رسائی کے لنکس

logo-print

کوئٹہ: آٹھ کان کنوں کی لاشیں نکال لی گئیں، پانچ کی تلاش جاری


فائل فوٹو

امدادی کارکنوں نے پیر کی صبح ساڑھے چار بجے آٹھ کان کنوں کی لاشیں کان سے نکال لی تھیں اور پانچ افراد کو نکالا جانا ابھی باقی ہے۔

بلوچستان کے ضلع کوئٹہ کے نواحی علاقے سنجدی میں کوئلے کی کان میں ہونے والے ایک دھماکے میں ہلاک آٹھ کان کنوں کی لاشیں نکال لی گئیں جبکہ دیگر پانچ کو نکالنے کے لیے امدادی کارروائیاں تاحال جاری ہیں۔

بلوچستان کے چیف انسپکٹر کول مائنز افتخار احمد نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ اتوار کو 13 کان کن سنجدی کے علاقے میں واقع ایک کان سے کوئلہ نکالنے کے لیے ساڑھے چار ہزار فٹ زیرِ زمین گئے تھے جن کے کام کے دوران کان میں چنگاریاں پیدا ہونے سے دھماکہ ہوا۔

افتخار احمد کے مطابق دھماکے سے کان بیٹھ گئی تھی اور واقعے کے فوراً بعد ہی امدادی سرگرمیاں شروع کردی گئی تھیں۔

انہوں نے بتایا کہ امدادی کارکنوں نے پیر کی صبح ساڑھے چار بجے آٹھ کان کنوں کی لاشیں کان سے نکال لی تھیں اور پانچ افراد کو نکالا جانا ابھی باقی ہے جو ان کے بقول قوی امکان ہے کہ زندہ نہیں بچے ہوں گے۔

افتخار احمد نے بتایا کہ کان میں بہت زیادہ گیس بھری ہوئی ہے جس کے باعث پہلے گیس کے اثر کو ختم کیا جائے گا اور اس کے بعد باقی کان کنوں کو نکالنے کی کو شش کی جائے گی۔

فائل فوٹو
فائل فوٹو

انہوں نے کہا کہ ہلاک ہونے والے آٹھ مزدوروں کی میتوں کو ان کے آبائی علاقوں کو روانہ کردیا گیا ہے۔ سات مزدوروں کا تعلق خیبر پختونخوا کے اضلاع سوات اور دیر جب کہ ایک کا تعلق کوئٹہ سے تھا۔

چیف انسپکٹر کول مائنز کا کہنا تھا کہ اس وقت ان کی پوری توجہ کان میں موجود لاشیں نکالنے پر مرکوز ہے اور واقعے کی تحقیقات لاشیں نکالنے کے بعد کی جائیں گی۔

بلوچستان کے پانچ اضلاع کوئٹہ، لورالائی، سبی، بولان اور ہرنائی میں کوئلے کے کروڑوں ٹن ذخائر ہیں جن کو نکالنے کے لیے ڈھائی ہزار سے زائد کانیں بنائی گئی ہیں۔

ان کانوں سے 40 ہزار سے زائد مزدور سالانہ 90 لاکھ ٹن سے زیادہ کوئلہ نکالتے ہیں۔

ان کانوں میں اکثر و بیشتر حادثات پیش آتے رہتے ہیں۔ رواں سال مئی میں ضلع کوئٹہ کے نواحی علاقے میں موجود کوئلے کی کانوں میں دو دھماکوں سے 23 کان کن، اپریل میں ضلع قلات کے علاقے میں ایک کان میں دھماکے سے چھ کان کن جب کہ گزشتہ سال ستمبر میں ایک ہفتے کے دوران پیش آنے والے تین مختلف حادثات میں آٹھ کان کن ہلاک ہوگئے تھے۔

کان کنوں کی انجمن کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران کان کے اندر گیس بھرنے اور دیگر وجوہات کے باعث دو درجن سے زائد واقعات پیش آچکے ہیں جن میں 100 سے زائد کان کن لقمۂ اجل بن چکے ہیں۔

انجمن کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ بیشتر کوئلہ کانوں میں تازہ ہوا کے اندر آنے اور کان میں دھماکہ ہونے یا آگ لگنے یا دیگر ہنگامی صورتِ حال میں نکلنے کے لیے متبادل راستہ نہیں ہوتا جو حادثات کی اہم وجوہات ہیں۔

حکومت بلوچستان کے متعلقہ محکمے کا موقف ہے کہ کانوں کے لیے طے شدہ قواعد و ضوابط پر عمل نہ کرنے والے کان مالکان پر جرمانہ کیا جاتا ہے اور اس حوالے سے موجود تمام قوانین پر عمل درآمد کرایا جاتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG