رسائی کے لنکس

دھماکے کی ذمہ داری تاحال کسی گروپ یا تنظیم کی طرف سے قبول نہیں کی گئی۔ تاہم، گزشتہ ایک سال کے دوران کوئٹہ اور مستونگ میں ہونے والے پانچ خودکش حملوں کی ذمہ داری داعش سے وابستہ کالعدم لشکر جھنگوی العالمی، تحریک طالبان سے الگ ہونے دھڑے نے قبول کئے ہیں

بلوچستان کے صوبائی دارلحکومت کوئٹہ میں ایک سکیورٹی ادارے کے اہلکاروں کی گاڑی پر خودکش حملے میں 8 سکیورٹی اہلکاروں سمیت 15 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے ہیں۔


صوبائی وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے دھماکے کے بعد میڈیا کو بتایاکہ فرنٹیر کور بلوچستان کے اہلکار ایک گاڑی میں جشن آزادی کے موقع پر اپنے فرائض کی ادائیگی کےلئے جا رہے تھے، جب پشین بس اسٹاف پر موٹر سائیکل پر سوار ایک خودکش حملہ آور نے 'ایف سی' کی گاڑی کے ساتھ ہی اپنے جسم سے باندھے ہوئے بارود میں زوردار دھماکہ کیا۔

دھماکے سے وہاں موجود گاڑیوں میں آگ لگ گئی اور ان میں بیٹھے افراد آگ کے شعلوں میں پھنس گئے۔ آگ پر قابو پانے کے بعد سات افراد کی لاشوں کو گاڑیوں کو نکالا گیا۔ ڈاکٹروں کے مطابق، یہ تمام افراد اتنے زیادہ جل گئے کہ اُن کی شناخت ممکن نہیں رہی؛ اس لئے اُن کے نمونوں کو ڈی این اے ٹیسٹ کے لئے لاہور بھیجوایا جائیگا۔

دھماکے سے فرنٹیر کور بلوچستان کی گاڑی میں بیٹھے ہوئے تین اہلکاروں نے موقع پر جب کہ پانچ نے اسپتال میں دم توڑ دیا؛ اور 40 سے زائد زخمیوں کو سول اسپتال، سی ایم ایچ اور ایف سی اسپتال میں منتقل کردیا گیا۔

دھماکے کے بعد پولیس اور ایف سی کے حکام موقع پر پہنچ گئے اور علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد جمع کئے جا رہے ہیں۔ بم ڈسپوزل حکام کے مطابق، دھماکے میں بیس سے پچیس کلوگرام دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا۔

دھماکے کی جگہ سے فرنٹیر کور بلوچستان کے مرکزی دفتر صرف چند سو میٹر کی دوری پر واقع ہے اور اس علاقے سے اکثر و بیشتر ایف سی کے اہلکار گاڑیوں میں گزر کر اپنے دفتر جاتے ہیں۔


دھماکے کی ذمہ داری تاحال کسی گروپ یا تنظیم کی طرف سے قبول نہیں کی گئی۔ تاہم، گزشتہ ایک سال کے دوران کوئٹہ اور مستونگ میں ہونے والے پانچ خودکش حملوں کی ذمہ داری داعش سے وابستہ کالعدم لشکر جھنگوی العالمی، تحریک طالبان سے الگ ہونے دھڑے نے قبول کئے ہیں۔

اس حملے کے بارے میں آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری کئے گئے بیان میں بتایا گیا ہے کہ اپنے فرائض انجام دینے والے ملٹری کے جوانوں کی گاڑی پر حملہ کیا گیا جس میں 15 افراد ہلاک ہوئے۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ بلوچستان میں گزشتہ سال سول اسپتال میں وکلاء، اس کے بعد اکتوبر میں پولیس کے تربیتی مرکز، ضلع خضدار میں شاہ نورانی کی مزار، مستونگ میں سینٹ کے ڈپٹی چئیرمین مولانا عبدالغفور حیدری اور چمن میں ضلع پولیس افسر پرخودکش حملے ہو چکے ہیں۔

فوج کے سربراہ، جنرل قمر جاوید باجوہ نے دہشت گرد واقع کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''حملہ جشن آزادی کی تقریبات کو متاثر کرنے کی ناکام کوشش ہے، جب کہ انسداد دشت گردی کی کارروائی شد و مد کے ساتھ جاری رہے گی۔ یہ بزدلانہ حملے ہمارے حوصلے پست نہیں کرسکتے''۔

متاثرہ علاقے کو فوج اور ایف سی کے اہل کاروں کی بھاری نفری نے محاصرے میں لے لیا ہے۔ ساتھ ہی شواہد اکٹھے کیے جارہے ہیں۔

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کوئٹہ کے دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ دہشت گردی کے انسداد کی کوششیں مستعدی کے ساتھ جاری رہیں گی۔

صدر مملکت ممنون حسین نے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا ہے۔ اپنے پیغام میں، اُنھوں نے ہدایت کی کہ زخمیوں اور دیگر متاثرین کی ہر ممکن مدد اور دیگر متاثرین سے تعاون کیا جائے۔ صدر نے کہا کہ دہشت گردوں کو قانون کی گرفت میں لاکر کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG