (فائل فوٹو)

روس نے افغانستان میں قیامِ امن کے لیے جاری کوششوں پر تبادلۂ خیال کے لیے سہ فریقی اجلاس بلانے کا اعلان کیا ہے جس میں روس کے علاوہ چین اور امریکہ کے نمائندے شریک ہوں گے۔

روس کی جانب سے اس اجلاس کی میزبانی کا اعلان منگل کو افغانستان کے دارالحکومت کابل میں واقع روسی سفارت خانے نے ایک بیان میں کیا ہے۔

بیان کے مطابق اجلاس 25 اپریل کو ماسکو میں ہو گا جس میں تینوں ملکوں کے خصوصی نمائندے برائے افغانستان شریک ہوں گے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی نمائندۂ خصوصی برائے افغان مفاہمت زلمے خلیل زاد بھی اجلاس میں شریک ہوں گے جنہوں نے گزشتہ روز ہی خطے کے کثیر الملکی دورے کا آغاز کیا ہے۔

امریکی محکمۂ خارجہ نے پیر کو ایک بیان میں کہا تھا کہ اپنے حالیہ دورے کے دوران امریکی ایلچی افغانستان، پاکستان، بھارت، قطر اور برطانیہ کے علاوہ روس بھی جائیں گے۔

روسی سفارت خانے کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ سہ فریقی اجلاس میں قطر کے دارالحکومت دوحہ میں طالبان اور امریکی حکام کے درمیان ہونے والی بات چیت اور افغانستان میں قومی سطح پر مفاہمتی عمل کے امکانات پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔

سفارت خانے نے یہ وضاحت بھی کی ہے کہ سہ فریقی اجلاس افغانستان کے معاملے پر مذاکرات کا کوئی نیا فورم نہیں بلکہ یہ اجلاس افغانستان میں قیامِ امن کے لیے پہلے سے جاری عالمی طاقتوں کی کوششوں کے فریم ورک کے تحت ہی منعقد کیا جا رہا ہے۔

روس نے حالیہ چند ماہ کے دوران افغانستان کے تنازع پر کئی اہم اجلاسوں کی میزبانی کی ہے۔ چند ہفتے قبل طالبان اور افغانستان کے چیدہ چیدہ سیاست دانوں کے درمیان پہلی باضابطہ ملاقات کا اہتمام بھی ماسکو نے کیا تھا۔

روسی حکومت کا موقف رہا ہے کہ وہ افغانستان میں قیامِ امن کے لیے جاری کوششوں کے سلسلے میں امریکہ اور روس کے درمیان تعاون کی خواہش مند ہے تاکہ قیامِ امن کے لیے ہونے والے اجلاسوں میں افغانستان کے پڑوسی ملکوں اور خطے کی ریاستوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG