رسائی کے لنکس

بلوچستان میں ہزارہ کمیونٹی کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث دہشت گرد گرفتار


کوئٹہ میں ہزارہ کمیونٹی کی خواتین دہشت گرد حملوں اور ٹارگٹ کلنگ کے خلاف بھوک ہڑتال کر رہی ہیں۔ 30 اپریل 2018

بلوچستان میں دہشت گردی سے روک تھام سے متعلق محکمے نے منگل کے روز کہا ہے کہ اس نے ہزارہ کمیونٹی کے افراد کو ہدف بنا کر ہلاک کرنے کے سلسلے وار واقعات میں ملوث ایک اہم دہشت گرد کو گرفتار کر لیا ہے۔

بلوچستان کے انسداد دہشت گردی کے انسپکٹر جنرل پولیس اعتزاز گوریا نے فرنٹیئر کانسٹیبلری کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل کے ساتھ نامہ نگاروں کو بتایا کہ گزشتہ روز ایک آپریشن کے دوران لشکر جھنگوی کے ایک اہم کمانڈر ڈاکٹر عبدالرحمن محمد شاہی کو حراست میں لیا گیا۔

ڈی آئی جی گوریا نے میڈیا کے لیے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ پکڑا جانے والے شخص کا ہزارہ ٹاؤن، بولان میڈیکل کمپلکس، انسپکٹرجنرل پولیس کے دفاتر پر خودکش بم حملوں اور ٹارگٹ کلنگ کے کئی واقعات میں ہاتھ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ گرفتار کیے جانے والے دہشت گرد کے قبضے سے کئی ہتھیار بھی برآمد ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ پکڑے گئے دہشت گرد کے سر کی قیمت 20 لاکھ روپے مقرر ہے۔ انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ دہشت گرد نیٹ ورک توڑنے کی کوششیں جاری ہیں اور جلد ہی مزید گرفتاریاں عمل میں لائی جائیں گی۔

ڈی آئی جی گوریا کے مطابق گروپ کے تین کلیدی دہشت گرد ولی اللہ، خالد اور اورنگ زیب پچھلے سال 30 جولائی کو ایک پولیس مقابلے کے دوران ہلاک ہو گئے تھے جب کہ شفیق، سراج، نادر اور ان کے کئی ساتھی 2015 میں 25 اگست کو ہونے والے پولیس مقابلے میں مارے گئے تھے۔

پولیس عہدے داروں کا کہنا تھا کہ پکڑے گئے دہشت گرد نے بتایا ہے کہ اس کے گروپ کے ارکان لاڑکانہ اور خصدار میں بھی چھپے ہوئے ہیں جن کی گرفتاری کے لیے پولیس کی ٹیمیں بھیج دی گئی ہیں۔

ہزارہ کمیونٹی کے افراد گزشتہ تین روز سے دہشت گرد حملوں اور ٹارگٹ کلنگ کے خلاف احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں۔

انسانی حقوق کے قومی ادارے کی جانب سے گزشتہ مہینے جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پانچ سال کے عرصے میں کوئٹہ میں دہشت گردی کے متعدد واقعات میں ہزارہ کمیونٹی کے 509 افراد ہلاک اور 627 زخمی ہوئے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG