رسائی کے لنکس

logo-print

شدید گرمی میں رائتے سے بہتر کچھ نہیں!


دنیا بھر کے ملکوں میں سخت گرمی کا توڑ ٹھنڈے پانی، یخ شربت یا پھر برف میں لگی سافٹ ڈرنکس سے کیا جاتا ہے لیکن ڈاکٹرز کے مطابق شدید گرمی میں بہت ٹھنڈے مشروبات کا استعمال بھی نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ان سے وقتی طور پر پیاس تو بجھ جاتی ہے، لیکن ان کے نتیجے میں جسم کے درجۂ حرارت میں آنے والی اچانک تبدیلی صحت کے لیے مضر بھی ہو سکتی ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ پھر خود کو ٹھنڈا رکھنے اور شدید گرمی سے بچانے کے لیے کیا کھایا یا پیا جائے۔ اکثر لوگوں کا جواب ہوگا کہ دہی! اور یہ جواب درست بھی ہے۔ گرم موسم میں سادہ دہی اور اس سے بنے رائتے سے بہتر شاید کوئی ڈش نہیں۔

یوں تو ہمارے ملک میں رائتہ پورا سال ہی استعمال ہوتا ہے لیکن گرمیوں میں اس کا استعمال بڑھ جاتا ہے۔ ہر کھانے میں اس کا استعمال کیجیے اور پھر دیکھیے ذائقے کے ساتھ ساتھ دیگر کتنے فوائد حاصل ہوتے ہیں۔

رائتہ ایک ہلکی غذا ہونے کی وجہ سے زود ہضم ہے۔ جسم کی گرمی کو مارتا ہے اور توانائی بخشتا ہے۔

اگر صرف رائتہ ہی دوپہر یا رات کے وقت پی لیا جائے تو پھر کسی اور ڈش کی ضرورت نہیں۔ ویسے بھی گرمیوں میں کھانا کم ہی کھایا جاتا ہے۔ اور یہ تو پکانے والوں یا والیوں سے پوچھیں کہ سخت گرم موسم میں ہانڈی چولہا کتنا مشکل کام ہے۔ تو ایسے موسم میں اگر باورچی خانے کی گرمی سے بچنا ہو تو رائتے کی رائج درجنوں ترکیبیں ہی کام آتی ہیں جو چولہا جلائے بغیر جھٹ پٹ بنائی جاسکتی ہیں۔

رائتے کو کئی طریقوں سے بنایا جا سکتا ہے۔ گویا رائتے کی کئی ورائٹیز ہیں تاکہ آپ روزانہ ایک ہی طرح کا رائتہ کھا کھا کر بور نہ ہوجائیں۔

حسبِ ضرورت دہی لیجیے۔ اس میں حسبِ ذائقہ نمک ملائیے۔ چاہیں تو ہری مرچ بھی چھوٹی چھوٹی کاٹ کر ڈالی جا سکتی ہیں۔ ہری مرچ کی جگہ ذرا سی پسی ہوئی کالی یا لال مرچ یا چاٹ مصالحہ بھی ڈالا جا سکتا ہے۔ ان سب کے ساتھ زیرہ ڈال کر دہی کو اچھی طرح پھینٹیں۔ جب سب کچھ اچھی طرح مل جائے تو سمجھیے رائتہ تیار ہے۔

یہ رائتہ بنانے کا سب سے آسان 'نسخہ' ہے۔ اسے آپ رائتے کی سادہ اور روایتی قسم کہہ سکتے ہیں۔ اگر اسے تھوڑا سی مزید بہتر کرنا ہو تو کٹی ہوئی پیاز ڈال کر اسے 'پیاز کے رائتے' میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔

ایک اور آسان طریقہ' کچومر رائتہ' سلاد ہے۔ اس میں اوپر بیان کی گئی چیزوں کے ساتھ ساتھ ٹماٹر اور کھیرے کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے بھی شامل کیے جاسکتے ہیں۔

تمام قسم کے رائتے کو دلکش بنانے کے لیے اس پر ہرے دھنیے یا پودینے کی پتیوں سے سجاوٹ کی جاتی ہے جب کہ بہت ہی تھوڑی مقدار میں سرخ مرچ پاؤڈر بھی اوپر سے چھڑکا جاسکتا ہے۔ اسے مزید بہتر بنانے کے لیےکچھ دیر کے لیے فریج میں رکھیے اور پھر پروسیں۔

رائتے کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ اسے بریانی سمیت چاول کی تمام ڈشز، تمام قسم کے سالن یہاں تک کہ دالوں اور سبزیوں سے بنی ڈشز کے ساتھ بھی سرو کیا جا سکتا ہے۔ اس سے وہ پکوان بھی بآسانی حلق سے اتر جاتے ہیں جنہیں دیکھ کر گھر کے کئی لوگ خصوصاً مردوں کے منہ بن جاتے ہیں۔

رائتے کی ایک اور معروف ورائٹی لوکی کا رائتہ ہے۔ لوکی کو ٹکڑوں میں کاٹ کر کچھ دیر تک پانی میں ابالیے، پھر اس میں حسبِ ذائقہ نمک ملائیں۔ لوکی کو پانی میں ابالتے وقت بھی نمک ڈالا جاسکتا ہے۔ بس خیال رکھیے کہ نمک ایک مرتبہ پھر ڈالے گا۔

اب لوکی کو اپنی پسند اور ضرورت کے مطابق کٹی ہوئی ہری مرچوں، زیرہ پاؤڈر اور کالے نمک کے ساتھ دہی میں ڈال کر اچھی طرح میش کرلیں۔ کچھ دیر ٹھنڈا ہونے دیں جس کے بعد یہ سرونگ کے لیے تیار ہے۔

منٹ رائتہ بنانے کے لیے چھ بڑے چمچے پودینے کی پتیاں، پانچ بڑے چمچے دہی، ڈیڑھ ٹیبل اسپون انار دانہ، ایک چمچہ لیموں کا رس، ایک چمچہ نمک اور ایک ہی چمچہ مرچ پاؤڈر درکار ہوگا۔ اب انار دانے سمیت تمام اشیا کو اچھی طرح ملائیں۔۔۔ لیجیے یہ بن گیا منٹ رائتہ۔

آج کے لیے اتنا ہی۔ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ میں آپ کے دماغ کا رائتہ۔۔۔ سوری، میرا مطلب ہے دہی بنا رہا ہوں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG