رسائی کے لنکس

logo-print

بھارت کا راحت فتح علی پر کرنسی اسمگلنگ کا نیا الزام


راحت فتح علی خان اور ان کے منیجر سلمان احمد

پاکستانی سنگر اور قوال راحت فتح علی خان پر بھارت نے کرنسی اسمگلنگ کا الزام عائد کرتے ہوئے انہیں شوکاز نوٹس جاری کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

لیکن راحت فتح علی خان کے منیجر سلمان احمد نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں اس الزام کی تردید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمیں ایسا کوئی نوٹس نہیں ملا ہے۔

بھارتی میڈیا میں یہ خبریں گردش میں ہیں کہ راحت فتح علی خان کو کرنسی قوانین کی خلاف ورزی کے الزام میں نئی دہلی کے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے شوکاز نوٹس جاری کیا ہے۔

نوٹس میں راحت فتح علی سے بھارت سے مبینہ طور پر دو کروڑ روپے منتقل کرنے سے متعلق وضاحت طلب کی گئی ہے جو انہیں 45 دن کے اندر دینا ہو گی۔

بھارتی میڈیا کے مطابق حکام نے راحت کے خلاف فارن ایکسچینج مینجمنٹ ایکٹ (فیما) کے تحت تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

ان الزامات پر راحت فتح علی خان کے منیجر سلمان احمد نے وی او اے کو بتایا ہے کہ بھارتی میڈیا میں بیان کی جانے والی تمام باتیں غلط ہیں اور ہمیں بھارت کے کسی ادارے کی طرف سے کوئی نوٹس نہیں ملا۔

سلمان احمد نے بتایا کہ راحت فتح علی خان کے تمام معاملات مینجمنٹ کمپنی دیکھتی ہے اور اسے کسی ادارے کی طرف سے بھی کوئی نوٹس نہیں ملا۔

انہوں نے کہا کہ خان صاحب نے کبھی بھی بھارت یا کسی اور ملک میں کسی کے ساتھ کوئی براہِ راست معاملہ نہیں کیا لہذا ان پر عائد کیا جانے والا الزام غلط ہے۔

سلمان احمد نے بتایا کہ دہلی میں ان کی لاء فرم بھی ایسے کسی نوٹس سے لاعلم ہے۔ ان کے بقول بہتر ہوتا کہ نوٹس پہلے ہمیں سرو کرایا جاتا اور اس کے بعد پریس کو جاری ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ اگر اس قسم کا کوئی نوٹس ملا بھی تو دہلی میں موجود ان کی لاء فرم اس معاملے کو دیکھے گی اور اس کا جواب دے گی۔

بھارت میں راحت فتح علی خان کے ساتھ ماضی میں بھی ایسا ہی ایک واقعہ پیچ آ چکا ہے۔

راحت کو سن 2011 میں ڈائریکٹوریٹ آف ریوینیو انٹیلی جینس کے حکام نے نئی دہلی ایئرپورٹ پر 1 کروڑ 24 لاکھ ڈالرز کی رقم بیرونِ ملک منتقل کرنے کے الزام میں روک لیا تھا لیکن راحت نے اس الزام کی تردید کی تھی۔

بھارتی قوانین کے مطابق کسی بھی فرد کو زیادہ سے زیادہ پانچ ہزار ڈالرز نقد اور پانچ ہزار ٹریولرز چیک سے زیادہ رقم کی صورت میں کسٹم حکام کو آگاہ کرنا ضروری ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG