رسائی کے لنکس

قطر سفارتی تنازع کے معاشی اثرات سے نمٹ سکتا ہے: وزیر خزانہ


پیر کے روز ’سی این بی سی‘ پر نشر ہونے والے ایک انٹرویو میں، علی شریف العمادی نے کہا ہے کہ کچھ چیلنج ضرور درپیش ہیں، لیکن قطر کا ’’کاروبار معمول کے مطابق‘‘ چل رہا ہے

قطر کے وزیر خزانہ نے اِس اعتماد کا اظہار کیا ہے کہ اُن کا ملک اتنی صلاحیت رکھتا ہے کہ سفارتی تنازعے کے معاشی اثرات سے نمٹ سکے، ایسے میں جب گذشتہ ہفتے ملکوں کے ایک گروپ نے اُن کے ساتھ تعلقات منقطع کر دیے ہیں۔

پیر کے روز ’سی این بی سی‘ پر نشر ہونے والے ایک انٹرویو میں، علی شریف العمادی نے کہا ہے کہ کچھ چیلنج ضرور درپیش ہیں، لیکن قطر کا ’’کاروبار معمول کے مطابق‘‘ چل رہا ہے۔

بقول اُن کے، ’’میں نہیں سمجھتا کہ مقامی معیشت کے بارے میں ہمیں کسی پریشانی کی کوئی ضرورت ہے‘‘۔

اُنھوں نے مزید کہا کہ جن ملکوں نے تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کیا ہے، جن میں سعودی عرب، بحرین، متحدہ عرب امارات اور مصر شامل ہیں، اُنھیں خود بھی خطے میں کاروبار کو پہنچنے والے نقصان کے نتیجے میں مالی مشکلات کا سامنا ہوگا۔

اُنھوں نے کہا کہ ’’بہت سے لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ شاید صرف ہمیں ہی نقصان پہنچے گا۔ اگر ہمیں ایک ڈالر کا نقصان ہوگا تو اُن کا بھی ایک ڈالر کا نقصان ہوگا‘‘۔

تعلقات منقطع کرنے والے ملکوں نے قطر پر اسلام نواز شدت پسندوں اور ایران کی حمایت کا الزام لگایا ہے۔ قطر نے اِن الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان، بہرام قاسمی نے پیر کے روز کہا ہے کہ دونوں فریق مذاکرات کے ذریعے اپنے اختلافات حل کریں۔ اس تنازع میں کویت مصالحت کی کوششیں کر رہا ہے۔

سفارتی تعلقات منقطع کرنے کے ساتھ ساتھ، سعودی عرب، بحرین، متحدہ عرب امارات اور مصر نے قطر کے ساتھ نقل و حملے کے فضائی، بحری اور زمینی راستے بند کردیے ہیں، جسے اپنی زیادہ تر خوراک کی رسد کے لیے درآمدات پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔

قطر نے پیر کے دِن کہا ہے کہ سامان لانے کے لیے عمان کی بندرگاہیں استعمال کی جا رہی ہیں۔

ایران اور ترکی نے بھی پہلے ہی قطر کو غذائی اشیا روانہ کردی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG