رسائی کے لنکس

logo-print

اسرائیلی طیاروں کا غزہ میں ٹیلی ویژن اسٹیشن پر حملہ


اسرائیلی طیاروں کے حملے کے بعد غزہ میں حماس کے ٹیلی وژن سے آگ کے شعلے بلند ہو رہے ہیں۔ 12 نومبر 2018

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ حملے کا مقصد کسی کو ہلاک کرنا یا دہشت گردوں کو پکڑنا نہیں تھا بلکہ ان پر اسرائیل کی طاقت کا اظہار کرنا تھا۔

خبررساں ادارے رائٹرز نے فلسطینی عہدے داروں اور عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا ہے کہ اسرائیل کے جنگی طیاروں نے پیر کے روز غزہ میں حماس کے ٹیلی وژن اسٹیشن پر حملہ کیا۔

فوری طور پر کسی کے ہلاک یا زخمی ہونے کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

اسرائیل کے حملے سے پہلے علاقے میں لوگوں کو ٹیلی فون کر کے پیشگی خبردار کیا تھا جس کے بعد بہت سے لوگ علاقے سے چلے گئے تھے۔

یہ حملہ الاقصیٰ ٹیلی وژن اسٹیشن پر کیا گیا۔

اس سے قبل فلسطینیوں نے اسرائیل کے جنوبی علاقے میں درجنوں راکٹ فائر کیے جس کے جواب میں اسرائیلی طیاروں نے غزہ پر فضائی حملے کیے۔ جب کہ ایک روز قبل اسرائیل اور غزہ کی سرحد پر دونوں کے درمیان ہلاکت خیز جھڑپیں ہوئیں تھیں۔

اسرائیلی عہدے داروں نے کہا ہے کہ راکٹ حملوں سے کم از کم 7 افراد زخمی ہوئے جن میں ایک 19 سالہ لڑکا بھی شامل ہے جو ایک بس پر مارٹر گولہ گرنے سے شدید زخمی ہو گیا تھا۔

عہدے داروں کا کہنا ہے کہ سرحد کی دوسری جانب فلسطینی علاقے میں اسرائیلی طیاروں کے حملوں میں کم ازکم 2 مسلح افراد ہلاک ہو گئے۔

تشدد کے یہ تازہ ترین واقعات اس کے ایک روز بعد پیش آئے جب اسرائیلی فوجیوں نے غزہ کے علاقے میں گھس کر حملہ کیا۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ ایک روز پہلے کی جھڑپوں میں اس کا ایک فوجی اہل کار ہلاک اور ایک زخمی ہوا۔

فلسطینی عہدے داروں کے مطابق ان کی جانب 7 افراد مارے گئے جن میں حماس کا ایک مقامی کمانڈر بھی شامل ہے جس کا نام نور براقا بتایا گیا ہے۔

اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی میں اپنے حملے کے بارے میں کچھ معلومات فراہم کی ہیں لیکن اس کا کہنا ہے کہ حملے کا مقصد کسی کو ہلاک کرنا یا دہشت گردوں کو پکڑنا نہیں تھا بلکہ ان پر اسرائیل کی طاقت کا اظہار کرنا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG