رسائی کے لنکس

کوئٹہ کے ہائی سکیورٹی علاقے میں بم دھماکہ، 6 افراد ہلاک


یہ حملہ بلوچستان اسمبلی کی سیکیورٹی کے لئے تعینات پولیس اور ایف سی کے اہل کاروں پر کیا گیا جو اسمبلی کی سیکیورٹی کی ڈیوٹی انجام دینے کے بعد واپس جارہے تھے ۔

بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے مرکزی اور حساس علاقے میں منگل کی رات کو پولیس کے ایک ٹر ک کے قریب زوردار دھماکہ ہوا جس میں چار پولیس اہل کاروں سمیت چھ افراد ہلاک اور 20 سے زائد زخمی ہو گئے۔

زخمیوں کو فوری طور پر سو ل اور دیگر اسپتالوں میں منتقل کیا گیا جن میں پولیس، بلوچستان کانسٹیبلری اور شہر ی شامل ہیں۔ ڈاکٹروں نے زخمیوں میں سے چھ کی حالت تشویش ناک بتائی ہے۔

پولیس حکام کے بقول مو ٹر سائیکل پر سوار ایک خودکش حملہ آور کو ڈیوٹی پر موجود اہل کاروں نے رُکنے کا اشارہ دیا ، لیکن حملہ آور وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہوا اور بلوچستان کانسٹیبلری کے اہل کاروں کی ٹرک کے قریب اُس نے اپنے جسم کے ساتھ باندھے گئے بارودی مواد میں زووردار دھماکہ کیا جس سے جانی نقصان کے ساتھ کئی گاڑیوں اور رکشوں کو بھی نقصان پہنچا ۔

کالعدم تحر یک طالبان پاکستان کے اشتہادی گروپ نے سوشل میڈ یا پر جاری کئے گئے بیان میں دھماکے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔

یہ حملہ بلوچستان اسمبلی کی سیکیورٹی کے لئے تعینات پولیس اور ایف سی کے اہل کاروں پر کیا گیا جو اسمبلی کی سیکیورٹی کی ڈیوٹی انجام دینے کے بعد واپس جارہے تھے ۔

اس دھماکے سے چند گھنٹے قبل بلوچستان اسمبلی کا اجلاس ہوا جس میں مسلم لیگ ن اور اپوزیشن ارکان وزیر اعلیٰ کے خلاف عدم اعتماد کی تحر یک پیش کر نا چاہتے تھے لیکن وزیر اعلیٰ نواب ثنا ءاللہ زہری نے اسمبلی کے اجلاس سے ایک گھنٹہ پہلے گورنر بلوچستان محمد خان اچکزئی سے ملاقات کی اور وزارت اعلیٰ کے منصب سے استعفیٰ اُن کو پیش کیا جو گورنر نے قبول کرلیا۔

اسپیکر بلوچستان اسمبلی محتر مہ راحیلہ حمید دُرانی نے اسمبلی میں موجود ارکان کو اس فیصلے سے آگاہ کیا اور اجلاس غیر معینہ مدت تک کے لئے ملتوی کر دیا ۔

بلوچستان میں دو ماہ کے دوران سیکیورٹی فورسز پر دو خودکش حملوں سمیت یہ چھٹا دھماکہ تھا۔ ان میں سے چار دھماکوں کی ذمہ داری کالعدم تحر یک طالبان پاکستان کی طرف سے قبول کی گئی ہے ۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG