رسائی کے لنکس

logo-print

شام میں روسی فوج کو لاحق خطرے کا سخت جواب دیا جائے: پیوٹن


جمعہ کو وزارت دفاع میں ہونے والے ایک سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس طرح کے اہداف کو ’’فوراً تباہ کیا جانا چاہیئے‘‘۔

صدر ولادیمر پوتن نے شام میں روسی فورسز کو کسی بھی خطرے کے خلاف ’’انتہائی سخت‘‘ کارروائی کرنے کا حکم دیا ہے۔

جمعہ کو وزارت دفاع میں ہونے والے ایک سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس طرح کے اہداف کو ’’فوراً تباہ کیا جانا چاہیئے‘‘۔

پوتن نے کسی خاص خطرے کی وضاحت تو نہیں کی لیکن ماسکو اور انقرہ کے درمیان ترکی کی جانب سے روسی طیارہ گرائے جانے کے واقعے کے بعد شدید کشیدگی پائی جاتی ہے۔

ترکی نے کہا تھا کہ روسی جنگی طیارہ اس کی حدود میں داخل ہو گیا تھا جس کی روس نے تردید کی تھی۔

اس واقعے میں ایک روسی ہوا باز کے علاوہ پائلٹوں کے بچاؤ کی کارروائی میں شریک ایک روسی فوجی ہلاک ہو گیا تھا جس کے بعد دونوں ممالک کے قریبی تعلقات بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔

پوتن نے ترکی کا نام لیے بغیر ’’مزید اشتعال انگریزی‘‘ کے خلاف خبردار کیا۔

صدر ولادیمر پوتن نے یہ بھی کہا ہے کہ ان کا ملک داعش کے خلاف شام کی سرکاری فورسز اور حزب مخالف کی "فری سریئن آرمی" کو بھی فضائی مدد اور اسلحہ فراہم کر رہا ہے۔

"ہماری فضائیہ کا کام سرکاری فوجیوں اور فری سریئن آرمی کو متحد کرنے میں معاونت کر رہا ہے۔"

صدر پوتن نے فری سریئن آرمی کا حوالہ دیتے ہوئے کا کہا کہ "اب اس کے متعدد یونٹس جن میں فوجیوں کی تعداد پانچ ہزار سے زائد ہے، سرکاری فورسز کے ہمراہ دہشت گردوں کے خلاف حمص، حما، حلب اور رقہ میں لڑ رہی ہیں۔"

ان کا مزید کہنا تھا کہ روس شامی فورسز کے علاوہ انھیں بھی فضائی مدد، اسلحہ اور دیگر سازو سامان فراہم کر رہا ہے۔

روس نے رواں سال ستمبر میں شام میں اپنی فضائی کارروائیوں کا آغاز کیا تھا لیکن امریکہ اور دیگر مغربی ملک یہ کہتے آئے ہیں کہ ماسکو شدت پسند گروپ داعش کی بجائے اپنے اتحادی صدر بشار الاسد کے مخالفین کو نشانہ بنا رہا ہے۔

ماسکو ان دعوؤں کو مسترد کرتا آیا ہے۔

شام میں امریکہ کی زیر قیادت اتحاد نے گزشتہ سال ستمبر میں فضائی کارروائیاں شروع کی تھیں جس کا مقصد داعش کی پیش قدمی کو روکنا اور اسے ختم کرنا تھا۔

داعش نے عراق اور شام کے ایک وسیع علاقے پر قبضہ کر رکھا ہے اور اس نے حالیہ مہینوں میں دنیا کے مختلف مقامات پر ہونے والے پرتشدد واقعات کی ذمہ داری بھی قبول کی ہے۔

XS
SM
MD
LG