رسائی کے لنکس

logo-print

قطر میں ہزاروں غیر ملکی کارکن تنخواہوں سے محروم: ایمنسٹی


خلیجی ریاستوں میں کام کرنے والے غیرملکی کارکن، فائل فوٹو

اب جب کہ قطر میں صرف تین برسوں بعد فٹ بال ورلڈ کپ چیمپئن شپ کا انعقاد ہو رہا ہے، ایمنسیٹی انٹرنیشنل کے مطابق، مختلف تنصیبات اور عماریتں کی تعمیر کی تعمیر کے لیے دوسرے ملکوں سے آنے والے بہت سے کارکن ابھی تک اپنی اجرتیں وصول کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

کچھ واقعات تو ایسے بھی ہیں کہ کارکنوں کو کئی کئی ماہ اور کئی سال کام کرنے کے بعد بھی ابھی تک اجرتیں نہیں ملیں اور وہ مایوس ہو کر اپنے تنخوائیں لیے بغیر خالی ہاتھ گھروں کو واپس جا رہے ہیں۔

انسانی حقوق کے گروپ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے فٹ بال کی عالمی تنظیم فیفا اور بین الاقوامی کمیونٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ 2022 کے عالمی کپ سے پہلے قطر پر با معنی اصلاحات کے لیے مزید دباؤ ڈالے۔

2022 میں عالمی کپ کی میزبانی کرنے والے ملک میں تارکین وطن کارکنوں کی حالت زار کی جانب دنیا کی توجہ مبذول ہو رہی ہے، جن میں سے بہت سے اس وقت اسٹیڈیم اور انفرا اسٹرکچر تعمیر میں مصروف ہیں۔

اس بارے میں بہت سی شکایات موجود ہیں کہ مزدوروں کو ادائیگیاں نہیں کی جا رہیں، وہ بہت خراب حالات میں اور خطرناک تعمیراتی مقامات پر رہ رہے ہیں۔

عالمی تنقید کے بعد قطر کی حکومت 2018 میں کارکنوں کے حقوق کی اصلاحات پر رضامند ہو گئی تھی اور اس نے مزدوروں کے تنازعات کے حل کے لیے کمیٹیاں اور ان کارکنوں کی مدد کے لیے ایک انشورنس فنڈ قائم کیا تھا جو اپنے آجروں کے خلاف قانونی کارروائی کر رہے ہیں۔

ایمنیسٹی انٹرنیشنل کے ایک عہدے دار مے رامنوس کا کہنا ہے کہ کاغذات پر تو سب ٹھیک لگتا ہے، تاہم زمینی حقیقت یہ ہے کہ جب کارکنوں کو اپنی تنخواہیں نہیں ملتیں اور وہ اپنے مقدمات عدالت میں لے جانے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ ایک طویل قانونی جنگ میں الجھ جاتے ہیں، اور عدالت کی جانب سے کوئی فیصلہ حاصل کرنے میں انہیں ابھی تک تین سے آٹھ ماہ لگ رہے ہیں۔ اور اس کے بعد بھی انہیں آخر میں رقم نہیں ملتی۔ ان میں سے بہت سے یا تو امید کا دامن چھوڑ کر خالی ہاتھ وطن واپس چلے جاتے ہیں یا انتہائی مشکل حالات میں قطر میں قیام کرتے ہیں، اس امید پر کہ انہیں یہ رقم مل جائے گی۔

قطر میں لگ بھگ بیس لاکھ تارکین وطن کارکن موجود ہیں جن میں سے بیشتر کا تعلق جنوبی ایشیا اور افریقہ سے ہے

ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے تعمیرات اور صفائی کے سیکٹرز کی تین ایجنسیوں کے ساتھ کام کر نے والے دو ہزار سے زیادہ تارکین وطن کارکنوں کے مقدمات کا جائزہ لیا۔ ایجنسیوں نے کام بند کرنے اور ان کے کانٹریکٹس ختم کرنے سے پہلے مالیاتی مشکلات کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں تنخوائیں دینا بند کر دی تھیں۔ اگرچہ کچھ کو محدود پیمانے پر زر تلافی ملا، لیکن بہت سے کارکن کسی معاوضے کے بغیر وطن واپس چلے گئے۔

ایمنیسٹی انٹرنیشنل کے مے رامنوس کہتے ہیں کہ بہت سے مزدورں کو کوئی ادائیگی نہیں کی گئی، ان پر پیچھے اپنے وطن میں سود کے ساتھ قرض واجب الادا ہے۔ انہیں قطر میں کوئی ادائیگی نہیں کی گئی، وہ واپس نہیں جا سکتے۔ وہ کیمپ میں مشکل حالات میں رہتے ہیں۔ نہ ان کے پاس کوئی کھانا ہے، نہ پانی اور نہ ہی بجلی۔

قطر کی حکومت نے زور دے کر کہا ہے کہ اس نے بامعنی اصلاحات کی ہیں اور اس کا دعویٰ ہے کہ اس نے تارکین وطن کو اپنے آجروں کے ساتھ معاملات طے کرنے میں مدد کے لیے مداخلت کی ہے۔

ایمنیسٹی کا کہنا ہے کہ کمیٹیوں کی سماعت کی رفتار تیز کرنے اور تلافی کے فنڈز مکمل طور پر جاری کرنے کے لیے مزید ججوں کی فوری ضرورت ہے۔

ایمنیسٹی کو ڈر ہے کہ 2022 کے ورلڈ کپ کے بعد اس مسئلے سے عالمی توجہ ہٹ جائے گی۔

’اگر زیادہ سے زیادہ اگلے سال یا اس کے بعد حالات تبدیل نہیں ہوتے تو میرا خیال ہے کہ نظام کو تبدیل کرنے کا کوئی اور موقع نہیں ہو گا‘۔

اب جب کہ تعمیراتی منصوبے مکمل ہونے کے قریب ہیں، ایمنیسٹی یہ پیش گوئی کر رہی ہے کہ سروسز اور سیاحتی سیکٹرز میں اس وقت کام کرنے والے زیادہ تر مرد کارکنوں کی جگہ خواتین کارکن لے سکتی ہیں اور وہ بھی مزید استحصال کا نشانہ بن سکتی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG