رسائی کے لنکس

قطر کے عطیے سے غزہ کے سرکاری ملازموں کو تنخواہیں مل گئیں


غزہ کے سرکاری ملازم ڈاک خانے میں اپنی تنخواہ وصول کر رہے ہیں۔ تنخواہیں قطر نے عطیہ کی ہیں۔ دیوار پر لگے بینر میں قطر کا شکریہ ادا کیا گیا ہے۔ 7 دسمبر 2018

جمعے کے روز غزہ میں ڈاک خانوں کے سامنے سرکاری ملازم لمبی قطاروں میں کھڑے نظر آئے۔ ان کے چہرے خوشی سے تمتما رہے تھے کیونکہ ڈاک خانے کے توسط سے انہیں تنخواہیں ادا کی جا رہی تھیں۔

ایک ڈاک خانے پر قطر کے امیر شیخ تمیم بن حامد الثانی کی ایک بڑی تصویر کے ساتھ ایک بینر لگا ہوا تھا جس میں ان کا شکریہ ادا کیا گیا تھا۔

غزہ کے لگ بھگ 30 ہزار سول ملازموں کی تنخواہوں کی ادائیگی قطر حکومت کے ایک خصوصی عطیے سے کی گئی ہے۔

غزہ میں ایک خاتون ڈاک خانے کی کھڑکی سے اپنی تنخواہ وصول کر رہی ہے۔ 7 دسمبر 2018
غزہ میں ایک خاتون ڈاک خانے کی کھڑکی سے اپنی تنخواہ وصول کر رہی ہے۔ 7 دسمبر 2018

فلسطینی ذرائع کا کہنا ہے کہ جمعے کے روز تنخواہوں کی ادائیگی پر تقریباً ڈیڑھ کروڑ ڈالر صرف ہوئے۔ یہ فنڈ 9 کروڑ ڈالر کے اس عطیے میں سے نکالا گیا تھا جو قطر نے چھ مہینوں کی تنخواہوں کے لیے دیا ہے۔

ایک 45 سالہ سرکاری ملازم عمار فیاض نے خبررساں ادارے روئیٹرز کو بتایا کہ اگر قطر کے عطیات بند ہو جائیں تو ہم تباہ ہو جائیں گے۔

فیاض 13 افراد کے کنبے کا واحد کفیل ہے۔

غزہ کے سرکاری ملازم فلسطینیوں کے دو طاقت ور دھڑوں کے درمیان اختیارات کی جنگ میں کسمپرسی کی ایک علامت بن چکے ہیں۔ غزہ کا کنٹرول اسلام پسند گروپ حماس کے ہاتھ میں ہے جب کہ مغربی کنارے کا اقتدار صدر محمود عباس کی فلسطینی اتھارٹی کے ہاتھوں میں ہے۔

غزہ کے ایک ڈاک خانے میں سرکاری ملازم اپنی تنخواہیں ملنے کا انتظار کر رہے ہیں۔ 7 دسبمر 2018
غزہ کے ایک ڈاک خانے میں سرکاری ملازم اپنی تنخواہیں ملنے کا انتظار کر رہے ہیں۔ 7 دسبمر 2018

سن 2006 کے انتخابات میں حماس کی غیر متوقع فتح اور اس کے اگلے سال غزہ کا فوجی کنٹرول سنبھالنے کے بعد حماس نے اپنی سرکاری انتظامیہ رکھ لی تھی۔

حماس کو یہ شکایت تھی کہ اسے ورثے میں ایسے سول انتظامیہ ملی جو صدر محمود عباس کی وفادار تھی جس کی وجہ سے اپنے زیر کنٹرول علاقے کا انتظام چلانے کے لیے اسے مجبوراً اپنے کئی ہزار ملازم رکھنے پڑے۔

لیکن اس کے بعد کئی برسوں سے اسرائیل کے مسلسل محاصرے، جنگوں اور اندرونی مفاہمت کی کوششوں میں ناکامی کے نتیجے میں حماس کو فنڈز کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑا رہا ہے۔

عباس کی حکمت عملی یہ ہے کہ تنخواہوں کی عدم ادائیگیوں اور ہزاروں سرکاری ملازموں کو قبل از وقت ریٹائرمنٹ پر بھیج کر حماس پر دباؤ بڑھایا جائے تا کہ خراب معاشی حالات کی وجہ سے وہ مذاكرات کی میز پر آنے کے لیے مجبور ہو جائے۔

قطر نے، جس کے سعودی عرب اور خلیجی ریاستوں کے ساتھ سفارتی تنازعات ہیں، کہا ہے کہ وہ مشکلات اور محاصرے میں گھرے علاقے غزہ کی پٹی میں استحکام لانا اور لوگوں کی مدد کرنا چاہتا ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نتن یاہو نے کہا کہ ان کے ملک نے غزہ میں قطری فنڈز کی اجازت دیتے ہوئے یہ یقینی بنایا ہے کہ انگلیوں کے نشانات، فوٹوز اور دستخطوں پر مبنی ایک ایسا نگرانی کا نظام موجود ہو جس کے نتیجے میں رقم صرف سرکاری ملازموں کو ملے نہ کہ حماس کو۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG