رسائی کے لنکس

logo-print

کراچی سمیت کئی شہروں میں ’یوم سوگ‘، معمولات زندگی متاثر


سوگ کے سبب بدھ کی صبح ہی سے پبلک ٹرانسپورٹ سڑکوں پر نہیں آئی، جبکہ اس دوران تمام دکانیں، کاروبای مراکز ، پیٹرول پمپ، سی این جی اسٹیشن، تعلیمی ادارے اور نجی دفاتر بند رہے۔ سرکاری دفاتر میں بیشتر لوگ ٹرانسپورٹ نہ ہونے کے سبب پہنچ ہی نہیں سکے

کراچی میں بدھ کی صبح ایم کیو ایم کے دفتر ’نائن زیرو‘ پر رینجرز کے چھاپے کے بعد سے رات گئے تک کشیدگی رہی اور ’معمولات زندگی‘ متاثر رہے۔

عموماً متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے سہ پہر یا شام کے اوقات میں سوگ ختم کئے جانے کا اعلان کردیا جاتا ہے، جس کے بعد زندگی معمول پر آجاتی ہے؛ لیکن، بدھ کو ایسا نہیں ہوا۔

چھاپے کے دوران، ہلاک ہونے والے ایم کیو ایم کے کارکن وقاص کی تدفین بھی بدھ کو نہیں ہوسکی۔

رات دس بجے کے بعد، مقامی میڈیا میں یہ خبریں آئیں کہ جمعرات کو یوم سوگ کے حوالے سے کوئی اپیل نہیں کی گئی۔ اس لئے، تاجر اور ٹرانسپورٹرز معمول کے مطابق اپنا کام انجام دیں۔

سوگ کے سبب، بدھ کی صبح ہی سے پبلک ٹرانسپورٹ سڑکوں پر نہیں آئی، جبکہ اس دوران تمام دکانیں، کاروبای مراکز، پیٹرول پمپ، سی این جی اسٹیشن، تعلیمی ادارے اور نجی دفاتر بند رہے۔ سرکاری دفاتر میں بیشتر لوگ ٹرانسپورٹ نہ ہونے کے سبب پہنچ ہی نہیں پائے۔

صبح سات بجے کے آس پاس کھلنے والے تمام تعلیمی اداروں میں جاری سالانہ امتحانات کے باوجود چھٹی کردی گئی۔ نجی اسکولوں کی انتظامیہ نے بھی اسکول بند کرنے کا اعلان کیا جبکہ جو لوگ علی الصبح معمول کے مطابق دفاتر پہنچ گئے تھے، اُنہوں نے سرشام ہی گھروں کا رخ کیا۔

مجموعی طور پر بدھ کو ہونے والا یوم سوگ اور احتجاج پرامن رہا اور شہر کے کسی بھی علاقے سے کس بھی ناخوشگوار واقعے کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔

کراچی کے علاوہ سندھ کے دیگر شہروں میں بھی بدھ کو کاروباری و تجارتی مراکز بند رہے، جن میں حیدرآباد، میرپور خاص، نوابشاہ اور سکھر شامل ہیں۔

کچھ علاقوں سے ہوائی فائرنگ کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں۔ لیکن، مجموعی طور پر کسی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع نہیں ملی۔

XS
SM
MD
LG