رسائی کے لنکس

logo-print

کوئٹہ کی سبزی منڈی میں دھماکہ، 20 افراد ہلاک


کوئٹہ کے علاقے ہزار گنجی کی فروٹ اور سبزی منڈی میں بم دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 20 افراد ہلاک اور 40 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں کوئٹہ میں آباد شیعہ ہزارہ برادری کے 8 افراد اور ان کی سیکورٹی پر تعینات فرنٹیر کانسٹیبلری کا ایک اہل کار بھی شامل ہے۔

بلوچستان کے وزیرِداخلہ ضیا اللہ لانگو نے کہا ہے کہ دھماکہ خود کش بمبار نے کیا جس میں 48 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

ڈی آئی جی کوئٹہ عبدالرزاق چیمہ کے مطابق ہزارہ برادری کے افراد معمول کے مطابق جمعے کی صبح خریداری کے لیے سبزی اور فروٹ مارکیٹ پہنچے ہی تھے کہ دھماکہ ہوا۔

دھماکے کے مقام پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی آئی جی نے دھماکے میں 16 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی جن میں سے ان کے بقول 8 افراد کا تعلق ہزارہ کمیونٹی ہے جب کہ 7 منڈی میں کام کرنے والے افراد ہیں۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ بظاہر دھماکے کا ہدف ہزارہ برادری کے افراد ہی تھے جن پر اس سے قبل بھی کوئٹہ میں حملے ہوتے رہے ہیں۔

ڈی آئی جی نے صحافیوں کو بتایا کہ جمعے کی صبح ہزارہ کمیونٹی کی 11 گاڑیوں میں سوار 55 افراد ایف سی اور پولیس کے سیکورٹی حصار میں فروٹ منڈی آئے انہوں نے اور خریداری شروع کی ہی تھی کہ دھماکہ ہو گیا۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکہ بہت شدید تھا جس سے خاصا نقصان ہوا ہے۔ حکام کے مطابق دھماکے سے 6 افراد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے جب کہ کئی زخمی اسپتال میں منتقل کیے جانے کے دوران چل بسے۔

واضح رہے کہ یہ علاقہ شہر کے مرکزی اسپتالوں سے کم از کم 20 کلومیٹر دور واقع ہے۔

دھماکے کی ذمہ داری تاحال کسی گروپ یا تنظیم نے قبول نہیں کی ہے۔ لیکن پاکستان میں سرگرم مذہبی شدت پسند کالعدم تنظیمیں ماضی میں ہزارہ برادری پر حملے کرتی آئی ہیں۔

حملے کے بعد کوئٹہ کے نواحی علاقے مغربی بائی پاس پر ہزارہ برادری کے افراد جمع ہو گئے جہاں انہوں نے شاہراہ کو ٹریفک کے لیے بلاک کر کے دھرنا دیا۔

ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے رکن بلوچستان اسمبلی قادر علی نائیل نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا ہے کہ ان کی برادری پر پہلے بھی حملے ہوتے رہے ہیں لیکن کافی عرصے سے امن تھا جس کی وجہ سے انہوں نے سکون کا سانس لیا تھا۔

قادر علی نائیل نے کہا کہ جمعے کے حملے میں صرف ہزارہ برادری کے لوگ ہی نہیں بلکہ دیگر افراد بھی ہلاک ہوئے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کوئٹہ کے شہریوں کو دہشت گردوں کے خلاف اتحاد اور اتفاق کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کی برادری کے افراد کے لیے سیکورٹی کے مناسب انتظامات کیے گئے تھے اور یہ حملہ سیکورٹی اداروں سے زیادہ انٹیلی جینس اداروں کی ناکامی ہے۔

بلوچستان میں طویل وقفے کے بعد دہشت گردی کا کوئی بڑا واقعہ رونما ہوا ہے۔ ماضی میں کوئٹہ میں ہزارہ کمیونٹی پر متعدد حملے ہو چکے ہیں جن میں اب تک سینکڑوں افراد کی جانیں جا چکی ہیں۔

ادھر، اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے جمعے کے روز کوئٹہ میں ہونے والے المناک دھماکے پر دکھ کا اظہار کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ترجمان، اسٹیفنی ڈجورے نے ایک اخباری بیان میں بتایا ہے کہ ’’انتونیو گوتیرس نے اس بزدلانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے‘‘۔

ساتھ ہی، ترجمان نے کہا کہ سیکریٹری جنرل نے ہلاک ہونے والوں کے لواحقین، حکومت پاکستان اور عوام کے ساتھ تعزیت، جب کہ زخمیوں کی جلد صحتیابی کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’دہشت گردی اور پر تشدد انتہا پسندی کے خلاف لڑائی میں اقوام متحدہ حکومت پاکستان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے‘‘۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG